Al-Risala · February 1997

سفر نامہ یورپ ۳

Al-Risala, February 1997, pp. 20–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ایران کے پروفیسر پورزوائی کو ایرانی انقلاب کے بعد ایران کی حالت پر بولنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انقلاب کے فوراً بعد لوگوں کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہو گئی تھیں ۔ اب انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی امیدیں پوری نہیں ہو ئیں ۔ انقلاب نے شاہی حکومت کا تو خاتمہ کر دیا ۔ مگر حقیقی مسائل بدستور ایران میں باقی ہیں۔ انھوں نے اس قسم کی کئی باتیں سوال کے انداز میں کہیں۔ مگر ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ واقعہ پورے معنی میں ایک فلسفی ہیں کیونکہ ایک فلسفی کی تعریف یہ ہے کہ وہ سوالات اٹھائے مگر ان کا جواب پیش نہ کرے: You are a philosopher, in the true sense of the word. Because it is said that the philosopher is one who raises question without providing any جون ۱۹۹۲ کے آغاز میں ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے دفتر میں ایرانی مہاجرین کی ایک جماعت سے ملاقات کی۔ وہ لوگ ترک وطن کے کئی سال بعد اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی دعوت پر ایران آئے تھے۔ زائرین میں سے ایک صاحب جو کہ ایٹمی تحقیق کے میدان میں بین اقوامی ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان سے رفسنجانی نے پوچھا کہ اپنے سابق وطن ایران کے بارہ میں آپ کے تاثرات کیا ہیں۔ صدر کے سوال کے جواب میں ایرانی مہاجر نے جو الفاظ کہے وہ آج کل ایران میں لوگوں کے درمیان بہت گردش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا : میں نے ملک میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دیکھی ، سوا اس کے کہ شاہ اب عمامہ پہنتا ہے اور اس کے آدمیوں نے بھی اپنے لباس بدل لیے ہیں۔ نائٹ کلب سڑکوں سے منتقل ہو کر گھروں کے اندر چلے گئے ہیں ، اور نفاق ایک معمول کی چیز بن گیا ہے۔ بلکہ جو شخص جتنا زیادہ مصنوعی دین داری دکھاتا ہے وہ اتنا ہی بڑا منصب حاصل کرتا ہے۔ حاضرین مجلس کے تعجب اور اضطراب کے درمیان صدر رفسنجانی نے مذکورہ شخص سے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں : في بداية الشهر الماضي استقبل الرئيس الايراني هاشمي رفسنجاني في مكتبه مجموعة من المغتربين الايرانيين ممن كانوا يزورون ايران بعد سنوات عديدة من الغربة بدعوة من وزارة التعليم العالي. سأل رفسنجاني احد زواره الذي يعتبر خبيرا دوليا في مجال البحوث الذرية، عن انطباعاته خلال زيارته للوطن. وجاء رد المغترب الايراني على سؤال الرئيس في عبارة تردد حاليا في ايران، فقال: لم اشاهد تغيرا اساسياً في البلاد سوى ان الشاه يلبس العمامة من جلاله البتعمل والاستعباد، والنادي الليلة انتقلت من الشوارع الي داخل البيوت، والنفاق

اصبح امراً عادياً، بل ان من يتظاهر بالتدين اكثر فانه يحصل على منصب اعلى. ووسط استغراب وربما قلق بعض الذين حضروا الاجتماع قال الرئيس لزائره انه على الحق. (المجلة، لندن، ٢٢–٢٨ يوليو (۱۹۹۲) یہی ہر اس سیاسی انقلاب کی بات ہے جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر لایا جا رہا ہے۔ اسلامی انقلاب ہمیشہ دعوت اور کردار سازی اور صابرانہ جدوجہد اور تدریج کے اصول پر برپا جب بھی سیاسی ہنگامہ آرائی یا گن کلچر کے ذریعہ انقلاب لانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا انجام ایران جیسا ہوگا، خواہ اس کا نام اسلامی انقلاب یا آسمانی انقلاب کیوں نہ رکھ دیا جائے۔ کانفرنس میں آنے والے ایک صاحب کو شکایت تھی کہ ان کو یہاں بلایا گیا۔ پیپر انہوں نے تیار کیا تھا ، اس کو پڑھنے کا موقع انہیں نہیں دیا گیا۔ میں نے ان کا پیپر دیکھا تو وہ تنقیدی انداز کا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ پیس (امن) اچھی چیز ہے، مگر پیس کو انصاف کے ساتھ (with justice) ہونا چاہئے۔ آج کی دنیا میں ہر طرف بے انصافی (injustice) ہے۔ رہتے ہوئے پیس کا کوئی مطلب نہیں۔

میں نے کہا کہ یہ سوچ کے فرق کا معاملہ ہے۔ آپ انقلابی (بالفاظ دیگر، متشددانہ) طریقہ میں یقین رکھتے ہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ بے انصافی صرف لڑ کر ہی ختم ہو سکتی ہے۔ اس لئے پہلے ہمیں لڑ کر بے انصافی کو ختم کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی پیس کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ بے انصافی کے خلاف لڑائی چھیڑنا ایک برائی کو دوسری برائی کے ذریعہ ختم کرنا اس قسم کی کوشش صرف برائی میں اضافہ کرتی ہے جس کا نمونہ آپ مختلف ملکوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ لڑائی بھڑائی کا ذہن ختم کیا جائے تاکہ پیس کا ماحول قائم ہو۔ اس کے بعد ہر ایک کو موقع ہوگا کہ وہ اپنے مطلوب مقصد کے لئے کوشش کرے۔ پہلے آپ امن کا ماحول قائم کیجئے۔ اس کے بعد پرامن ذرائع سے بے انصافی کو ختم کرنے کی کوشش کیجئے ۔ یہی کام کرنے کا صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ مجھ کو صدام حسین کا کردار پسند ہے۔ دیکھیےوہ ظالم کے

ہر شرط پر رضامند ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں آج بچوں کو دودھ نہیں ملتا۔ کیوں کہ امریکہ کی طرف سے عراق کی ناکہ بندی کئے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری امریکہ پر نہیں ہے بلکہ خود صدام حسین پر ہے۔

عراق کے پاس زبردست دولت تھی۔ مگر صدام حسین نے عراق کی پوری اقتصادی طاقت کو ایک جھوٹی جنگ کی تیاری میں لگا دیا اور ملک کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس کے بجائے اگر وہ ملک کی ترقی کے لئے کام کرتے تو آج عراق میں اتنا زیادہ دودھ پیدا ہورہا ہوتا کہ وہ باہر کے ملکوں کو دودھ ایکسپورٹ کرتا۔ کجا کہ دودھ کے لئے اس کا دار و مدار تمام تر باہر کے ملکوں پر

۴ اکتوبر کو شام کا کھانا فلارنس کے باہر ایک ہوٹل میں تھا۔ اس کا نام وِلاویکیا ریستوران (Villa Vecchia Restaurant) تھا۔ یہ فلارنس کے باہر ۱۰ میل کے فاصلہ پر ہے۔ وہ ایک پہاڑی پر سڑک کے کنارے بنایا گیا ہے۔ اس کا پورا ماحول نہایت خوبصورت ہے۔ اس نام کا مطلب ہے

کھانے کی میز پر مختلف ملکوں کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور مختلف زبانیں بولتے تھے۔ دیکھا کہ ایک صاحب سب سے زیادہ بول رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت سی زبانیں جانتے تھے اور ہر ایک سے براہ راست ربط قائم کرسکتے تھے۔ بظاہر دیکھنے میں وہ غیر اہم معلوم ہوتے مگر جب وہ بولنے لگے تو میز پر وہی سب سے زیادہ چھا گئے۔

میں نے سوچا کہ انسان کا ذہن بھی کیسا عجیب و غریب ہے۔ وہ اتنا عظیم ہے کہ اس کو کمپیوٹر یا سپر کمپیوٹر کہنا بھی اس کی تصغیر کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا کے تمام کمپیوٹر مل کر بھی ایک انسانی ذہن کی برابری نہیں کرسکتے۔ یہ انسان ہے جو کمپیوٹر کی تخلیق کرتا ہے کسی کمپیوٹر کے لئے ممکن نہیں کہ وہ انسان کی تخلیق کرسکے۔

زبان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ نعمت صرف انسان کو حاصل ہے۔ زبان ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکتا ہے۔ حیوان ایک دوسرے سے تبادلہ خیال نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انہیں وہ چیز حاصل نہیں ہے جس کو زبان کہا جاتا ہے۔

زبان کے ذریعہ انسانی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ زبان کے ذریعہ جو تبادلۂ خیال ہوتا ہے وہ افکار میں ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ زیادہ بڑا کام کر پاتے ہیں جو زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔

۲۴ اکتوبر کو جب میں فلارنس میں تھا، مکمل سورج گرہن پڑا۔ تاہم اٹلی میں وہ قابلِ مشاہدہ ہندوستان میں بنگال سے لے کر راجستھان تک ایک مخصوص پٹی میں وہ دیکھا جا سکتا تھا راجستھان میں الور کے علاقہ میں سورج کو مکمل گرہن کی حالت میں دیکھا گیا۔ صبح کو ساڑھے آٹھ بجے تقریباً ۵۰ سیکنڈ کے لئے چاند نے پوری طرح سورج کو ڈھک لیا۔ ذیل کی تصویر سے اس کا

اخباری رپورٹ کے مطابق، کچھ دیر کے لئے زمین پر تاریکی چھا گئی۔ ٹمپریچر اتنا گر گیا کہ لوگ سردی سے کانپنے لگے۔ جانوروں کو خوف زدہ حالت میں ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، وغیرہ۔

قدیم زمانہ میں گرہن کے ساتھ عجیب عجیب توہماتی عقیدے وابستہ تھے۔ اسلام نے پہلی بار اس کو توہمات سے نکالا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ گرہن خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس لئے جب گرہن پڑے تو تم خدا کو یاد کرو۔

سورج گرہن کیا ہے۔ سورج گرہن در اصل یہ ہے کہ زمین اور سورج کے درمیان چاند اس طرح آجائے کہ وہ پوری طرح سورج کو ڈھک لے۔ یہ ایک نہایت عجیب واقعہ ہے کیو نکہ دونوں کے سائز میں بہت زیادہ فرق ہے۔ چاند کا ڈایا میٹر صرف ۲۱۶۰ میل ہے۔ جبکہ سورج کا ڈایا میٹر ۸۶۵۰۰۰ میل ہے۔ یہ کتنا غیر معمولی حساب ہے کہ اتنے زیادہ فرق کے با وجود خلا میں دونوں ایک ایسی پوزیشن پر آجائیں کہ دیکھنے والوں کے لئے دونوں کا سائز بالکل برابر ہوجائے۔ اسی طرح اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب سورج کو چاند ڈھک لے اور وقتی طور پر زمین پر اندھیرا چھاجائے تو انسان سوچے کہ خدا اسی حالت کو اگر مستقل بنادے تو زمین پر بسنے والے انسانوں کا کیا حال ہو گا۔ اس طرح گرہن پر غور کرنا آدمی کو خالق کی عظمت کا احساس دلاتا ہے، اور اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

یہ ۲۵ اکتوبر کی صبح ہے۔ سورج کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی ہے۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔ باہر کھلی جگہ پر بہت سی کاریں کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس میں کئی کاریں عین اسی شکل کی ہیں جن کو ہندوستان میں ماروتی سوزو کی کار کہتے ہیں۔ اسی سوزوکی کا اطالوی ماڈل ہیں۔ جاپان یہاں سے بہت دور ایشیا کا ایک ملک ہے۔ مگر اس کا صنعتی نفوذ یورپ کے ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ جدید دور کی اس چیز کا کرشمہ ہے جس کو مواصلات (communication) کہا جاتا مواصلاتی قوت نے جدید دور میں پوری دنیا کو ایک عالمی بستی (global village) کی حیثیت دے دی ہے۔ آج زمین کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر آپ ساری دنیا میں اپنا کام پھیلا سکتے ہیں۔

یہ ایک عظیم قوت ہے جو موجودہ دنیا میں اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ دین حق کے حاملین اس کو استعمال کر کے خدا کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچا دیں، یہاں تک کہ حدیث کی

وقت ایک عجیب و غریب فتنہ مسلم دنیا میں پیدا ہو گیا۔ انھوں نے دنیا کی قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر ان کے خلاف جگہ جگہ سیاسی اور مادی لڑائی چھیڑ دی۔ جس کمیونیکیشن کو دعوت کے لئے استعمال کرنا تھا وہ کمیونیکیشن عداوت کے لئے استعمال ہونے لگا۔

یہ احمقانہ لڑائی آج اسلام اور ملتِ اسلام کے نام پر ساری دنیا میں جاری ہے۔ عالمی میڈیا نے اس کو مزید توسیع دے کر ایک ایک شخص تک اسے پہنچا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان انتہائی غیر ضروری طور پر نفرت اور توحش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ نفرت اور توحش کی فضا میں حق کی پیغام رسانی کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

اس احمقانہ لڑائی میں عملی طور پر اگرچہ صرف تھوڑے سے مسلمان شریک ہیں، مگر بقیہ مسلمان یا تو اس کے بارہ میں چپ ہیں یا اس کو جہاد بتانے میں مشغول ہیں۔ اس طرح سارے کے سارے مسلمان براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ بلا شبہ ایک جرم ہے، بلکہ شاید سب سے بڑا جرم۔

چیچنیا کے بھی تین صاحبان اس کانفرنس میں آئے ہیں۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہم لوگ دوطرفہ مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اس وقت حال یہ ہے کہ چیچنیا کی بستیاں کی بستیاں اور شہر کے شہر تباہ ہو چکے ہیں۔ مگر عالمی ایجنسیوں کو ہم سے کوئی دلچسپی نہیں۔ حتی کہ عالمی میڈیا میں ہماری خبریں تک نہیں آتیں۔ دوسری طرف ہمارے جو لیڈر ہیں وہ آج بھی جنگ کی باتیں کرتے ساری تباہی کے باوجود وہ خاتمہ تک جنگ (fight to finish) کا نعرہ لگاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک چیچنیا، بوسنیا، کشمیر اور اس طرح کے دوسرے تمام مقامات کا کیس ایک ہی کیس ہے۔ ہر جگہ کے لوگوں پر وہ حدیث صادق آتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہیں کرے گا اس کو نادان کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا۔

میں نے کہا کہ ان تمام جگہوں پر یکطرفہ اعلانِ آزادی سے پہلے لوگوں کو ہر قسم کے مواقع

ملے ہوائے تھے۔ البتہ ایک مسئلہ تھا جس کو آپ سیاسی مسئلہ کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے سیاسی مسئلہ کو ختم کرنے کے لئے اقدام کسیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ چھوٹا مسئلہ بڑھ کر بہت زیادہ بڑا مسئلہ

میں نے کہا کہ اس دنیا میں برائی سے خالی زندگی (evil-free life) ممکن نہیں۔ آدمی کو چھوٹی برائی (lesser evil) اور بڑی برائی (greater evil) کے درمیان انتخاب کرنا میں نے اٹلی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ نارتھ اٹلی زیادہ خوش حال ہے اور ساؤتھ اٹلی اس کے مقابلہ میں کم خوش حالی کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ اگر ساؤتھ اٹلی کے لوگ اس مسئلہ کو لے کر آزادی اور علیحدگی کی پر تشدد تحریک چلائیں تو ان کا مسئلہ تو حل نہیں ہوگا، البتہ وہ زیادہ بڑے اور زیادہ سنگین مسائل میں مبتلا ہو جائیں گے۔

حاضرین نے میری بات سے اتفاق کیا۔ اٹلی کے ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے میری آنکھ آپ نے نہایت سادہ طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو ہمیں بتا دیا۔ چیچنیا سے آنے والے مسلمانوں میں ایک صاحب وہ تھے جو عربی زبان بخوبی بول سکتے تھے۔ چنانچہ ان سے کافی گفت گو ہوئی ۔ وہ ایک ریلیجس سنٹر کے چیئرمین ہیں۔ وہ ادھیڑ عمر کے تھے۔ نے اپنا نام مفتی محمد بتایا :

Mufty Magomed-Khaji Albogachiev (Tel. 873-22-24312)

انھوں نے بتایا کہ موجودہ جنگ سے چیچنیا کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ میں بستیاں اور ش تباہ ہوگئے ہیں۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بظاہر ہر روسی کی قیمت پر چیچنیا کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تم ہمارے سیاسی اقتدار کو چیلنج نہ کرو۔ اس کے بعد ہم تم کو ہر طرح کی آزادی دینے کے لئے تیار ہیں۔ اقتصادی، تعلیمی، مذہبی، سماجی ہر میدان میں تم کو عمل کی پوری آزادی ہوگی۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہمارے خلاف تم اپنی موجودہ مسلح جنگ بند کرو۔

میں نے ان کو حضرت عائشہ کی روایت سنائی جس میں وہ فرماتی ہیں کہ ما خیر رسول الله صلی الله علیه وسلم بین امرين الا اختار ايسر هما۔ میں نے کہا کہ

آپ کے بیان کے مطابق، آپ کے لئے چیچنیا میں ایسر کا انتخاب موجود ہے، پھر آپ ایسر کا انتخاب کیوں لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعب (قوم) تو اختیار ایسر کے لئے تیار ہے۔ ہمارے سیاسی لیڈر کہتے ہیں کہ مکمل آزادی سے کم کوئی چیز ہمارے لئے قابل قبول نہیں

میں نے کہا کہ یہ تو واضح طور پر پیغمبر اسلام کی سنت کے خلاف ہے۔ پھر پیغمبر کی ثابت شدہ سنت کو چھوڑ کر آپ کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہمارے لیڈر سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں وہ ہمارے لئے اور ہماری قوم کے لئے موت ہے ہے(ھوموت لنا ولشعبنا)یہ یہ گفت گو مفتی محمد صاحب سے ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۵ کی شام کو فلارنس

ایک پرجوش مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ملک میں مسلمانوں کی طرف سے چلائی جانے والی سیاسی آزادی کی تحریک میں شامل ہیں۔ میں نے کہا کہ سیاسی آزادی کی تحریک موجودہ حالات میں سراسر تباہ کن ہے۔ اور بالفرض اگر آپ کی مطلوب آزادی مل جائے تب بھی آخر کار وہ آپ کو مایوسی کے سوا کچھ اور دینے والی نہیں ۔

میں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ۱۹۴۷سے پہلے جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی تو، ہمارے لیڈر پر جوش طور پر یہ نعرہ لگاتے تھے کہ غلامی یا آز ادی، دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرلو:

Printed page