حکمت معاملہ
Al-Risala, December 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تعلیم یافتہ مسلمان ایک سرکاری محکمہ میں اچھی سروس میں ہیں۔ ان کے افسر اعلیٰ سے ان کا جھگڑا ہو گیا ۔ وہ گھر لوٹے تو ان کے دماغ میں سخت ٹینشن تھا ۔ ان کو ڈر تھا کہ مذکورہ افسران کی سروس بک خراب کر دے گا اور اس کے نتیجہ میں ان کا پروموشن رک جائے گا۔ ٹینشن کی وجہ سے ان کے سر میں اتنا سخت درد ہوا کہ وہ گھر آکر بستر پر لیٹ گئے اور اس کے بعد کوئی کام نہ کر سکے بعد تویی کام نہ نہ ملے۔
ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ آپ نے جو کیا وہ درست نہ تھا۔ ان کو ایک حدیث سنائی۔ ایک قبیلہ کا سردار مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جاؤ اس کا استقبال کرو۔ اس موقع پر آپ نے ایک اصولی بات یہ فرمائی کہ : انزلوا الناس منازلہم ۔ یعنی لوگوں کے ساتھ ان کے رتبہ کے مطابق معاملہ کرو حیاۃ الصحابہ (۲۰۹/۲ شریعت کے احکام سب کے سب فطرت پر مبنی ہیں۔ یہ خود فطرت کا تقاضا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا لحاظ کریں۔ کوئی شخص جب دوسرے شخص سے معاملہ کرے تو وہ اس طرح معاملہ کرے کہ دوسرا شخص اس کو اپنی تحقیر محسوس نہ کرے۔ ہر شخص یہ سمجھے کہ اس کو اس کے مقام کے مطابق مناسب عزت (due respect) دی جارہی ہے۔ جس سماج میں یہ روایات ہوں اس سماج میں باہمی محبت بڑھتی ہے اور سماجی انتشار کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ یہ فطرت کا ایک اصول ہے اور قدیم زمانہ سے مختلف شکلوں میں اس کو دہرایا جاتا رہا ہے۔ اسی کو ایک انگریزی مثل میں اس طرح کہا گیا ہے کہ افسر ہمیشہ حق پر ہوتا ہے : Boss is always right. یہ گویا معاملاتی حکمت یا معاملاتی شریعت ہے۔ اس کا لحاظ کرنا ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جس سماج میں اس کی رعایت نہ کی جائے وہ سماج کبھی اچھا سماج نہیں بن سکتا۔