Al-Risala · February 1997

حج اور قربانی

Al-Risala, February 1997, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

حج کی اصل حقیقت قربانی ہے۔ حج کے تمام اعمال میں جو روح کام کر رہی ہے وہ قربانی کی روح ہے۔ حج کے موقع پر جانور کی قربانی اسی حقیقت حج کا علامتی اظہار ہے۔ ایک جانور کو لٹا کر اس کو ذبح کرتا ہے۔ مگر جانور کی قربانی دراصل اپنی جان کے بدل کے طور پر حقیقی قربانی یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھے کہ میں نے خود اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے حکم کے آگے ڈال دیا ہے۔ اس کے لئے جانور کے اوپر چھری رکھنا خود اپنی ذات کے اوپر چھری رکھنے کے ہم معنی بن جائے۔

حج کی یہ حقیقت اس دعا سے بخوبی طور پر واضح ہے جو جانور کی قربانی کرتے ہوئے آدمی اپنی زبان سے ادا کرتا ہے۔ وہ یہ ہے ــ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو سارے عالم کا پروردگار ہے۔ حج از اول تا آخر قربانی کا سبق ہے۔ حج میں آدمی کو اپنے کام اور اپنی مشغولیت کو چھوڑ کر نکلنا پڑتا ہے، یہ وقت کی قربانی ہے۔ وہ اپنے وطن سے روانہ ہو کر دور کے سفر پر جاتا ہے ، یہ معمولات کو توڑنے کی قربانی ہے۔ وہ اپنے روز مرہ کے اخراجات میں ایک نئے خرچ کا اضافہ کرتا ہے ، یہ مال کی قربانی ہے۔ وہ طواف اور سعی میں اپنے اعضا کو تھکاتا ہے ، یہ جسم کی قربانی وہ مسلسل اللہ کو یاد کرتا ہے اور اس کے آگے گریہ وزاری کرتا ہے ، یہ اپنی انا کی قربانی ہے۔ اس کے ساتھ حج کے سفر میں بہت سے اجنبی لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ میں طرح طرح کی ناخوشگوار باتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی کوئی شخص کڑوی بات بولتا ہے۔ آدمی سے دھکا لگ جاتا ہے۔ کبھی کسی شخص سے کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح کے ناموافق تجربات اس کے جذبات کو مشتعل کر دیتے ہیں۔ مگر وہ حکم خداوندی کی بنا پر اس قسم کی تمام چیزوں کو برداشت کرتا ہے۔ یہ احساسات کی قربانی ہے جو بلاشبہ تمام قربانیوں سے زیادہ بڑی

اس طرح حج گویا قربانی کی مشق اور قربانی کی تربیت ہے۔ حج آدمی کو جسمانی اور

روحانی اور مالی شدائد کے مختلف مراحل سے گزار کر اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک باعمل انسان بنے۔ سفر حیات میں وہ قربانی کی حد تک اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو جائے ۔

حج کوئی جامد قسم کی رسم نہیں۔ وہ ایک زندہ اور بامعنی عمل ہے۔ حج اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے اس بات کا پیغام ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر حال میں با مقصد زندگی گزارے، خواہ اس کو اس مقصدیت کی کتنی ہی زیادہ قیمت کیوں نہ دینی پڑے ۔ حج کے مراسم گویا بامقصد زندگی کا یہ ہر سل ہیں جو علامتی انداز میں مخصوص تاریخوں میں دہرائے جاتے ہیں ۔ یہ علامتی ریہرسل اس لئے کرایا جاتا ہے تاکہ آدمی اپنے ماحول میں واپس آکر اس کو حقیقی طور پر اپنی زندگی میں

با مقصد زندگی کی اس تربیت کے لئے ایک ایسے انسان کا نمونہ منتخب کیا گیا ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ آئیڈیل اور تاریخی شخصیت حضرت ابراہیم کی شخصیت ہے۔

حضرت ابراہیم کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ انھوں نے اللہ کی خاطر پورے معنوں میں ایک با مقصد زندگی گزاری۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت کو شرک سے ہٹا کر توحید کے عقیدہ پر قائم کیا جائے۔ اس پاک مقصد نے جن جن قربانیوں کا تقاضا کیا، وہ ساری قربانیاں انھوں نے پیش کیں۔

اس آئیڈیل انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کو حج میں علامتی طور پر دہرایا جاتا ہے۔ اس طرح حاجی کے اندر یہ عزم بیدار کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں مقصد حق کے لئے جئے اور مقصد حق کے لئے مرے۔ جس طرح حضرت ابراہیم ساری عمر مقصد حق کے لئے جئے ۔ اور آخر میں اپنے عزیز بیٹے کو اسی کے لئے قربان کر دیا۔ حضرت ابراہیم نے ہر مطلوبہ قیمت ادا کی مگر وہ اس مقصد سے نہیں ہٹے جو اللہ نے انھیں بتایا تھا ۔ اسی طرح حاجی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر ضروری قیمت ادا کرے ۔ مگر مقصد کی شاہراہ کو کبھی نہ چھوڑے۔

ہر زمانہ میں ایک ابراہیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس انسان کی جو لوگوں کی بھلائی

کو لئے تڑپے۔ جو لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھانے کے لئے بلا معاوضہ محنت کرے۔ سب کچھ کھوئے تاکہ دوسرے لوگ پانے والے بن جائیں۔ حج کے مراسم کے دوران یہی جذبہ ہر ایک حاجی کے اندر ابھارا جاتا ہے، اور اسی جذبہ کو لے کر اسے مقاماتِ حج سے واپس آنا ہے۔

حضرت ابراہیم کے زمانہ میں لوگ خدا کو بھولے ہوئے تھے۔ وہ خدا کو چھوڑ کر خدا کی مخلوقات کو پوجتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے ان کے درمیان توحید کی تبلیغ کی۔ مگر لمبی مدت تک کوشش کرنے کے باوجود لوگ شرک کے راستہ سے نہیں ہٹے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نسل در نسل مشرکانہ تہذیب میں زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ اس کے رنگ میں اتنا رنگ گئے تھے کہ ان کا ذہن کوئی دوسری چیز قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل اور ان کی ماں ہاجرہ کو عرب کے غیر آباد صحرا میں بسادیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ صحرا کے الگ تھلگ ماحول میں پرورش پا کر ایسے لوگ نکلیں جو اپنی فطرت پر قائم ہوں اور توحید کے فطری پیغام کو قبول کر سکیں۔ ڈھائی ہزار سال کے دوران توالد و تناسل کے ذریعہ صحرائی ماحول میں ایک تازہ دم قوم تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہی لوگ دین توحید کو قبول کر کے اصحاب رسول بنے اور ساری دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔

موجودہ زمانہ میں دوبارہ مذہب توحید کو زندہ کرنے کے لئے ایک جاندار قوم کی ضرورت اس کے لئے دوبارہ قربانیوں کی ضرورت ہے۔ اب موجودہ حالات کے لحاظ سے جو لوگ دوبارہ یہ کام کریں وہی سچے اور مکمل حاجی ہیں۔

آج جو لوگ حج کے لئے جاتے ہیں، ان کو حج کا پیغام یہی ہے۔ ان کو دوبارہ اپنے اندر توحید کی روشنی جلانا ہے۔ ان کو دوبارہ اپنے اندر ابراہیم کی طرح راجہ پیدا کرنا ہے۔ دوبارہ اللہ کے گھر کو مننے والا اور اللہ کے لئے دوڑنے والا بننا ہے۔ ان کے اختلافات سے بلند

حضرت ابراہیم نے قدیم حالات کے اعتبار سے جو حق پرستانہ کردار ادا کیا تھا، آج حاجی کو وہی حق پرستانہ کردار موجودہ حالات کے اعتبار سے ادا کرنا ہے۔ یہی حج کا پیغام ہے اور یہی حج کا فریضہ ادا کرنے والوں کا پروگرام۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حج کے زمانہ میں جو جانور ذبیحہ کیا جاتا ہے تو اللہ کو اس کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اللہ کو اس کا تقویٰ پہنچتا ہے (الحج ، ۳۷)گویا گویا کہ جانور کا ذبیحہ ایک علامتی عمل ہے، اس کے ذریعہ جو اصل چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ ذبح دینے والے کے اندر تقویٰ کی اسپرٹ پیدا ہو۔

یہی حج کے تمام مراسم کا معاملہ ہے۔ حج کے تمام مراسم علامتی مراسم ہیں۔ وہ علامتی طور پر یہ سبق دیتے ہیں کہ اپنے اندر اسی قسم کی روح پیدا کرو۔ اس ظاہر کو اپنے باطن میں

علامتی عمل، ہمیشہ ایک رہتا ہے۔ مگر اس کی روح کا ظاہری استعمال کیا ہو، اس میں زمانہ کے اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے۔ حاجی کے اندر حقیقی معنوں میں اگر حج کی روح پیدا ہو جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ وہ جن حالات میں ہے، اس کے اعتبار سے وہ کون سی قربانی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس سے مطلوب ہے۔

سچا حاجی وہ ہے جس کے لئے حج کے مراسم اس کے اندر حج کی مطلوب روح پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ جو نہ صرف "ذوالحجہ" کا حاجی ہو بلکہ وہ پوری عمر اور پوری زندگی کا حاجی بن جائے۔

پیغامِ انقلاب (مراٹھی)

پیغامِ انقلاب کا مراٹھی ترجمہ مندرجہ ذیل پتے سے دستیاب کیا جا سکتا ہے A-4/2, MIDC, Jalna Road, Aurangabad, Maharashtra

Printed page