I shall see India free before I die.
Al-Risala, December 1997
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے ایک عزم کیا تو وہ عزم تاریخ نے پورا کر دیا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم لوگ دوبارہ ایک نیا عزم کریں ۔ یہ اُس بات کا عزم ہے جس کی آج ہمارے ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ امن کا قیام ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص کو دوبارہ یہ کہنا چاہیے کہ میرے بھائی، یاد رکھو کہ میں اپنی موت سے پہلے انڈیا کو ایک پر امن ملک دیکھ لوں گا : I shall see India a land of peace before I die. ہم میں سے ہر شخص اگر اس کو اپنا مٹو بنا لے تو ضرور انڈیا ہماری زندگی ہی میں ایک ایسا ملک بن جائے گا جہاں ہر طرف امن اور ترقی کے مناظر دکھائی دینے لگیں۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں ہے بلکہ وہ ایک سخت ذمہ داری کی بات ہے ۔ انڈیا کو آزاد دیکھنے
کے لیے لاکھوں لوگوں کو قربانی کی حد تک جاکر محنت کرنی پڑی۔ اب اگر ہم اپنے ملک کو پر امن ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی دوبارہ ہمیں لمبی مدت تک محنت کرنی پڑے گی۔ سنجیدہ کوشش کے بغیر نہ پہلا مقصد حاصل ہوا اور نہ اس کے بغیر دوسرا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ کسی ملک میں پرامن سماج کب بنتا ہے ۔ یہ اس وقت بنتا ہے جبکہ سماج کے افراد ڈسپلن کے تحت زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں ۔ قانون کی پابندی کرنا، دوسروں کے ساتھ رعایت کا معاملہ کرنا، اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنا، دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے دوسروں کی نا پسندیدہ باتوں کو نظر انداز کرنا، یہی وہ چیزیں ہیں جن کے مجموعہ کا نام ڈسپلن ہے جس سماج کے افراد اس طرح ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارنے لگیں تو اس کے بعد اس کا جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسی کا نام پر امن سماج ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں یہ کرنا ہے کہ لوگوں کو ایجوکیٹ کریں۔ باشعور افراد ہی ڈسپلن کے ساتھ رہنے کی اہمیت کو جانتے ہیں۔ لوگوں کو باشعور بنانے کا یہ کام ہر سطح پر ہونا چاہیے۔ آپس کی ملاقاتوں میں، اسکول اور کالج میں، اخبار اور میڈیا میں، غرض ہر جگہ اور ہر سطح پر یہ مہم چلائی جائے اور لمبے عرصہ تک چلائی جاتی رہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے ملک میں پر امن سماج کو دیکھ سکیں۔ امن کی اہمیت کسی ایک اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ہر اعتبار سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے بغیر خود آزادی ہی بے معنی ہو جاتی ہے۔ امن کے بغیر ترقی کا کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا، امن نہیں تو ترقی بھی نہیں، امن نہیں تو ملک کی تعمیر بھی نہیں۔ بہترین منصوبہ بندی، بہترین تعلیمی ادارے، بہترین اقتصادی نظام، بہترین قانون اور دستور سب کچھ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک ملک میں امن نہ ہو۔ بے امنی کی حالت، تعمیر و ترقی کے ہر نقشہ کو بے معنی بنا دیتی ہے۔ سنگاپور سے لے کر جاپان تک جن ملکوں نے موجودہ زمانہ میں ترقی کی ہے وہ اس لیے کی ہے کہ انھوں نے اپنے ملک میں امن و سلامتی کا ماحول قائم کر لیا۔
ڈاکٹر سوشیلا نائر نے اپنی تقریر میں کہا کہ دیش ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں نئی جاگ پیدا ہوئی ہے۔ کہ اس کو استعمال کر کے نئے ہندوستان کی تعمیر کی جائے۔
بھارتیہ ودیا بھون کی طرف سے جلسہ میں بڑے سائز کا ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔ اس میں باکس کے اندر ایک عبارت وہ تھی جس کو اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔
اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ایک واقعہ (حضرت علی کے نام سے) شائع کیا گیا تھا۔ بیت المال کے چراغ کی روشنی میں کچھ سرکاری کام کر رہے تھے۔ اس درمیان میں ایک شخص ذاتی ملاقات کے لیے آیا۔ انھوں نے سرکاری چراغ کو بجھا کر اپنا ذاتی چراغ جلا لیا۔ مذکورہ پمفلٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ قابل تعریف واقعہ پر بدھا بھارت (Prabuddha Bharata) کے شمارہ اگست ۱۹۹۴ میں چھپا تھا۔ اس کو خاص طور پر سوامی رنگا نا تھنڈا نے حیدرآباد سے بھیجا تھا تاکہ اسے شائع کیا جائے۔ چنانچہ ان کی فرمائش پر اسے بھارتیہ ودیا بھون کے تعارف نامہ میں شامل کرکے اسے لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔
بھارتیہ ودیا بھون کا قیام ۱۹۳۸ میں مہاتما گاندھی کے مشورہ پر عمل میں آیا۔ اس کے فاؤنڈر مسٹر کے ایم منشی تھے۔ اس کا مقصد ملک میں اخلاقی کلچر کو رواج دینا تھا۔ جلسہ کے آخر میں تمام حاضرین سے ایک عہد لیا گیا۔ اس کا مضمون انگریزی اور ہندی میں پڑھ کر سنایا گیا۔ اگلے صفحہ پر اس عہد کا مضمون دیکھا جاسکتا ہے۔
ہارون شیخ صاحب بمبئی کے ایک تجارتی ادارہ میں ڈائرکٹر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم ایک انگریزی اسکول میں ہوئی۔ اس وقت وہ اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور نہ وہ اسلام کے بارہ میں کچھ سوچتے تھے۔ مگر اسکول میں کچھ غیر مسلم لڑکوں نے انھیں ٹانٹ کرنا" شروع کر دیا۔ کے نام سے سر ہوا بھی تھا جو اس قابل ہے کہ اسے عام کیا جائے تاکہ
[in commemoration of the historic occasion of the 125th Birth Anniversary of Mahatma Gandhi]
I whole-heartedly welcome the starting of SADACHAR BHARATI to promote Values and Purity in Public Life and Rural Regeneration in commemoration of the 125th Birth Anniversary of Mahatma Gandhi, Father of For my own well-being, for the well-being of India and for the well- being of the world I hereby enrol myself as a SADACHAR SEVAK/SEVIKA and solemnly pledge:
* to build up the SADACHAR BHARATI to promote Values and Purity in Public Life and to eliminate corruption now rampant in every department of human activity in our Motherland, in many and varied forms, threatening to destroy the very foundation of our polity; * to do my very best to enlist as many SADACHAR SEVAKS/SEVIKAS as possible, particularly, from among the youth, to build up SADACHAR BHARATI as a constructive, vigorous, effective and all-embracing mass movement to promote Values and Purity in Public Life and to end corruption in every sphere of activity; to revitalise the rural economy by promoting rural industries and rural self- employment schemes and to enrich the rural life through institutions like Gram Sabhas, Panchayats and Voluntary Organisations. It shall be my conscientious effort to transform our 47-year-old SWATANTRA BHARAT into SADACHAR BHARAT before Independent India steps on to her Golden Jubilee in 1997, three years I shall diligently and perseveringly do my patriotic and democratic duty to expeditiously achieve this goal, lest India of the dreams of Mahatma Gandhi and other stalwarts, architects and builders of Free India and the millions who suffered and sacrificed their lives to win SWARAJ should fade and disintegrate within our lifetime.
اسلام پر وہ طرح طرح کے لغو اعتراضات کرتے اور میں ان کا جواب نہیں دے پاتا۔ اس سے میرے اندر مطالعہ کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب خدا کے فضل سے میرا ذہن پوری طرح اسلامی ہے۔ اور خدا کے فضل سے اسلام کے بارہ میں ہر قسم کے سوال کا جواب دے بعد کو انھوں نے اردو بھی سیکھ لی۔
یہ تجربہ بتاتا ہے کہ کس طرح ہر عصر میں ایکیسر چھپا ہوتا ہے۔ ہر ناموافق صورت حال میں کچھ موافق حالہت موجود رہتے ہیں۔ انگریزی تعلیم کا ادارہ جس کو کچھ لوگ "قتل گاہ" بتا رہے تھے، وہ اسلام کا مجاہد تیار کرنے کا ادارہ بن گیا۔
۲ اکتوبر کی صبح کو جسٹس قاضی کے مکان پر جناب ایس زیڈ ایچ قاضی (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، تھانے) اور آرجے قادری ایڈوکیٹ آگئے۔ ان لوگوں سے دیرتک الرسالہ مشن اور مسلم مسائل پر گفتگو ہوئی، انھوں نے اپنے علاقہ میں آنے کی دعوت دی۔
یہاں سے روانہ ہو کر ہم لوگ مسٹر مدھو مہتا کے یہاں آگئے۔ ان سے دیر تک ملکی مسائل پر گفتگو پلیگ کی حالیہ وباء کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "مولانا صاحب، جو انسان نہیں کر سکتا تھا وہ خدا نے کر دیا۔ ایسا طمانچہ مارا ہے کہ سب کی ہوا نکال دی۔ " انھوں نے بتایا کہ آج کل بے نظمی کا یہ حال ہے کہ الا آباد کے ہائی کورٹ کے جج نے سپریم کورٹ کو یہ درخواست دی کہ مجھے پولیس سے خطرہ ہے، مجھ کو پولیس سے بچاؤ۔ یہ کیس جب سپریم کورٹ میں آیا تو سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ یہ خاتمہ کا آغاز ہے :
مسٹر مدھومہتا(بمبئی) نے بتایا کہ وہ سورت گئے۔ وہاں کُمک ٹائل انڈسٹری کے تحت، ہزار دکانیں ان لوگوں کا روزانہ کا ٹرن اُور کروڑوں بلکہ اربوں روپے تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ لوگ شہر یا محلہ کی صفائی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ مسٹر مہتا نے ان سے کہا کہ اگر تم لوگ اعشاریہ ایک فی صد بھی اس کام کے لیے نکالو تو تم نہ صرف اپنے محلہ کی بلکہ سارے شہر کی صفائی کر سکتے ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ سورت میں بھیانک پلیگ کا پھوٹ پڑنا ایک چيتاونی ہے۔ اب ہر جگہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ کو آپریٹو سوسائٹیاں بنائیں اور کئی ذمہ داریاں جس کو وہ اب تک سرکار پر ڈالتے
ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ بودہ حالات میں ہیں ۔
ہفت روزہ بلٹز کے چیف ایڈیٹر مسٹر سدھیندر کلکرنی ملاقات کے لیے آئے تو انھوں نے اپنے اخبار کا شمارہ ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء دیا۔ اس شمارہ کا ایڈیٹوریل خلافت (۱۹۱۹ء، ۱۹۹۴ء) پر تھا۔ اس کے ایڈیٹوریل میں مولانا محمد علی کے اس مشہور جملہ پر تنقید کی تھی کہ میرے مذہب کے نقطۂ نظر سے ایک برا مسلمان بھی گاندھی سے بہتر ہے :
میں نے کہا کہ یہ اسلام کی بات نہیں ہے۔ یہ محمد علی کی اپنی بات ہے۔ اس قول کی بنیاد پر آپ اسلام کے بارہ میں کوئی رائے قائم نہ کریں۔ اس مضمون میں مسلمانوں کی انتہا پسندانہ تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں میں کب مہاتما پیدا ہوگا جو جنونی مسلمانوں سے لڑے اور ساری دنیا کے مفاد کے لیے اسلام کی سچی روح کو زندہ کر لے :
مسرکلکرنی سے دوسری ملاقات ہوٹل میں ہوئی ۔ ان سے مذہب اور عقیدہ کے سوال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انھوں نے تعدد عقیدہ (multiple faith) کے نظریہ کی حمایت کی۔ میں نے کہا کہ عقیدہ کا تعلق سچائی سے ہے۔ اور سچائی (ٹروتھ) کو دی ٹروتھ ہونا چاہیے ۔ اس کے بغیر اس کے ساتھ وہ گہرا تعلق نہیں ہو سکتا جو مطلوب ہے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ کہ اسلام کروڑوں آدمیوں کو ساری دنیا میں متحرک کر سکتا ہے، یہ واقعہ مجھ کو یہ ماننے کی طرف لے جاتا ہے کہ اسلام میں کوئی خاص اندرونی خوبی موجود
باندرہ کی سڑک سے، ہم لوگ گزر رہے تھے کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ گاڑی روک کر باندرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوئے ۔ وہاں میں پانی کے پاس وضو کے لیے کھڑا ہوا تھا کہ ایک صاحب نے کہا "السلام علیکم، میرے لیے دعا کیجیے"، میں نے سمجھا کہ مولوی ہونے کے اعتبار سے وہ مجھ سے ایسا کہہ مگر اس کے بعد ان کا اگلا جملہ یہ تھا کہ "میں الرسالہ کا قاری ہوں ۔ کلثوم کتاب گھر سے ہرماہ الرسالہ خرید کر پڑھتا ہوں۔ میں نے الرسالہ سے بہت کچھ سیکھا ہے ! " الرسالہ خدا کے فضل سے اتنا عام ہو گیا ہے کہ دہلی سے لے کر مالٹا اور باربیڈوزتک جہاں بھی میں گیا، ہر جگہ ایسے لوگ مل گئے جو الرسالہ یا انگریزی اور عربی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور پیشگی طور پر ہمارے مشن سے واقف تھے۔ لکی ہوٹل میں ایک میٹنگ ہوئی۔ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ فقہی اختلاف کا معاملہ ہماری سمجھ میں جب دین ایک ہے تو اس میں اتنے اختلافات کیوں۔ یہاں میں نے آدھ گھنٹہ کی ایک گفتگو میں اس مسئلہ کی وضاحت کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اختلاف بعض اوقات تنوع کے معنی میں آداب عبادت میں اختلاف بھی تنوع کے معنی میں ہے۔ دورِ نبوت، دورِ صحابہ اور دورِ تابعین میں ان کو اسی معنی میں لیا جاتا تھا۔ اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ یہ کرلو تب بھی ٹھیک ہے، وہ کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر تبع تابعین کے زمانہ میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے خود ساختہ معیار کے تحت شریعت میں "وحدت" لانے کی کوشش کی۔ انھوں نے چاہا کہ ایک کو قابلِ اخذ اور دوسرے کو قابلِ ترک، یا غیر افضل ثابت کریں۔ تنوع کو وحدت بنانے کی اس غیر فطری کوشش نے شریعت میں غیر ضروری اختلافات پیدا کر دیے۔
جناب نسیم علی خان صاحب کو عملی کام کرنے کا کافی تجربہ ہے۔ انھوں نے اپنے تجربہ کی روشنی میں ملی اصلاح کے سلسلہ میں کچھ باتیں کہیں۔ انھوں نے کہا کہ دفاع اسی وقت مفید ہے جب کہ وہ ہمارے نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک اپنے کو سردار سمجھ لیتا ہے۔ یہ انتہائی تباہ کن ہے۔ ضرورت ہے کہ ہر محلہ میں ایک سینئر آدمی امیر ہو۔ اس امیر کے تحت ایک مشاورتی کمیٹی ہو، محلہ کے
بزرگ افراد اس کے ممبر ہوں۔ امیر کی اجازت کے بغیر کوئی نوجوان کبھی خود سے کوئی کارروائی نہ کرے۔ میرا تجربہ ہے کہ ۹۵ فی صد مواقع پر صرف بے وقوفی سے بات بگڑ جاتی ہے۔ امیر یہ بیوقوفی نہیں ہونے دے گا۔ انھوں نے کہا کہ اسی کے ساتھ ہر محلہ میں لائبریری ہو جہاں اچھی اور تعمیری کتابیں ہوں۔ اگر قانونی طور پر رجسٹرڈ ہو تو اس کے لیے گورنمنٹ رقم دیتی ہے۔ لڑکیوں کے لیے مسجدوں میں ابتدائی تعلیم کا انتظام کیا جائے ۔ فجر سے ظہر تک اور پھر ظہر سے عصر تک مسجد خالی رہتی ہے۔ ان اوقات میں مسجد کو مدرسہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح مسجد کا ڈبل استعمال ہو گا۔ وہ اخلاق اور علم دونوں کی تربیت کا مرکز بن جائے گی۔ اسی کے ساتھ جو لڑکے بے کار ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں ان کو ایک جگہ لاکر انھیں چھوٹے چھوٹے کام سکھائے جائیں تاکہ وہ روزگار پر لگ سکیں۔ ۳ اکتوبر کی صبح کو بمبئی سے پونہ جانا تھا۔ ہوٹل سے جناب فاروق فیصل کے ساتھ روانگی ہوئی۔ انھوں نے دوسیٹ ریزرو کروائی تھی۔ مگر میں نے ان کا ٹکٹ واپس کرا دیا اور اکیلے پونہ گیا میں نے کہا کہ صرف پہنچانے کے لیے کسی کو میرے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں۔
ہم لوگ داد ر ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ پورا اسٹیشن ایک وسیع کوڑا خانہ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ پلیٹ فارم پر انسانوں کا اتنا ہجوم تھا کہ راستہ چلنا مشکل تھا۔ ہر طرف شور اور گندگی کا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ہندوستان میں کچھ لوگ تو سب کچھ حاصل کیے ہوئے ہیں مگر بیشتر لوگ ابھی تک بھیڑ بکری کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس تباہ کن صورت حال کا سبب کرپشن کے سوا اور کچھ نہیں۔ دکن ایکسپریس میں سوار ہو کر جب میں پونہ کی طرف روانہ ہوا تو ریلوے لائن کے دونوں طرف جھگی جھونپڑیوں کی قطاریں اس طرح نظر آتی تھیں جیسے کہ یہ بھی ریلوے لائن کا کوئی حصہ ہوں۔ مجھے باہر کے ملکوں میں کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔
سفر قدیم ترین زمانہ سے انسان کی پر شوق تمنا رہا ہے۔ کیوں کہ سفر میں نئے نئے تجربات حاصل ایک قدیم ناول نگار اپنی کہانی کے ایک کردار کی زبان سے کہتا ہے کہ مجھ کو دنیا کے آخری سرے تک لے جاؤ :
Take me away to the end of the world. (10/1085)
سفر عبرت اور نصیحت کا اہم ذریعہ ہے۔ اسی لیے اسلام میں بھی سفر کی خصوصی تعلیم دی گئی ہے۔
میں فرمایا : قل سیروا فی الارض (الانعام (۱۱) تاہم قدیم زمانہ میں کوئی شخص آخری حد تک سفر نہیں کر سکتا تھا۔ یہ صرف بیسویں صدی میں مشینی سواریوں کی ایجاد کے بعد ہی ممکن ہوا ہے۔ کو خدا کے فضل سے بار بار طویل سفر کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ ان سفروں کے دوران مجھ کو عبرت و نصیحت کا جو سامان ملا وہ صرف کتابی مطالعہ کے ذریعہ ممکن نہ تھا۔
پونہ اسٹیشن پر پہنچا تو جناب عبد الصمد شیخ اور دوسرے ساتھی موجود تھے۔ ان کے ہمراہ روانہ ہو کر نیو ایرا کالونی پہنچا۔ یہاں میرا قیام حاجی یونس صاحب کے مکان پر تھا۔ ہوٹل میٹرو پولس میں ۲ اکتوبر کو خطاب تھا۔ تعلیم یافتہ افراد جمع ہوئے۔ میں نے سیرت رسول کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی کہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک بات یہ عرض کی گئی کہ اسلام میں اصل مطلوب چیز امن ہے۔ جنگ ہر حال میں ایک ناپسندیدہ چیز ہے، الا یہ کہ مجبورانہ طور پر کبھی دفاع کے لیے لڑنا پڑے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا مت کرو، اور اللہ سے عافیت مانگو (لا تتمنوا لقاء العدو و سلوا اللہ العافية)
ایک ملاقات میں محمد اسحاق عثمان خان (پنويل) نے اپنی سادہ زبان میں کہا: اگر ہم ہندوستان میں سچا مسلمان بن کر رہیں اور کاروبار کریں تو ہم کو کوئی بھی تکلیف یا دقت نہیں ہے۔ جناب نسیم علی خان صاحب (۳۵ سال) نے کہا کہ اصل مسئلہ فرقہ پرست ہندو نہیں ہے بلکہ پولیس ہے جس کے پاس ہتھیار ہے اور اختیار بھی۔ یہ دونوں چیزیں ہمارے پاس نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے ان سے لڑنا خود کشی ہے۔ ہم کو پولیس سے نہیں ٹکرانا ہے، حتی کہ اگر وہ نقصان کریں تب بھی ہم کو برداشت کر لینا ہے۔ ابتداء تھوڑانقصان ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس ابتدائی نقصان کو برداشت کر لیا جائے تو ہم زیادہ بڑے نقصان سے بچ جائیں گے۔
۳ اکتوبر کو مغرب کی نماز پونہ کی مسجد کاغذی پورہ میں پڑھی۔ وہ پہلے ایک چھوٹی سی بوسیدہ آج وہاں بہت بڑی دو منزلہ عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ وہ ایک بہت بڑے ہال کی صورت میں بنائی گئی ہے۔ آپ ملک کی جس مسجد یا مدرسہ میں جائیے، اس میں اضافہ اور ترقی دکھائی یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ خدا کا دین ترقی کی طرف مارچ کر رہا ہے۔ مگر کچھ لوگ
بدستور دین کی مظلومیت کا اعلان کرنے میں مصروف ہیں۔ میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا کہ صحیح اسلامی مزاج یہ ہے کہ واقعات کے تاریک پہلو کو نظر انداز کیا جائے اور اس کے روشن پہلو کو دیکھا اس سے ایک طرف شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ دوسری طرف اس سے مایوسی کے بجائے حوصلہ کی غذا ملے گی۔
اس کے بعد ہم لوگ جناب عطار صاحب کے دفتر (الفا انجینئرنگ ورکس) میں گئے۔ مختصر میٹنگ کا انتظام تھا۔ میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں بتایا کہ زبان کا ایک صحیح استعمال ہے اور دوسرا اس کا غلط استعمال۔ صحیح استعمال پر آدمی انعام کا مستحق بنتا ہے اور غلط استعمال پر عذاب کا۔ مثلاً کسی کے خلاف آپ کو بولنا ہے تو الزام کی بولی بولنا زبان کا غلط استعمال ہے اور دلائل کی بنیاد پر منصفانہ کلام کرنا زبان کا صحیح استعمال۔
آج عشاء کی نماز میں نے پونہ کی کہ مسجد میں پڑھی۔ یہاں نماز کے بعد خطاب ہوا۔ خطاب کا موضوع احادیث کی روشنی میں بتایا کہ گمان کی بنیاد پر رائے قائم کرنا سخت گناہ ہے۔ اس کو سب سے بڑا جھوٹ کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی ظاہری بات کو دیکھ کر ایسی بے بنیاد رائے قائم کر لیتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس طرح گمان نتیجہ جھوٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ آج رات کو جناب حاجی یونس صاحب کی قیام گاہ (نیو ایرا کالونی) میں ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے اس مسئلہ کو بیان کیا کہ کمزور لوگ بھی طاقتور پر غالب آتے ہیں۔ اور یہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے تحت پیش آتا ہے۔ اس اجتماع میں کالونی کے تقریباً دس عرب طلبہ بھی شامل تھے۔ یہ لوگ پونہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ ۴ اکتوبر کو فجر کی نماز نیو ایرا کالونی کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد مختصر خطاب ہوا۔ اس میں نماز کی حقیقت کے بارے میں کچھ حدیثیں پیش کی گئیں۔
۴ اکتوبر کو چہار اثر ہ کا سمو پولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی (MCES) میں پروگرام تھا۔ ۲۲ ایکڑ کے رقبہ میں پھیلی ہوئی اس دنیا میں مختلف ادارے ہیں جس میں تقریباً سات ہزار لڑکے اور لڑکیاں زیرِ تعلیم ہیں۔ اس کے بعد یہاں کے اسمبلی ہال میں خطاب ہوا۔ ہال پورا بھرا ہوا تھا۔ اس میں سب تعلیم یافتہ افراد شریک اس موقع پر میں نے علم کی اہمیت پر خطاب کیا۔ تقریر کے بعد کچھ تحریری سوالات آئے جن کا جواب دیا گیا۔
ایم سی ای سوسائٹی میں یونانی طب کا بھی ایک شعبہ ہے۔ اس کے ایک کمرہ میں شیشہ کے کیس کے اندر ہر قسم کے مفردات رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کالے رنگ کی وہ لکڑی تھی جس کو عود صليب کہتے ہیں۔ یہ یونانی طب میں مرگی کی خاص دوا ہے۔ اس کے انچارج حکیم صاحب نے بتایا کہ اس کو عود صليب اس لیے کہتے ہیں کہ اس کو جب توڑا جائے تو اس کے اندر صليب کی مانند قطع نشان ملتا لکڑی کو یہ نام کس نے دیا مسلم اطبار نے ۔ دور عروج میں کسی لکڑی کو عود صليب کہنے میں مسلمان کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ آج مسلم دانشوروں کی کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ لکڑی کا نام کسی نہ کسی طرح عود ہلال یا عود اسلام رکھ سکیں۔ دور عروج کی علامت حقیقت پسندی ہے اور دور زوال کی علامت جذبات پسندی ۔
یہاں کی لائبریری میں ابن سینا کی مشہور کتاب القانون دیکھی ۔ اس کے مقالہ ۱۳ میں "گردہ کی چربی کے نکلنے کی علامت پر بحث ہے۔ اس میں ابن سینا اپنے نزدیک صحیح نقطہ نظر کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اصل بات وہ ہے جو میں نے لکھی نہ کہ وہ جس کو موجودہ زمانہ کے جاہل طبیب سمجھ رہے ہیں (كما يعتقده الجَهَلَة مِن اطباء عصرنا هذا) صفحه ۱۴۸ اس کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ابن سینا جیسے ہزاروں دماغ ہیں جنھوں نے ماضی میں اس قسم کے مدعیانہ الفاظ بولنے کی جرات کی ۔ مگر بعد کے زمانہ کی تحقیقات نے خود انھیں کو غلط ثابت کر دیا۔ قدیم کتابوں میں یہ صرف قرآن ہے جو استثنائی طور پر اس کے برعکس ایک مثال ثابت ہوا ہے۔ ۴اکتوبر کومغرب کی نماز پرا ودا کی مسجد میں پڑھی ۔ یہاں مولانا سید نور صاحب امام اور خطیب ہیں وہ ابھی نوجوان ہیں، مگر نہایت سنجیدہ اور ذہین آدمی ہیں۔ عربی اور انگریزی دونوں زبان پر قدرت تقریر کا بھی اچھا ملکہ ہے ۔ صاحب مطالعہ ہونے کی وجہ سے زمانہ کے احوال سے بھی پوری طرح با خبر ہیں۔
نماز کے بعد مسجد میں خطاب ہوا۔ میں نے اپنی تقریر میں نماز کو موضوع بنایا۔ میں نے بتلایا کہ نماز محض رسمی پرستش نہیں ہے بلکہ وہ ایک انقلابی عمل ہے ۔ نماز آدمی کو اعلی اخلاقی انسان بناتی ہے۔ مسلمانوں میں اگر نماز والے اوصاف آجائیں تو وہی ان کی مکمل فلاح کے لیے کافی ہو۔ عشاء کی نماز کے بعد جناب انعام دار صاحب کے مکان پر نشست ہوئی ۔ یہاں شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ
افراد سو سے زیادہ تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ ان کے سامنے تفصیلی خطاب ہوا۔
میں نے کہا کہ ہندوستان میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہندو اور مسلم کے درمیان غلط فہمی ہے۔ غلط فہمی کو ہمیں ختم کرنا ہے۔ اس کو ختم کیے بغیر کوئی بھی مثبت کام نہیں کیا جا سکتا۔ ۵ اکتوبر کی صبح کو پونہ کالج دیکھا۔ پہلی بار میں نے اس کو ۱۹۷۲ میں دیکھا تھا۔ اس مدت میں یہاں کافی ترقی نظر آئی۔ مجموعی طور پر پونہ میں قابل لحاظ تعلیمی ترقی ہوئی ہے۔ جب کہ مثال کے طور پر دہلی میں مسلمانوں کے اندر ایسی ترقی دکھائی نہیں دیتی، اس کی وجہ تاریخی ہے۔ پونہ میں بہت پہلے سے تعلیم کا ہندو، عیسائی، پارسی فرقے یہاں سو سال سے پہلے سے تعلیم کا کام کر رہے تھے۔ اس کا فائدہ مسلمانوں کو بھی ملا۔ جب کہ دہلی زیادہ تر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ یہاں طلبہ اور اساتذہ کے درمیان خطاب ہوا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو علم اشیاء دے کر پیدا کیا۔ مگر یہ علم اشیاء بطور امکان انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے۔ اسی لیے اسلام میں علم کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ جناب انعام دار صاحب نے ایک مجلس میں ہمارے مشن کے بارے میں بولتے ہوئے کہا کہ "مولانا کا مشن کیا ہے، لوگوں میں کانفیڈنس پیدا کرنا۔ کانفیڈنس سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ میں کانفیڈنس آجائے تو اس کے بعد ان کے لیے ہر کام آسان ہو جائے گا۔ کانفیڈنس نہ ہو تو آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ خطاب کے پروگرام کے بعد پرنسپل صاحب کے کمرہ میں نشست ہوئی۔ یہاں ادارہ کے ذمہ داران جمع ہو گئے۔ ان سے سوال و جواب کی صورت میں دیر تک گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرے نزدیک مسلمانوں کے لیے سنگل پوائنٹ فارمولا صرف تعلیم ہے۔ مسلمانوں کو اپنی طاقت صرف تعلیم پر لگا دینا چاہیے۔ ان کا نشانہ یہ ہونا چاہیے کہ ان کے اندر صدفی صد لوگ تعلیم یافتہ تعلیم کے مقابلہ میں ہر چیز کی حیثیت سکینڈری ہے۔ موجودہ تمام مسائل کا واحد سبب تعلیم میں ان کا پچھڑا پن ہے۔
۵ اکتوبر کو ساڑھے گیارہ بجے گولڈن جوبلی ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں "نشہ بندی کا پروگرام "منعقد کیا اس میں شرکت کی ۔ عمارت کی بیسمنٹ میں نشہ کے نقصانات تصویر کی صورت میں دکھائے
ایک بڑی میز پر نشہ کی مختلف قسمیں بطور نمونہ رکھی ہوئی تھیں۔ اس میں سے ایک سفید رنگ کا مادہ تھا۔ اس کے متعلق بتایا گیا کہ یہ میٹھا ہوتا ہے۔ لوگ اس کو ”پر شاد“ کے طور پر کھلا کر مسافروں کو لوٹ
پونہ کارپوریشن کے میئر علی بھائی سومجی بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ وہ پونہ کے پہلے مسلمان میئر ہیں اور خواجہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میئر نے مرھٹی زبان میں تقریر کی۔ آخر میں انھوں نے کہا : جے ہند، جے مہاراشٹر۔
میں نے سوچا کہ نشہ فری زندگی کامیابی کا راز ہے۔ مگر شراب اور بھنگ اور افیون جیسی چیزوں کے علاوہ بھی نشہ پیدا کرنے والی چیزیں ہیں۔ مثلاً دولت، اقتدار، عقل، بھیڑ، سرکارسی وغیرہ ہیں۔ آدمی کو نارمل حالت میں باقی نہیں رکھتا۔ اور تمام ترقیاں نارمل حالت ہی میں ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں وہی آدمی پائیدار کامیابی حاصل کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کے نشہ سے دور رکھے۔ ۵ اکتوبر کی شام کو عشاء کی نماز نیوائر اکالونی کے بی سیکٹر کی مسجد میں پڑھی۔ اس کے بعد عبد الغفار عبدالرحمن (ساگر کنسٹرکشن) کی رہائش گاہ پر اجتماع ہوا۔ میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں ایک دینی تقریر کی۔ حاجی یونس صاحب تاجر ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ بزنس میں ترقی کا راز کیا ہے۔ نے کہا کہ ـــــــــــ ایک دوسرے کی عزت کر کے چلنا، لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہنا، خدا کا خوف دل میں رکھ کر چلنا۔ یہ سمجھنا کہ جب میں خدا کی نظر میں ہوں تو پھر فکرکیا۔ وہ سب کو دیتا ہے تو مجھ کو کیوں نہیں دے گا۔
حاجی یونس صاحب کی تین لڑکیاں اپنے سسرال میں خوشی کے ساتھ رہ رہی ہیں میں نے حاجی صاحب کی اہلیہ سے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”میں ہمیشہ اپنی لڑکیوں سے ایسا بولتی کہ دیکھو، ہمیشہ نرمی سے رہنا، کسی کا جواب نہیں دینا، اونچی بات نہیں کرنا، اس لیے عزت کرتے ہیں وہ لوگ “۔
۵ اکتوبر کو نماز ظہر کے بعد فیاض احمد صاحب کے مکان پر ایک میٹنگ تھی۔ عبد القادر میمن صاحب نے بتایا کہ ۲۵ سال پہلے پونہ میں مسلمانوں میں غلط دھندے بہت تھے ۔ شراب، جوا وغیرہ ۔ یہ بہت کم ہو گیا ہے۔ اس تبدیلی میں دوسرے اسباب کے علاوہ تبلیغی جماعت کی کوششوں
کے بھی خاص دخل ہے۔
۵ اکتوبر کو نماز سے کچھ پہلے جب میں نیو ایرا۔ بی (New Era-B) کی مسجد میں پہنچا تو مسجد سے ایک سو قدم کے فاصلے پر کھلے میدان میں نوراتری کا جلسہ ہو رہا تھا۔ آج اس کا پہلا دن تھا ۔ اور عورتیں جمع ہو کر ناچ اور گانے میں مشغول تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں لاؤڈ اسپیکر لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کے گانے اور باجے کی آواز دور تک پھیل رہی تھی۔ اس کا شور میرے کانوں سے ٹکرایا تو فوری طور پر میرے اندر سخت رد عمل پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ شور وغل کے اس ماحول میں ہمارا پروگرام کیسے چل سکے گا۔
عین اس وقت مجھے کسی کا ایک قول یاد آیا جس نے میرے ذہن کو ٹھنڈا کر دیا۔ وہ قول اس طرح ہے کہ پختگی یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ ایڈجسٹمنٹ کا تعلق قانون فطرت سے ہے نہ کہ انسان سے۔
عشاء کی نماز کے بعد اجتماع شروع ہوا۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک تعداد جمع تھی۔ نے تقریر شروع کی تو ابتداً محسوس ہوا کہ سو قدم پر ہونے والا ہندوؤں کا پروگرام مسلسل پرشور مداخلت کر رہا ہے۔ مگر جب میں نے اس پر صبر کر لیا تو میرا ذہن منفی رخ سے ہٹ کر مثبت رخ پر سوچنے لگا۔ یہاں تک کہ اس شور و غل نے مجھے اپنی تقریر کے لیے بہترین موضوع دے دیا۔
میں نے کہا کہ عربی کا ایک مثل ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں (تعرف الا شیاء باضدادھا)میں میں نے کہا کہ اس وقت صرف سو قدم کے فاصلہ پر یہاں لاؤڈ اسپیکر کا شور ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنا اجتماع کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اس شور نے نہ ہمارا جلسہ منتشر کیا اور نہ ہماری جان و مال کو کوئی نقصان پہنچایا۔
لیکن اب سے پہلے ۱۴ اپریل ، ۱۹۸۷ کومیرٹھ میں ٹھیک اسی طرح کا واقعہ پر زبر دست فساد وہاں مسلمانوں کا جلسہ بھی منتشر ہو گیا اور ان کے جان و مال کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ ہم اس شور کو نظر انداز کر کے اپنا جلسہ کر رہے ہیں میں جبکہ میرٹھ کے مسلمان لاؤڈ اسپیکر کے شور کو جو کہ ایک مندر سے آ رہا تھا نظر انداز نہ کر سکے۔ انھوں نے وہاں پہنچ کر لاؤڈ اسپیکر کو بند کروانے کی کوشش کی اور جب وہ لوگ لاؤڈ اسپیکر بند کرنے پر راضی نہیں ہوئے تو اس کو توڑ کر پھینک
اس کے بعد وہاں زبردست فساد ہوا اور مسلمانوں کو ناقابل بیان جانی اور مالی نقصان برداشت اس سلسلہ میں ضروری تفصیلات عرض کرنے کے بعد میں نے کہا کہ اس دنیا میں صبر و اعراض سے کامیابی ملتی ہے ۔ اور بے صبری اور مستقل مزاجی صرف تباہی تک لے جانے والی ہے ۔ پونہ اور میرٹھ کا تقابل اس کو سمجھنے کے لیے بالکل کافی ہے ۔
میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات سازش کے تحت مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ سازش کرنے والے سازش نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ بذات خود سازش میں فساد کرنے کی طاقت نہیں۔ سازش کو فساد تک پہنچنے کے لیے ایک اور چیز درکار ہے۔ اگر یہ مددگار چیز اسے فراہم نہ کی جائے تو محض سازش کی بنا پر کبھی خونی فساد نہیں ہو سکتا۔
یہ دوسری چیز ہے سازش کرنے والوں کے ایگو کو بھڑکانا۔ سازش کرنے والے اپنی ایگو کو خود سے بھڑ کا نہیں سکتے، جس طرح پٹرول خود سے اپنے کو آگ نہیں لگا سکتا۔ سازشیوں کی ایگو کو بھڑکانے کا کام دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ اگر ماچس کا کام نہ کریں تو فساد کاپٹرول بھڑکنے والا بھی نہیں۔
میں نے کہا کہ آپ میں سے کسی کو اگر اس میں شک ہو تو ابھی وہ اس کا تجربہ کر سکتا ہے۔ جلسہ سے دو آدمی اٹھ کر جائیں اور شیوراتری والوں سے ان کا لاؤڈ اسپیکر بند کرنے کے لیے کہیں اور جب وہ بند نہ کریں تو ان کا لاؤڈ اسپیکر توڑ کر پھینک دیں اور اس کے بعد دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جو ۱۹۸۷ میں ٹھیک اسی سبب سے میرٹھ میں پیش آیا۔
میں نے کہا کہ میں نے یہ نظریہ قرآن سے اخذ کیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی (آل عمران (۱۲۰) اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ صبر و تقویٰ سازش کا توڑ ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر کوئی تمہارے خلاف سازش کر رہا ہو تو تم اس کے پیچھے نہ دوڑو بلکہ خود اپنے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کر لو۔ اس کے بعد یقینی طور پر تم ان کے شر سے محفوظ رہو گے۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اجتماعی جرم اکثر دو طرفہ غلطی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے جرم میں اس کے دونوں فریق برابر کے شریک قرار پاتے ہیں۔ یہ جرم وہ ہے جس کو قانون کی اصطلاح میں مشترک غفلت (contributory negligence) کا نتیجہ کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک آدمی سڑک پر گاڑی چلا رہا ہے۔ اسی وقت دوسرا آدمی سامنے سے اپنی گاڑی چلاتا ہوا آ گیا۔ اب یہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک موقع کے لحاظ سے ضروری احتیاط مثلاً اگر وہ تیز رفتار تھا تو وہ اپنی رفتار کو کم کرے۔ وہ اپنی گاڑی کو کنارے کی طرف لے جائے ، وغیرہ۔ اگر دونوں ہی بے احتیاطی کے ساتھ اپنی اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں تو ایکسیڈنٹ ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں قانونی اعتبار سے دونوں برابر کے قصور وار سمجھے جائیں گے۔ اسی کا نام مشترک غفلت ہے۔ زندگی کے اکثر حادثات اسی قسم کی مشترک غفلت کے نتیجہ میں واقع ہوتے ہیں دوسرے کی غلطی میں حصہ دار نہ بنئے ، دوسرے کی غلطی میں حصہ دار بننا بھی اپنے آپ کو غلط کا ر ثابت کرنا ہے۔
۶ اکتوبر کو ظہر کی نماز مکہ مسجد میں پڑھی۔ یہاں کی ایک چیز مجھے پسند آئی۔ وہ اوقات نماز کی گھڑی کا طریقہ ہے۔ انھوں نے دیوار پر ایک بڑا سا گھڑی کا ماڈل لگا دیا ہے۔ اس کی سوئی ہر نماز کے بعد گھما دی جاتی ہے۔ مثلاً اس وقت وہ ڈیڑھ بجے کا وقت بتا رہی تھی، یعنی ظہر کی نماز کا وقت۔ کے بعد اس کو عصر کے وقت پر کر دیا گیا۔
نماز کے بعد کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے۔ آدھ گھنٹہ تک ان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ دعوت کا کام ہمیشہ قربانیوں پر چلتا ہے۔ مگر ہندوستان میں دعوت کے عمل کو زندہ کرنے کے لیے اصل قربانی جو مطلوب ہے وہ ابھی تک مسلمانوں نے دی نہیں۔ اسی لیے یہاں دعوت کا عمل بھی جاری نہ ہو سکا۔ یہ قربانی ہے ہند و نفرت کو اپنے دل سے نکال دینا۔ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ ان کو دعوت والا ثواب دیا جائے تو اس کی ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنے دل سے ہند و نفرت کو یک طرفہ طور پر نکال نفرت کو نکال کر وہ ہندو کے لیے ہدایت کی دعا کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کے اور ہندوؤں کے درمیان نارمل فضا میں اختلاط ہونے لگے گا اور پھر دعوت کا عمل اپنے آپ جاری ہو جائے گا۔ یہی دعوت حق کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا طریقہ ہے۔
پونہ کی سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے بار بار اسپیڈ بریکر کے جھٹکے لگتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ موجودہ وزیرِ اعظم ہند کچھ عرصہ پہلے پونہ آئے تھے۔ اس وقت راتوں رات ان کی گزر گاہ کے تمام اسپیڈ بریکر توڑ دیے گئے اور سڑک راتوں رات ہموار کر دی گئی۔
جس ملک کے حکمران اس طرح صرف ہموار سڑکوں پر سفر کرتے ہیں ان کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہاں کے عوام کو سڑک کے جھٹکوں کو برداشت کرتے ہوئے سفر کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ حکمران بھی انھیں تجربات سے گزرے جن تجربات سے عوام گزر رہے ہیں اس کے بغیر ملک کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔
بمبئی میونسپل کارپوریشن کے معطل ڈپٹی میونسپل کمشنر جی آر کھیر نار کا چرچا پونہ تک میں سنائی دیا۔ یہاں بھی کچھ لوگ ان کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے۔ آج کل وہ عوامی جلسوں میں حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف پر جوش تقریریں کر رہے ہیں اور ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں میرے ساتھ ہیں۔
میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ماضی کے تجربات سے سبق نہیں آپ کھیرنارسے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ اس سے پہلے ہم کئی سپر کھیرنار کاتجربہ کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ایک سپرکھیرنارتھے۔ انھوں نے نان کانگریس ازم کی تحریک اور اس میں انتخابی کامیابی بھی حاصل کی۔ مگر وہ سراسر بے نتیجہ رہی۔ اسی طرح جے پرکاش نرائن انھوں نے ٹوٹل ریو لیوشن (سمپورن کرانتی) کی دھواں دھار تحریک چلائی۔ کانگریس حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ مگر وہ دوبارہ نتیجہ صفر رہا۔ ایسی حالت میں موجودہ کھیرنارکون ساکارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ منفی سرگرمیوں سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ پونہ میں بمبئی کا اخبار انقلاب کافی پڑھا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۴ میں لندن کے اخبار ٹائمس (۴ ستمبر) کی ایک رپورٹ نقل کی گئی تھی۔ اس میں مذکورہ اخبار کے نامہ نگار لیزلی تھا مس نے بتایا ہے کہ برطانوی خواتین اسلام میں ایک نئی اخلاقیات دریافت کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں بشیرہ (Bashira Rosser Owen) اور مائرا کولمین (Moira Ni Cholman) کا انٹرویو ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ ہم نے اسلام قبول کر کے مسلمان سے شادی کر لی ہے اور ہماری زندگی نہایت خوشگوار
رپورٹ کے مطابق ، برطانیہ میں ایسی خواتین کی تعداد دس ہزار ہو چکی ہے ۔ اور یہ زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔
ویلزیونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے نومسلم صدر معشوق ابن علی نے برطانیہ میں قبول اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھ کو خاص طور پر یہ دیکھ کر تعجب ہے کہ مسلمان ہونے والی بیشتر خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ رجحان اس حقیقت کے باوجود جڑپکڑتاجارہا ہے کہ مغرب میں میڈیا کے علاوہ آزادی نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی اسلام کی منفی تصویر پیش کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہیں ۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے گفتگو ہوئی ۔ وہ اس نظریہ کی حمایت کر رہے تھے کہ سچائی متعدد ہو سکتی یہ کہنا صحیح نہیں کہ فلاں مذہب ہی سچائی مذہب ہے۔ میں نے اس نظریہ کی تردید کی۔ تقریبا آدھ گھنٹہ کی گفتگو کے بعد انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس نقطہ نظر کو واضح کرنے کے لیے میں زیادہ اہل نہیں ہوں :
May be I am unable to explain the point. اس کے بعد میں نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔
پونہ میں ایک نئی خوب صورت مارکیٹ وہاں کی ایک خاص سڑک پر بنائی گئی ہے۔ یہ مارکیٹ دکھانے کے لیے لے گئے۔ یہاں انسانوں کا ہجوم تھا۔ ہر طرف تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ یہاں میں نے ایک کپڑے کی دکان دیکھی۔ اس دکان کا کرایہ ۶۵ ہزار روپے مہینہ تھا۔ کے باوجود جن صاحب نے اس کو کرایہ پر لیا ہے ، وہ اس سے صرف کرایہ کے طور پر پندرہ ہزار روپے مہینہ نفع کما رہے ہیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ دکان کے سامنے چند میزیں بچھادیں۔ اس کو الگ الگ افراد کو روزانہ کی بنیاد پر کرایہ پر دے دیا۔ اس کے بعد دکان کے بیچ میں لوہے کا اسٹینڈ کھڑا کر کے وہاں بھی ایک درمیانی دکان قائم کر دی۔ اس طرح انھوں نے ایک دکان میں آٹھ دکانیں بنادیں اور اس کے ایک حصہ میں اپنی دکان بھی رکھ لی۔
یہ سب کی سب سلے ہوئے کپڑے (گارمنٹ) کی دکانیں تھیں۔ وہ ہر کرایہ دار سے یومیہ بنیاد پر کرایہ لیتے ہیں۔ یہ رقم مجموعی طور پر ۸۰ ہزار ہوتی ہے ۔ ۶۵ ہزار روپے ماہانہ وہ مالک کو
دیتے ہیں اور پندرہ ہزار روپے مہینہ خود لے لیتے ہیں۔ اپنی دکان سے جو فروخت ہوتی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔
اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ اوسط درجہ کی ایک دکان کو مذکورہ شخص ۶۵ ہزار روپے ماہوار کرایہ پر لینے کے لیے کیسے راضی ہو گیا۔ جب کہ ایک عام آدمی اس کو اتنی بھاری قیمت پر لینے کے لیے کبھی راضی نہ ہوتا۔ ایک غیر تجارتی آدمی سمجھ نہیں سکتا تھا کہ یہ کوئی نفع کا سودا ہے۔ مگر تجارتی راز کو جاننے والے آدمی نے سمجھ لیا کہ یہ یقینی طور پر ایک نفع بخش سودا ہے، اور آگے بڑھ کر اسے لے لیا۔ یہی معاملہ دین کے لیے قربانی دینے کا بھی ہے۔ خدا کا مطالبہ ہے کہ دین کے لیے اپنا سب کچھ اب جو لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دنیا میں کم دے کر آخرت میں زیادہ پانا ہے وہ بڑھ کر اپنا سب کچھ دین کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کے اندر یہ یقین نہیں ہوتا وہ اس خدائی پکار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دنیا کی کامیابی بھی صاحبِ معرفت کو ملتی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی صاحبِ معرفت کے حصہ میں آئے گی۔
پونہ میں ایک پبلک پارک ہے جس کو ایمپرس گارڈن (Empress Botanical Garden)
ڈیڑھ سو سال پہلے وہ برطانی فوجیوں کے لیے بنایا گیا تھا اور سولجرس پارک کہا جاتا تھا۔ ۱۸۹۷ میں اس کو از سرِ نو درست کیا گیا اور کوئن الزبتھ کے نام پر اس کانام ایمپرس گارڈن رکھا گیا اب دوبارہ اس کو زیادہ بہتر بنایا گیا ہے۔ گارڈن کمیٹی کی خاتون چیرمین سومن کر لو کر کے الفاظ میں، عمارتی جنگل جیسے اس شہر میں یہ وسیع پارک لوگوں کے لیے تازہ ہوا حاصل کرنے کا ذریعہ ہو گا : It will prove to be the retreat for a breath of fresh air, in a city that is rapidly turning into a concrete jungle. ۴۳ ایکڑ میں واقع یہ پارک گویا فطرت کی ایک سر سبز دنیا ہے۔ اس طرح کے قدرتی پارک انسان کو انسانی دنیا سے نکال کر خدا کی دنیا میں لے جانے کا ذریعہ ہیں۔ آج کل ان مقامات کو صرف تفریح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ان کو تذکیر کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ معرفتِ رب کے حصول کے مقامات بن جائیں۔ (اگلے صفحہ کے نیچے تصویر ملاحظہ ہو)
سید امتیاز الدین دسنوی ایک انجینئر ہیں۔ وہ نہایت سنجیدہ مزاج کے آدمی ہیں۔
بتایا کہ، ۱۹۶۷ میں وہ سروس کے تحت ضلع پونہ کے ایک مقام لونو لا (Lonavla) میں تھے۔ مہینہ تھا، وہ وہاں کی ایک مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اس درمیان سڑک سے شور و غل کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ ہندوؤں کا ایک جلوس مسجد سے ملی ہوئی سڑک سے گزر رہا ہے۔ کے سامنے پہنچ کر ٹھہر گیا۔ باجے اور نعرے کی پر شور آواز مسجد کی دیواروں سے ٹکرانے لگی۔ یہ دیکھ کر نمازی غصہ ہو گئے۔ کچھ لوگ اٹھے کہ جاکر جلوس والوں سے کہیں کہ یہ مسجد ہے۔ شور نہ کرو بلکہ آگے جاؤ۔ سید امتیاز الدین نے ان مسلمانوں کو سمجھایا اور کہا کہ آپ لوگ چند منٹ بیٹھ کر ذکر کر لیجئے ۔ جلوس والے اپنے آپ آگے چلے جائیں گے۔ امتیاز الدین صاحب کے سمجھانے پر وہ لوگ مان گئے اور خاموش ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ سید امتیاز الدین صاحب نے بتایا کہ مشکل سے تین منٹ گزرے ہوں گے کہ آواز کم ہونے لگی اور تھوڑی دیر میں بالکل سکون ہو گیا۔ صرف تین منٹ تک مسجد کے سامنے ٹھہرے ۔ اس کے بعد اپنے آپ ہی آگے بڑھ گئے۔
میں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا کہ کچھ مسلمان سڑک پر آکر جلوس والوں کو روکتے تو وہ لوگ ضد میں پڑ جاتے ۔ اب دونوں طرف سے اصرار بڑھتا۔ یہاں تک کہ جومسئلہ ابتداء صر ف جلوس کا مسئلہ تھا، وہ بڑھ کر دونوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن جاتا۔ اس کے بعد معاملہ اور آگے بڑھتا اور آخر کار وہ المیہ ظہور میں آتا جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ اب ایک طرف مسجد کی نماز درہم برہم ہو جاتی اور دوسری طرف پوری بستی آگ اور خون میں نہا اٹھتی۔ حقیقت یہ ہے کہ امن اور فساد کے درمیان صرف تین منٹ کا اگر آپ تین منٹ کی ناخوش گواری کو برداشت کر لیں تو ہر طرف امن ہی امن ہوگا، اور اگر آپ تین منٹ کی ناخوش گواری کو برداشت نہ کریں تو ہر طرف فساد ہی فساد۔ ہر جگہ ایسے سبق آموز واقعات ملتے ہیں جن میں عمومی نصیحت ہوتی ہے۔ میں ہر جگہ اس قسم کے واقعات کو معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پونہ میں بھی اس طرح کے کئی واقعات معلوم ہوئے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۱ کو پونہ میں گنیش چرتھی کا سالانہ جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی۔ اور اس کی نسبت سے مسلمان اپنا میلاد النبی کا جلوس نکالنا چاہتے تھے۔ جلوس ایک ہی دن نکلتے تو عام تجربہ کے مطابق ، سخت اندیشہ تھا کہ دونوں میں ٹکراؤ اور فرقہ وارانہ فساد کی نوبت آجائے۔ اور پھر خوشی کا دن پونہ والوں کے لیے غم کا دن بن جائے ۔ پونہ کی سیرت کمیٹی نے اس خطرہ کو محسوس کر کے اپنا ایک مشاورتی اجتماع کیا، مشورہ میں برکت چنانچہ مشورہ کے بعد ایک عمدہ تدبیر سمجھ میں آگئی۔ اور وہ یہ کہ دونوں جلوس دو الگ الگ دنوں میں نکلیں ۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ دوسروں کے خلاف مطالباتی تجویز پاس کرنے کے بجائے خود اپنی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن کی تاخیر کے ساتھ، ۲۷ ستمبر کو نکالنے کا فیصلہ اس طرح ہند و جلوس اور مسلمان جلوس دونوں الگ الگ تاریخوں میں کامیابی کے ساتھ نکلے اور شہر کی پر امن فضا بحال رہی۔
اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں اعراض ہے۔ اعراض کوئی بے عملی یا پس پائی نہیں۔ اعراض حسن تدبیر کا دوسرا نام ہے۔ اعراض فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے جو آسمان کے ستاروں سے لے کر جنگل کے جانوروں تک ہر جگہ رائج ہے۔ اسی فطری اصول میں انسان کی کامیابی کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ آر ایس ایس کی میٹنگوں میں جاتے ہیں اور ان کے لوگوں سے ہیں، وہ تو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ نہ دیکھیے کہ میں کہاں بلکہ یہ دیکھیے کہ کس لیے جاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دشمنوں کے اجتماعات میں جاتے تھے۔ مگر آپ کا جانا اس لیے ہوتا تھا کہ خود اپنی بات دوسروں تک پہنچائیں۔ اسی سنتِ رسول پر عمل کرنا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ نے میری سرگرمیوں کی رپورٹ اردو اخبارات میں پڑھی ہوگی جو سنسنی خیز صحافت کے اصول پر چلائے جاتے ہیں۔ اگر آپ خود آر ایس ایس کے اخبارات کو دیکھتے تو آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔ پھر میں نے ان کو ایک عملی مثال دی۔
میں نے کہا کہ نئی دہلی سے آر ایس ایس کے دو ہفت روزہ اخبار نکلتے ہیں۔ پانچ جنیہ( (ہندی) اور آرگنائزر (انگریزی)۔ اس کے ذمہ داروں نے ۷ جولائی ۱۹۹۰ کو اپنے دفتر (رانی جھانسی مارگ) میں ایک مشترک میٹنگ کی۔ ان کی دعوت پر میں اس میٹنگ میں شریک ہوا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک اسلام کے موضوع پر گفتگو کی۔ اس واقعہ کی رپورٹ اردو اخبار میں چھپی تو اس کا عنوان اس نے ان الفاظ میں قائم کیا :
مولانا وحید الدین خان ۔ مسلم دشمن طاقتوں کے کیمپ میں اب آپ دیکھیے کہ وہ ہند و صاحبان جو اس میٹنگ میں موجود تھے اور جنھوں نے میری باتوں کو سنا ان کی نظر میں میری تقریر کیا تھی ۔ آرگنائزر کے ایڈیٹر مسٹروی پی بھاٹیا نے اپنے اخبار کی دو قسطوں (۵ اگست، ۱۹ اگست ۱۹۹۰) میں اس پروگرام کا تفصیلی جائزہ شائع کیا۔ وہ خود اس پروگرام میں شروع سے آخر تک موجود تھے ۔ انھوں نے میری تقریر اور گفتگو کے بارہ میں جو لکھا وہ یہ تھا کہ میں نے وہاں اسلام کی تبلیغ کی اور میرا مشن تبدیلی مذہب (proselytisation) ہے۔ چنانچہ انھوں نے آرگنائزر کی شائع شدہ رپورٹ کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا :
کے اجتماعات میں یہی دینی کام کر رہے ہیں۔
یہاں کے علاقائی اخبار اردو ٹائمز (۲ اکتوبر) کے آخری صفحہ پر ایک خبر کی سرخی یہ تھی: فرانس میں اسلام پرستی کی نئی لہر، حکومت پریشان۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں یہ خوف پایا جا رہا ہے کہ اس کی چار لاکھ مسلم آبادی میں کہیں اسلامی بنیاد پرستی نہ پھیل جائے۔ الجیریا میں جو الجیریائی قیادت اور مسلم دہشت گردوں کے درمیان خون ریز لڑائی چل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے الجیریا میں مقیم کئی فرانسیسی مارے جا چکے ہیں۔ یہ اس سمت میں ایک وارننگ ہے۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ لیے کوئی بھی اسلام سے خائف نہیں۔ جو بھی خائف ہے وہ اسلام کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی سے خائف ہے۔ یہ نام نہاد انقلابی لوگ کوئی فائدہ تو اسلام کو نہ پہنچا سکے۔ البتہ انھوں نے اسلام کو بدنام کر کے لوگوں کو غیر ضروری طور پر اس ۔ متوحش کر دیا۔
پونہ میں افریقہ کے اور عرب ملکوں کے طلبہ سیکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ آج صبح فجر کی نماز کے بعد تقریباً دس طالب علم جمع ہو گئے۔ یہ سب اریٹیریا کے تھے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ یہاں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اریٹیریا کی آزادی کے بعد وہاں مسلمانوں نے کیا کیا ترقیاں کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ حکومت بھی وہاں نصرانی ہے۔ چند مسلم وزیر حکومت لیکن رئیس ایک نصرانی ہے۔ اور سارا ایڈمنسٹریشن نصرانی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسلامی تحریک چلانے کی اجازت نہیں۔
میں نے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اریٹیریا کے مسیحی اگر چہ عددی اعتبار سے اقلیت میں ہیں۔ مگر ان میں تعلیم، تجارت، اتحاد، ڈسپلن، الشعور زمانہ پر چیز مسلمانوں سے زیادہ اس دنیا میں آزادی کے بعد بھی وہی لوگ تمام شعبوں پر قابض ہیں، جیسا کہ وہ پہلے تھے۔ حاجی یونس صاحب کی رہائش گاہ پر لوگ مسلسل آتے رہے۔ اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ بمبئی کے ٹائمز آف انڈیا (۴ اکتوبر) میں صفحہ اول پر ایک کارٹون تھا۔ واکی ٹاکی لیے ہوئے ایک کرسی پر پریشان حال کھڑا ہوا ہے۔ کرسی پر لکھا ہے ہوائی جہاز، سمندری جہاز، ہر قسم کے غذا کی اشیاء وغیرہ کی درآمد پر پابندی۔ عرب شیخ ٹیلی فون پر کہہ رہا ہے :
May be there's nothing to panic. But we are only taking maximum میکسی مم پر یکاشن لینا بہت اچھا ہے۔ اگر یہی طریقہ مسلمان دوسرے معاملات میں بھی اختیار کرنے لگیں تو بے شمار نقصانات اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
پونہ میں قیام کے دوران مجلس کی صورت میں مسلسل لوگوں سے بات ہوتی رہی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں میں ہر معاملہ کی وضاحت کرتا رہا۔ ایک صاحب نے حضرت علیٰ کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ایسی نماز پڑھتے تھے کہ ایک بار ان کے جسم میں تیر لگ گیا۔ انھوں نے کہا کہ جب میں نماز میں کھڑا ہوں تو نکال لینا ۔ چنانچہ نماز کے وقت تیر کھینچا گیا اور ان کو محویت کی وجہ سے اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ محویت کا یہ مطلب نہیں ہے۔ تیر جب نکالا جائے گا تو ہر آدمی کو تکلیف ہوگی، خواہ وہ کتنا ہی مخلص اور متقی کیوں نہ ہو۔ اصل یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ بات توجہ ہٹانے کے معنی میں اس وقت نماز میں مشغولیت کا مطلب توجہ کو ہٹا لینا تھا۔ جیسے ہم لوگ انجکشن لگوانے کے وقت یا خون نکلوانے کے وقت آنکھ بند کر لیتے ہیں یا منہ پھیر کر دوسری طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ 6 اکتوبر کی شام کو انڈین ایرلائنس کی فلائٹ 850 کے ذریعہ پونہ سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ اس کا مقرر وقت آٹھ بجے تھا۔ مگر جہاز کسی قدر تاخیر کے ساتھ روانہ ہوا۔
راستہ میں ہندی اخبار ساندھیہ ٹائمس (۶ اکتوبر) دیکھا۔ پہلے صفحہ کی نمایاں خبر کا عنوان تھا: تھا:تہاڑ کے قیدی کی موت۔
بنگلور سے نکلنے والے دکن ہیرالڈ (۶ اکتوبر) کے ایڈیٹوریل کے صفحہ کے اوپر البرٹ شیویٹزر (Albert Schwietzer) کا ایک قول نقل کیا گیا تھا :
The tragedy of life is what dies inside a man while he lives. یعنی موت آنے پر اندر کے انسان کا مر جانا زیادہ بڑا المیہ نہیں۔ زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ آدمی جسمانی طور پر زندہ ہو مگر اس کے اندر کا انسان مر چکا ہو۔
انڈین ایرلائنس کا فلائٹ میگزین سواگت (اکتوبر 1994) دیکھا۔ اس کے ہندی شعبہ میں ایک مضمون کا با تصویر عنوان یہ تھا : گاندھی ، آج کے یا کل کے۔ اس کے رائٹر مسٹر پنکج شرمانے گاندھی جی
کی غیر معمولی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "انھیں سنتے یا انھیں دیکھتے سے لوگ ان کے شریر کو ایک پر کار سے بھول جاتے تھے۔ اس لیے وہ جہاں بیٹھتے تھے وہ مندر بن جاتا تھا اور وہ جہاں چلتے تھے وہ بھومی پوتر بن جاتی تھی۔ " (صفحہ ۳۵) اسی قسم کے الفاظ مسلم رائٹر بھی اپنے قومی بڑوں کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔ کوئی اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ جب اتنے زیادہ مقدس لوگ ملک میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کمزوروں کی تعداد میں یہاں اپنے معتقد بھی پیدا کر لیے تو ملک کی یہ تباہی کیوں۔ ان بڑوں کی بڑائی اپنی ساری مقبولیت کے باوجود قوم کی طرف منتقل کیوں نہیں ہوئی۔ ۶اکتوبر ۱۹۹۴ کی رات کو میں دوبارہ دہلی واپس آگیا۔ مطبوعات مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈیمی مراٹھی آموز ڈاکٹر عصمت جاوید ۲۵ روپے ایک ہی پیالہ (ڈرامہ) رام گنیش گڈکری مراٹھی سے ترجمہ خلیل مظفر ۲۰ روپے ناگپور میں اردو ڈاکٹر شرف الدین ساحل ۵۰ روپے علم الامراض ڈاکٹر کرنل محمد غفران ۹۰ روپے چاند تارے اسحاق خضر ۱۵ روپے کمپیوٹر اور اس کی بیسک زبان عبد الباری مومن ۲۰ روپے کتھور سنگیت کار بی آر دیودھر مراٹھی سے ترجمہ دستگیر شہاب ۲۵ روپے امکان مراٹھی عصری ادب کا انتخاب (اردو) ۴۰ روپے امکان مراٹھی عصری ادب کا انتخاب (اردو) ۲۵ روپے امکان یک بابئ ڈرامہ (خصوصی شماره) ۱۰ روپے امکان سراج اور نگ آبادی (خصوصی شماره) ۲۰ روپے ملنے کے پتے : (۱) مہاراشٹر اردو اکیڈیمی، فون : ۲۶۷۲۰۳ اولڈ کسٹم ہاؤس، ڈی ڈی بلڈنگ، شہید بھگت سنگھ مارگ، ممبئی ۴۰۰۰۰۱ (۲) مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، پرنس بلڈنگ، جے جے اسپتال، ممبئی ۴۰۰۰۰۸
A Treasury of the Qur'an 75.00 - اسفار ہند 40/- شتم رسول کا مسئلہ 200/- اردو Words of the Prophet Muhammad 85.00 - اسلام ایک تعارف - مطالعہ سیرت 200/- تذکیر القرآن جلد اول Muhammad: A Prophet for All Humanity - 71/- حیات طیبہ 80/- ڈائری جلد اول 200/- تذکیر القرآن جلد دوم - 71/- باغ جنت 55/- کتاب زندگی 45/- اللہ اکبر An Islamic Treasury of Virtues - 71/- نار جہنم - انوار حکمت 40/- پیغمبر انقلاب The Life of the Prophet Muhammad 75.00 10/- حلیج ڈائری 25/- اقوال حکمت 55/- مذہب اور جدید چیلنج Sayings of Muhammad 85.00 71/- رہنمائے حیات 8/- تعمیر کی طرف 35/- عظمت قرآن The Beautiful Commands of Allah 125.00 - مضامین اسلام 20/- تبلیغی تحریک 50/- عظمت اسلام 71/- تعدد ازواج 25/- تجدید دین 71/- عظمت صحابہ The Beautiful Promises of Allah 175.00 40/- ہندوستانی مسلمان 35/- عقلیات اسلام 60/- دین کامل The Soul of the Qur'an 125.00 Presenting the Qur'an 165.00 The Muslim Prayer Indian Muslims 65.00 Islam and Modern Islam: The Voice of Islam: Creator of Woman Between Islam and Woman in Islamic Islam As It Is 55.00 Religion and Science 45.00 The Way to Find God 20.00 The Teachings of Islam 25.00 The Good Life 20.00 The Garden of Paradise 25.00 The Fire of Hell 25.00 Man Know Thyself 8.00
Tabligh Movement 40.00 Polygamy and Islam 7.00 Hijab in Islam 20.00 Concerning Divorce 7.00 Uniform Civil Code 10.00 اسلام کا تعارف علماء اور دورِ جدید ہندوستان آزادی کے بعد مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ الاسلام متحدی (عربی) یکساں سول کوڈ اسلام کیا ہے سچائی کی تلاش انسان اپنے آپ کو پہچان سچائی کی کھوج اسلام کا پرچم پیغمبر اسلام کے مہمان ساتھی راستے بند نہیں جنت کا باغ بہو بیٹی واد اور اسلام اتہاس کا سبق اسلام ایک سوا بھاوک مذہب مذہب اور سماش قرآن کا مطلوب انسان دین کیا ہے اسلام دین فطرت تاریخ کا سبق فسادات کا مسئلہ انسان اپنے آپ کو پہچان اسلام پندرہویں صدی میں راہیں بند نہیں سبق آموز واقعات حقیقت کی تلاش خدا اور انسان حل یہاں ہے سوشلزم اور اسلام اسلام اور عصرِ حاضر اسلام دورِ جدید کا خالق سفر نامہ (غیر ملکی اسفار) سفر نامہ (ملکی اسفار) میوات کا سفر تعبیر کی غلطی دین کی سیاسی تعبیر اسلام ایک عظیم جدوجہد منزل کی طرف طلاق اسلام میں
یہاں معیاری علیٰ تکنیک زیور و زبان علمی حقائق پر مبنی تحریریں دین حق کی تبلیغ کی سب سے زیادہ یقینی پہچان ہے