فرق کو جانیے
Al-Risala, December 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن خیر کی باتیں سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ وہ جنت تک پہنچ جائے (صفحہ ۹)
دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حکمت کی بات مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے۔ پس وہ جہاں اسے پائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے الْكَلِمَةُ الحكمة ضالة المومن، فحيث وجدها فهو حق بها) جامع الاصول فی احادیث الرسول ۹/۸ یہاں حکمت کی بات سے مراد صرف وہ بات نہیں ہے جو قرآن اور حدیث میں ہو بلکہ ہر وہ صحیح بات ہے جو کسی جگہ پائی جائے۔ اس سے مراد در اصل دانش مندی (Wisdom) کی بات اور دانش مندی کی بات کسی بھی شخص کے ذریعہ مل سکتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک جاہل اور عام آدمی کے ذریعہ بھی۔ دانش مندی کی بات دراصل فطرت کی بات ہوتی ہے۔ اور اسلام چوں کہ دین فطرت ہے اس لیے دانش مندی کی ہر بات اسلام کی اپنی ہی بات ہے۔ اور مومن کو اسے خود اپنی چیز سمجھ کر لے لینا چاہیے۔
اس کی وضاحت کے لیے یہاں ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔ ایک عیسائی عالم نے خدا سے دعا کی تو اس نے اپنی دعا میں یہ الفاظ کہے۔ اے خدا مجھے وہ طاقت دے کہ میں جس چیز کو بدل سکتا ہوں اس کو بدلوں اور وہ تحمل دے کہ میں اس چیز کے ساتھ رہ سکوں جس کو میں بدل نہیں سکتا اور وہ دانش مندی کہ میں فرق کو جانوں :
Oh God give me the strength to change the things which I can, and the serenity to live with things I cannot change, and the wisdom to see the یہ بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی عیسائی یا غیر عیسائی کی بات نہیں ہے بلکہ وہ فطرت کی بات ہے۔ اور اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے دانش کی ہر بات خود اسلام کی بات ہے مومن کو چاہیے کہ دانش کی ہر بات کو خود اپنی بات سمجھ کر قبول کرلے۔