America and Russia agree to disagree
Al-Risala, December 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں جنگ اتنی بے فائدہ ہو چکی ہے کہ " سپر پاور" قو میں بھی آپس میں مصالحت کر رہی مگر اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس کوئی پاور نہیں۔ اس کے باوجود وہ ساری دنیا کے خلاف جنگ چھیڑ نے کانعرہ لگارہے ہیں۔
یکم اکتوبر کی شام کو جناب ہارون شیخ صاحب اپنے ایک دوست سے ملانے کے لیے لے گئے۔ ان کا نام بھی ہارون شیخ ہے۔ وہ امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک بڑا کاروبار کر رہے ہیں۔ مگر وہ بینک سے سودی قرض نہیں لیتے ۔ ان سے میں نے سوال
کیا کہ کیا کوئی بڑا کار و بار بینک سے قرض لیے بغیر کیا جا سکتا ہے۔
اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ شیئر فروختگی کی بنیاد پر اپنا کاروبار قائم کریں۔ لوگوں کے پاس روپیہ ہے اور وہ اس کو کاروبار میں لگانا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ سود کی بنیاد پر شرکت سے زیادہ مفید نفع کی بنیاد پر شرکت کرنا ہے۔ اگر آپ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دیں تو آپ بڑی سے بڑی رقم ان سے حاصل کر سکتے ہیں۔
ہارون صاحب کے مکان سے متصل اسی بلڈنگ میں جناب اقبال مسعود صاحب کا مکان تھا۔ یہاں آج "میڈیا واچ" کا ہفتہ وار اجتماع تھا۔ میں نے اس میں بھی شرکت کی۔ ہندوستان کے مسلم مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسائل بھی زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ بے مسئلے زندگی اس دنیا میں ممکن یں۔ آپ کو ہر ملک میں اور ہر سماج میں مسائل ہی کے ساتھ جینا ہے۔ نہ کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ آپ مسائل کے خلاف شور و غل کریں۔ اصل کام یہ ہے کہ مسائل کے معاملہ میں اپنی تدبیر کا تعین
اقبال مسعود صاحب آئی اے ایس سے ریٹائر ہونے کے بعد اب جرنلزم کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ۳۰ سالہ عوامی تجربہ کی روشنی میں کہا کہ ہندوؤں کو خوش کرنا دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ آسان ہے :
The easiest people to please in the world are Hindus. دوسری بات انھوں نے یہ کہی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک مستقل کلچرل فرق یہ ہے کہ مسلمان جب ایک رائے قائم کرلے تو اس کو بدلنا سخت مشکل ہے ، جب کہ ہندو زیادہ آسانی سے اپنی رائے بدل لیتا ہے :
A permanent cultural difference between Hindus and Muslims is that once a Muslim forms an opinion, it is difficult to change it, whereas a Hindu is more willing to change his opinion about a person. یہ بے حد اہم بات ہے۔ مگر اس کو صحیح طور پر سمجھنا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ ہندوؤں سے رقابت کا تعلق ختم کر دیا جائے اور اس کے بجائے ان کے ساتھ حقیقی معنوں میں برادرانہ تعلق قائم
بمبئی کے ماہنامہ البلاغ (اپریل ۱۹۹۵) میں مسٹر حسن کمال کا ایک مضمون دیکھا جس کا عنوان تھا: مسلم قیادت کا مسئلہ۔ اس کا کچھ حصہ یہ ہے :
"برسوں پہلے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا نے ایک بات چیت کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے حال زار پر تبصرہ کرتے وقت کہا تھا کہ ہر ہندوستانی مسلمان اپنی جگہ ایک بڑا لیڈر ہے ، بس باقی لوگ اس کی لیڈری تسلیم نہیں کرتے۔ ان مسلمانوں کی حالت مرتبان میں بند کیکڑوں کی اگر ایک کیکڑا کسی طرح جدوجہد کرکے مرتبان سے باہر نکلنے لگتا ہے تو بقیہ کیکڑے اس کو پکڑ کر نیچے گھسیٹ لیتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے بمبئی کے ایک اخبار کے دفتر میں اتفاقیہ طور پر ہماری ملاقات چند سربرآوردہ مسلمانوں سے ہوگئی۔ باتوں باتوں میں ہم نے یہ کہہ دیا کہ ہمارے خیال میں مسلمانوں کو کچھ عرصہ کے لیے سیاست میں پچھلی صف (بیک بنچ) اختیار کر لینی چاہیے۔ عالم یہ سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئے۔ انھوں نے ہم پر احساس کمتری اور احساس خوف پھیلانے کا الزام لگایا (صفحہ ۲۳)
یکم اکتوبر کی شام کو بھارتیہ ودیا بھون کے ہال میں اجتماع تھا۔ وسیع ہال پورا بھرا ہوا تھا۔ یہ اجتماع مہاتما گاندھی کے ۱۲۵ ویں جنم دن پر کیا گیا تھا، پہلے ایک ڈرامہ کیا گیا۔ اس میں ایک انگریز جج نے مہاتما گاندھی کے خلاف ایک مقدمہ کی سماعت کی۔ اس کے بعد اس نے ان کے لیے چھ سال کی قید کا حکم سنایا۔ مہاتما گاندھی نے اعلان کیا کہ میں اس فیصلہ کو قبول کرتا ہوں۔ اس کے بعد ہر طرف گاندھی جی کی جے، گاندھی جی کی جے کے نعرے بلند ہونے لگے۔ ۱۹۲۲ میں احمد آباد میں گاندھی جی کے خلاف برٹش عدالت میں حکومت سے بغاوت (sedition) کا یہ مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس کی سماعت ایک انگریز جج بروم فیلڈ (R.S. Broomfield) نے کی تھی۔ اس ڈرامہ میں اسی تاریخی واقعہ کو
برٹش جج اپنا فیصلہ سنا چکا تو مہاتما گاندھی نے کہا۔ ہم کو جیلوں میں اس طرح داخل ہونا چاہیے جس طرح کوئی دولہا اپنی دلہن کے کمرہ میں داخل ہوتا ہے :
برٹش مجسٹریٹ مہاتما گاندھی کو مجرم قرار دے کر انھیں جیل میں بند کرنے کا فیصلہ کر رہا تھا۔ اس کے برعکس، گاندھی کا نام ہیرو کی حیثیت سے اپنے صفحات میں درج کر رہی تھی۔ کانفرنس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں ۔ سی سپرانیہم، آر وینکٹارمن، این اے پالکھی والا، ڈاکٹر سوشیلا نائر، مہاراج موہن گاندھی، سوامی تمنیانند جی، مسائمن کاردی نال پینٹ، ایم وی کامتھ- میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مہاتما گاندھی کے مشن کے دو فیز تھے۔ پہلا فیز تھا پولیٹیکل فریڈم کا حصول ۔ یہ ۱۹۴۷ میں پورا ہوگیا۔ دوسرا فیز وہ تھا جس کو سوشل فریڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس کا پورا ہونا اس دوسرے فیز کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی عزم کی ضرورت ہے جو پہلے کام میں مہاتما گاندھی نے دکھایا تھا۔
میں نے تقریر میں ایک کتاب کا حوالہ دیا۔ یہ ایک برٹش جرنلسٹ ولیم شررکی کتاب ہے جس کا نام ہے - تھرڈ ریش کا عروج و زوال :
William Shirer, The Rise and Fall of the Third Reich مصنف نے ۱۹۴۷ سے پہلے کے زمانہ میں مہاتما گاندھی سے ملاقات کی تھی۔ نے ان کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میرے دوست، یاد رکھو کہ میں اپنی موت سے پہلے انڈیا کو آزاد دیکھ لوں گا :