Al-Risala · December 1997

اتحاد یا بھیڑ

Al-Risala, December 1997

By Maulana Wahiduddin Khan

شائستہ اکرام اللہ اللہ(عمر۷۵ سال) مسٹر محمد علی جناح کی گہری عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ انھوں نے ان کے تحت کام کیا ہے۔ وہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۴ء تک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی ممبر رہی ہیں۔ ۱۹۶۴ سے ۱۹۶۷ تک وہ مراکو میں پاکستان کی سفیر تھیں، وغیرہ۔ ریڈرس ڈائجسٹ (مئی ۱۹۹۱) میں ان کا ایک مضمون مسٹر محمد علی جناح کے بارے میں چھپا اس مضمون میں انھوں نے مسٹر جناح سے متعلق مختلف یادداشتیں نقل کی ہیں۔ نے لکھا ہے کہ ابتدا ء ہندستان کے مسلمان مسلم لیگ کے ساتھ نہ تھے۔ مگر مسٹر جناح کی قیادت کا یہ کرشمہ تھا کہ ۱۹۴۶ء۔ ۱۹۴۵ء کا الیکشن ہوا تو ہندستانی ریاستوں میں ۸۵ فی صد مسلم سیٹوں پر مسلم لیگ کا قبضہ ہو گیا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ قائد (مسٹر جناح) یہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے ایک بھیڑ کو ایک قوم کی صورت دی ہے۔ آج پاکستان کے داخلی جھگڑوں کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ بھیڑ کی حالت کی طرف واپس چلے گئے ہیں :

لوگ اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ جلسہ گاہ میں لوگوں کے جمع ہونے کو اتحاد سمجھ لیتے ہیں۔ موجودہ قسم کے جلسے حقیقتاً بھیڑ کی وقتی یکجائی کے ہم معنی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ کا ایک متحد قوم بننا جلسہ جلوس سے بالکل علاحدہ چیز ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان مثبت سطح پر یکساں سوچ آجائے، ان کے اندر مستحکم کردار پیدا ہو جائے۔ وہ اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسروں کا ساتھ دینے پر راضی ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے کہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر بلند تر انسانی مقاصد کے لیے جینے لگیں۔ اتحاد وہ ہے جو روزانہ کی حقیقی زندگی میں دکھائی دے نہ کہ وقتی قسم کے جلسہ اور جلوس میں ۔

Printed page