Al-Risala · February 1997

عیدالاضحیٰ

Al-Risala, February 1997, pp. 8–11

By Maulana Wahiduddin Khan

عیدالاضحیٰ کے معنی ہیں قربانی کی عید۔ اس سالانہ تہوار کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر قربانی کی اسپرٹ پیدا کی جائے۔ تا ہم اس قربانی کا اصل مطلب جانور کو ذبح کرنا نہیں ہے ۔ جانور کا ذبح بیمہ اصل قربانی کی علامت ہے نہ کہ وہی اصل قربانی ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم کی یادگار ہے۔ اسی کو ہر سال ہم اپنی زندگی میں دہراتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ اس سلسلہ میں حضرت ابراہیم کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ کیا تھا۔ ابراہیم سے اللہ تعالی کو ایک خاص منصوبہ مکمل کرانا تھا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ آپ کے بیٹے اسماعیل کو عرب کے غیر آباد علاقہ میں بسا دیا جائے جہاں اس وقت صحرا اور پہاڑ کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہاں فطرت اور جفا کشی کے ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک تازہ دم اور جاندار نسل تیار ہوجس میں اعلیٰ انسانی اوصاف ہوں۔ جس کے اندر ہر قسم کی عملی صلاحیت اس طرح کی ایک زندہ نسل تیار کر کے اس کو نیا انقلاب برپا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ۔ وہ آنے والے مصلح اعظم کو انسانوں کی ایک طاقت ور ٹیم دے سکے۔ قدیم عرب کے ماحول میں کسی بچہ کو بسانا اس کو گویا ذبح کر دینا تھا۔ یہی حقیقت حضرت ابراہیم کو خواب میں اس طرح دکھائی گئی کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ ایک تمثیلی خواب تھا۔ مگر حضرت ابراہیم کمال اطاعت کے جذبہ کے تحت حقیقی طور پر اس کی تعمیل کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح آخری طور پر ثابت ہو گیا کہ آپ اپنی اولاد کو خدا کے مذکورہ منصوبہ میں دینے کے لئے بلاجھجک آمادہ ہیں۔

اس وقت اللہ کی طرف سے ایک دنبہ دیا گیا اور حضرت ابراہیم سے کہا گیا کہ اس دنبہ کو فدیہ کے طور پر ذبح کر کے اپنا خواب پورا کرو اور اپنے بیٹے کو اصل قربانی کے لئے صحرا میں بسا وہاں کے پرمشقت ماحول میں ایک نئی نسل بنے گی۔ اور جب یہ نسل تیار ہو جائے گی تو وہ اپنی جد وجہد سے ایک عظیم انقلاب لائے گی اور دنیا کو ایک نئے دور میں داخل کرے گی۔ چنانچہ اسی نسل سے صحابہ کرام نکلے جو اعلیٰ ترین انسانی کردار کے حامل تھے اور انھوں نے دنیا میں

اعلی ترین انقلاب برپا کیا۔

عید اضحیٰ اسی ابراہیمی تاریخ کو تہوار کی صورت میں دہرانے کا دن ہے۔ ابراہیم نے اپنے وقت میں اس کو ایک خاص صورت میں دہرایا۔ آئندہ بھی یہ ابراہیمی عمل جاری رہے گا۔ البتہ اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔

عید اضحیٰ کے موقع پر جب ایک شخص جانور کو ذبح کرتا ہے تو وہ اپنی زبان سے عربی کے وہ الفاظ کہتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: بے شک میری عبادت اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ خدایا، تجھی نے دیا ہے اور تجھی کو میں اسے لوٹاتا ہوں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی قربانی تو خود اپنی ذات کی ہے۔ اصل قربانی یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کو بچائے بغیر اس کو خدا کے حوالے کر دے۔ وہ اپنے وجود کی حوالگی کے لئے خدا سے عہد کرتے ہوئے بطور علامت ایک جانور کو ذبح کر رہا ہے، جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو خدا کے منصوبہ کے حوالے کرتے ہوئے ایک جانور کو نذر دینے کے طور پر ذبح کیا حضرت ابراہیم کے لئے دنبہ کو ذبح کرنا علامتی معنوں میں تھا۔ اسی طرح آج عید اضحیٰ کے موقع پر یا حج کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا بھی ایک علامتی عمل ہے نہ کہ وہی اصل عمل۔ علامتی ذبیحہ کے لئے جانور کا انتخاب سب سے زیادہ فطری انتخاب ہے۔ یہ گویا معمول کے حالات کو ایک غیر معمولی سبق کے لئے استعمال کرنا ہے۔ خدائی شریعت کے مطابق ، آدمی بار بار ایسا کرتا ہے کہ وہ جانور کو اپنی خوراک کے لئے ذبح کرتا ہے۔ اسی عمل کو ایک دن نیا عنوان دے دیا گیا۔ گویا کہ ایک ہونے والی بات میں مزید ایک سبق کا پہلو پیدا کر دیا گیا۔ عید اضحیٰ اسی ابراہیمی تاریخ کو تہوار کی صورت میں دہرانے کا دن ہے۔ نے اپنے وقت میں اس کو ایک خاص صورت میں دہرایا۔ آئندہ بھی یہ ابراہیمی عمل جاری رہے گا، البتہ اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس کی علامتی صورت تو ہمیشہ ایک رہے گی، یعنی عید قرباں کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا۔ مگر اسپرٹ کے اعتبار سے اس کی صورتیں ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ جس وقت اسلام کو جس قسم کی مشقت اور قربانی مطلوب ہو، اس

وقت اس کی تعمیل کی جائے گی۔

مثلاً موجودہ زمانہ میں اسلام کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم قوم کے تقریباً تمام اعلیٰ صلاحیت والے لوگ حب عاجلہ میں مبتلا ہیں۔ وہ آج کے لئے عمل کرنے پر راضی نہیں۔ شہرت کے میدانوں میں اپنی ساری طاقت لگا رہے ہیں۔ وہ کام جو اخبار میں چھپے ، جس سے فوراً لیڈری ملتی ہو۔ جو آدمی کو قومی سطح پر با عظمت مقام دیتا ہو۔ آج تمام اعلیٰ صلاحیت کے لوگ اسی قسم کے کاموں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ وہ سنجیدہ اور خاموش تعمیری کام میں اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار نہیں۔

لوگ عید اضحیٰ کے موقع پر جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ مگر حقیقی قربانی کا میدان جہاں انہیں اپنی ذات کو اور اپنی صلاحیتوں کو وقف کرنا چاہئے ، وہاں اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار نہیں۔

آج اسلام کے لئے اسی قسم کی قربانی کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دنیا کی ترغیبات کو چھوڑ کر آخرت کی ابدی نعمتوں کے لئے قربانی دی جائے۔

اس مطلوب عمل کی علامت کے لئے جانور کی قربانی کا طریقہ اختیار کرنا گویا ہماری عام زندگی میں اس کو شامل کر دینا ہے۔ خدا کی شریعت کے مطابق ، آدمی بار بار ایسا کرتا ہے کہ وہ جانور کو اپنی خوراک کے لئے ذبح کرتا ہے۔ عید اضحیٰ کے موقع پر جانور کے اسی ذبیحہ کو ابراہیمی یادگار کے طور پر بطور علامت انجام دینے کا حکم دیدیا گیا۔ اس طرح ایک ہونے والی بات کو مزید ایک اعلیٰ سبق کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

عید اضحیٰ کے دن صبح کو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے۔ اس کے بعد جانور کی قربانی دی جاتی یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو اظہار ہیں۔ نماز بھی حوالگی اور سپردگی کا عہد ہے اور قربانی بھی حوالگی اور سپردگی کا عہد۔ نماز میں رکوع اور سجدہ کے ذریعہ اپنی حوالگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور قربانی میں جانور کے ذبیحہ کی صورت میں۔ گویا نماز کے ذریعہ آدمی یہ کہتا ہے کہ جہاں مجھ کو خدا کے آگے جھکنا ہو گا وہاں میں جھک جاؤں گا ، اور قربانی کے ذریعہ وہ کہتا ہے کہ جہاں مجھے اپنی جان پیش کرنی ہو گی وہاں میں اپنی جان پیش کر دوں گا۔

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۸ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تبعیت میں آپ کی پوری امت کو قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔ پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہارا دشمن ہی بے نام و نشان ہے (الکوثر)

کوثر کے معنی خیر کثیر کے ہیں۔ یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ پیغمبر اسلام کو یہ خیر کثیر اپنے کمال درجہ میں دیا گیا۔ بعد کے امتیوں کو وہ ان کے عملی استحقاق کے اعتبار سے دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام ہمیشہ قربانی کی سطح پر انجام دیا جاتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ یہ مشکل ترین کام آپ نے عظیم ترین قربانی کے ذریعہ انجام دیا۔ حتی کہ اس دعوت کی راہ میں آپ کو اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔

آپ اپنی قوم سے کٹ گئے، آپ کی معاشی زندگی برباد ہو گئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہو گیا۔ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر آپ ہر قسم کی قربانی دیتے ہوئے اس پر قائم رہے، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے آپ پر یہ بشارت اتری کہ تم کو کوثر (خیر کثیر) دے دیا گیا۔ ہر قسم کی اعلیٰ ترین کامیابی دنیا اور آخرت میں تمہارے لئے ابدی طور پر لکھ دی گئی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بُعد کے سالوں میں کامل طور پر آپ کے حق میں

عید اضحیٰ اسی قربانی کے عہد کا دن ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا زینہ ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ بڑا درجہ حاصل کرتے ہیں جو اس کے لئے تیار ہوں کہ وہ ہر حال میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔ وہ مشقتوں اور قربانیوں کی قیمت دے کر اپنے فرض منصبی کو ادا کریں گے۔

Printed page