Al-Risala · December 1997

مہاراشٹر کا سفر

Al-Risala, December 1997

By Maulana Wahiduddin Khan

اکتوبر ۱۹۹۴ء میں مہاراشٹر کا سفر ہوا۔ بھارتیہ ودیا بھون کی دعوت پر پہلے بمبئی میں ان کے پروگرام میں شرکت کی ۔ اس کے بعد وہاں سے پونہ گیا ۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۴ء کی شام کو دہلی سے روانگی ۶اکتوبر کی شام کو دوبارہ دہلی واپس آیا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ دہلی سے بمبئی کے لیے جہاز کا وقت ساڑھے پانچ بجے شام تھا۔ ائیر پورٹ پر انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ عملہ کے ایک باوردی آدمی نے نرمی کے ساتھ سوالیہ انداز میں کہا: حیدر آباد؟ میں ہے لادے ہیں، بجی یہ ایئرپورٹ پر ایک نیا تجربہ تھا۔ جب تک انڈین ایئر لائنز کی اجارہ داری تھی، اس کے عملہ کے لوگ خوش اخلاقی کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے ۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ان کی کمپنی کے جہاز کے سوا کسی اور جہاز کا انتخاب مسافر کے لیے نہیں ہے۔ اب جب کہ میدان میں بہت سی پرائیویٹ کمپنیاں آگئی ہیں۔ تو کسی ” خوش اخلاقی ہفتہ “ کے بغیر ایئر پورٹ پر خوش اخلاقی آگئی ہے۔

زندگی کا فطری نظام مسابقت پر قائم ہے۔ آزادی کے بعد سو شلزم نے اس فطری ماحول کو یہاں ختم کر رکھا تھا۔ اب ۶۵ ہم سال کھو کر ہمارے لیڈروں کو عقل آگئی ہے اور وہ قوم کی گاڑی کو صحیح رخ پر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر چہ ۴۵ سال میں بگاڑ اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ بظاہر اس صدی کے خاتمہ تک کسی حقیقی اصلاح کی امید نہیں۔

ایئر پورٹ پر بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے یا چلتے ہوئے نظر آئے۔ کوئی اچھی تندرستی کی کوئی خوش پوشی کا نمونہ تھا۔ کوئی دولت مندی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ کسی کے اردگرد اقتدار کے اسباب نظر آتے تھے۔ میں دل نگاری کے جذبات کے ساتھ لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ کے ساتھ میری زبان سے نکلا : لوگ نعمتوں سے سرشار ہیں مگر کوئی نہیں جس کے چہرہ پر منعم کے شکر کی جھلک دکھائی دیتی ہو۔

دہلی سے بمبئی کے لیے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۰۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ مقرروقت پر روانہ ہوا۔ راستہ میں انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سواگت (ستمبر ۱۹۹۴) دیکھا۔

میں مضامین کم اور تصویریں زیادہ تھیں۔ ایک مضمون ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے عنوان سے تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرمایہ اور مشین کے علاوہ کسی بھی آرگنائزیشن کی کامیابی اس کے افراد کار کی کوالٹی پر بھی منحصر ہے :

It is an accepted fact that, besides money materials and machines, the success of any organisation also depends upon the quality of its human resources. (p. 63)

مگر میں کہوں گا کہ یہ بھی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ "ہی" کا معاملہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بزنس ہو یا اور کوئی کام، ہر میدان میں کامیابی کے لیے اصل اہم عنصر لائق انسان ہے۔ لائق انسان کی اہمیت حقیقی ہے اور بقیہ چیزوں کی اہمیت اضافی۔

جہاز کے اندر مطالعہ کے لیے کئی اخبارات موجود تھے۔ دی آبزرور (۳۰ ستمبر) کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں تھی۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ ۱۸۳۹ء میں جب کہ برٹش کمپنی آف انڈیا کا دور تھا۔ ایک انگریز مسٹر بیرن (P. Barron) نے پہلی بار نینی تال کی جھیل کو دریافت کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ ایک یوروپین کا لونی کے لیے بہترین جگہ ہے۔ خوشی سے جھیل کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کا سفید فام جسم جب مقامی لوگوں نے پانی کے اندر سے نکلتے ہوئے دیکھا تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ وشنو بھگوان ہیں جو پانی کے اندر سے پرکٹ ہو گئے ہیں۔ مگر اس کے رپورٹر مسٹر کماریش چکرورتی کے الفاظ میں ، اترکھنڈ کے لوگوں کے لیے آج جس وشنو بھگوان کی ضرورت ہے وہ صنعتی سرمایہ کاری ہے :

The Vishnoo which the people of Uttarakhand require in the 1990s is large-scale industrial investment. گویا کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ وشنو دور قدیم کا دیوتا تھا۔ اب دور جدید میں ہم کو مشینی دیوتا کی ضرورت ہے شام کو آٹھ بجے سے کچھ پہلے جہاز بمبئی میں اترا گیا۔ باہر آیا تو ایر پورٹ پر ایک طرف بھارتیہ ودیا بھون کے نمائندے موجود تھے ۔ دوسری طرف بمبئی کے ساتھی بھی آئے ہوئے تھے۔ اب سوال یہ تھا کہ میں کس کے ہمراہ جاؤں اور کہاں قیام کروں۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو ترجیح یہی میرا عام اصول ہے۔ مثلاً ۱ ۲ اکتوبر کے لیے میرے پاس تین دعوت نامے آئے

ہوئے تھے ۔ ایک ، ایک،نیوانڈیا موومنٹ کی آل انڈیا کانفرنس کے لیے جو پلانی (راجستھان ) میں ہورہی دوسرا ، چنتک منڈل کا آل انڈیا سیمنار جو جواہر لَالَ نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں منعقد ہورہا تیسرا ، بھارتیہ ودیا بھون کا پروگرام سداچار بھارتی۔ یہ تینوں ایک ہی تاریخ میں تھے ۔ اول الذکر دو کو چھوڑ دیا اور بمبئی کے دعوت نامہ کو اختیار کر لیا۔ اور اس کا خاص سبب یہی تھا کہ اس میں بمبئی اور پونہ کے احباب سے ملاقات کی صورت پیدا ہورہی تھی ۔

ایر پورٹ سے روانہ ہو کر پہلے ہمارا قافلہ جناب اقبال احمد صاحب صاحب(باندرہ ایسٹ) کے مکان پر پہنچا۔ یہاں کچھ دیر عام مسائل پر گفتگو ہوئی۔

اس کے بعد جناب ہارون شیخ، جناب فاروق فیصل، جناب ایم، اے صدیقی، وغیرہ کے ساتھ روانہ ہوکر جسٹس ایم ایم قاضی کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ جہاں مجھ کو قیام کرنا تھا۔ جسٹس قاضی سے تقریباً ۱۲ بجے تک گفتگو ہوتی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ کل انھیں ایک اجتماع میں تقریر کرنا ہے یہ انڈو عرب سوسائٹی کے تحت حج ہاؤس میں ہورہا ہے۔ اس کا موضوع یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اثرات عرب پر اور سارے عالم پر :

Prophet Muhammad—His influence on the Arab society and on the جسٹس قاضی اپنی قانونی اور عدالتی مصروفیت کے باوجود اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کثرت سے کرتے انھوں نے ایک تبصرہ میں کہا : میں نے اکثر مسلم رائٹرس کو پڑھا ہے مگر آپ کے یہاں ریلیونٹ اور ار ریلیونٹ کا جو اکوریٹ سنس پایا جاتا ہے وہ کسی اور کے یہاں مجھ کو نہیں ملا۔ جسٹس ایم ایم قاضی ایک ماہر قانون ہیں۔ اس لیے وہ ریلیونٹ اور ار ریلیونٹ کا فرق بخوبی طور پر جانتے ہیں۔ عام مسلم اہل قلم کا حال تو یہ ہے کہ انھوں نے خطابت اور انشاء پردازی کی روایات میں پرورش پائی ہے۔ شعر و ادب کے ماحول میں ان کی فکری تشکیل ہوئی ہے، اس لیے وہ دونوں کا فرق جانتے بھی نہیں، کجا کہ اس فرق کو نبھاتے ہوئے وہ کوئی جاندار لٹریچر تیار کرسکیں۔ جسٹس ایم ایم قاضی مہاراشٹر ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کے چیرمین ہیں۔ ان کے موجودہ وائس چیرمین مسٹر رام مورتی ہیں۔ جو مہاراشٹر حکومت کے سابق چیف سکریٹری رہے ہیں۔ مسٹر رام مورتی

جولائی ۱۹۹۴ء میں جسٹس قاضی کے آفس میں آئے۔ ایک ہفتہ ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد وہ جسٹس قاضی سے اتنا متاثر ہوئے کہ انھوں نے ان کے بارہ میں کہا کہ میرا تعلیمی عمل اب شروع ہوا ہے : My process of learning has commenced now. قاضی صاحب کو اشعار کثرت سے یاد ہیں۔ ہر بات کے لیے فوری طور پر ایک موزوں شعر ان کے ذہن میں آجاتا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے جوش کا یہ شعر پڑھا :

دشمن کی سمت ایک ذرا مسکرا کے دیکھ اس حربہ لطیف کو بھی آزما کے دیکھ یہ سفر ایسے حالات میں ہوا جب کہ پلیگ کی وباء پھیلنے کی خبریں پورے ملک میں گونج رہی تھیں لیکن ہر جگہ میں نے دیکھا کہ لوگ صرف حکومت اور انتظامیہ کو برا کہہ رہے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (۳۰ ستمبر) میں بتایا گیا تھا کہ دہلی کا شہر ہر روز چھ ہزار ٹن گارج (کوڑا) پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح بمبئی میں ہر روز پانچ ہزار ٹن گارج پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ شہری انتظامیہ (civic agencies) اگرچہ اپنی آمدنی کا ۳۵ فی صد حصہ صرف صفائی پر خرچ کرتی ہیں، مگر عملاً صرف ۵۰ فی صد کوڑا اٹھایا جاتا ہے۔ باقی یوں ہی آبادیوں میں پڑا رہ جاتا ہے۔ کامرس منسٹر مسٹر پرتاب کرجی نے بتایا کہ پلیگ کی وجہ سے اکتوبر ۱۹۹۴ء کے مہینہ میں انڈیا کو ایکسپورٹ کی مدمیں جونقصان ہوا ، اس کی مقدار ۷۰ ملین ڈالر ہے۔

اندازہ کیا گیا ہے کہ بمبئی میں پانچ کروڑ چوہے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ،پلیگ چوہوں کے ذریعہ پھیلتا ہے۔ کیوں کہ اس کے جراثیم ہمیشہ چوہوں کے جسم میں پرورش پاتے ہیں۔ ایک کمپنی کے ذریعہ پچاس ٹن سائنو گیس (cyno-gas) درآمد کر رہی ہے تاکہ ان چوہوں کو مارا اخباری اطلاعات کے مطابق ، اس وقت بمبئی میں چوہے مارنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ مگر عوام کی غیر سرگرم شرکت کی بنا پر روزانہ صرف ایک ہزار چوہے مارے جارہے ہیں۔ برادران وطن کے عقیدہ کے مطابق ، چوہا گنیش دیوتا کی سواری ہے اور اس بنا پر وہ ایک قابل احترام جانور سمجھا جاتا ہے۔

ہندی روز نامہ آنند آنند(۴ اکتوبر) کے پہلے صفحہ کی خبروں میں سے ایک خبر کی سرخی یہ تھی : سورت میں پلیگ کی وجہ سے ہر روز نہ ۱۵۰ کروڑ روپیہ کا نقصان ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۴ء سے یہ پلیگ

اس کے بعد بازار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا۔ حالات کو معمول پر لانے میں مزید ایک مہینہ لگے گا۔ اس وقت تک نقصان کی مقدار سات ہزار کروڑ روپیہ تک پہنچ جائے گی۔ میں نے سوچا کہ سورت کا تاجر اگر صرف ایک دن کی رقم ( ۱۵۰ کروڑ روپیہ) شہر کی صفائی میں دیتا تو وہ سات ہزار کروڑ روپیہ کے نقصان سے بچ جاتا۔ مگر انسانوں میں بہت کم ایسے ہیں جو اس ہوشیاری کا ثبوت دے سکیں۔

بمبئی کے روزنامہ انقلاب (یکم اکتوبر) میں ایک خبر اس عنوان کے تحت تھی "جلوس دفع طاعون"۔ اس عنوان کے تحت بتایا گیا تھا کہ آج گیارہ بجے شب بھیونڈی میں جامع مسجد کو ثرگیٹ سے اذان اور دعا اور تسبیح اور تہلیل کے ورد کے ساتھ جلوس نکالا جائے گا۔ یہ جلوس بھیونڈی کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا حافظ جی بابا کی درگاہ پر ختم ہوگا۔ علماء کرام اس جلوس میں شریک رہیں گے۔ اسلام میں دفع طاعون کے لیے جلوس نہیں ہے بلکہ دعا ہے۔ جلوس کی سیاست کی یہ آخری حد ہے کہ دعا کی چیز کو بھی جلوس کی چیز بنا دیا جائے۔

انگریزی روز نامہ دی ایشین ایج (یکم اکتوبر) میں ایک روسی اکسپرٹ مسٹر اسٹیفن سستانوچ (Stephen Sestanovich) کا تجربہ چھپا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور روس جو ۱۹۱۷ء کے بعد سے ٹکراؤ کے راستہ پر چل رہے تھے، اس کو بے فائدہ پا کر اب مفاہمت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ اس کا عنوان تھا ـــــ امریکہ اور روس اس پر اتفاق کر رہے ہیں کہ ان کے درمیان اختلاف ہے :

Printed page