slavery or freedom, choose between the two
Al-Risala, February 1997, pp. 27–30
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جب ہندوستان آزاد ہو گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ابتدائی مفروضہ ہی غلط تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ غلامی اور آزادی کے درمیان انتخاب کا معاملہ نہ تھا، بلکہ دیشی سیاست دانوں کی لوٹ یا بیرونی سیاست دانوں کی لوٹ میں انتخاب کا معاملہ تھا۔ چنانچہ بظاہر آزادی کے پچاس سال بعد بھی اصل مسئلہ (لوٹ) کا خاتمہ نہیں ہوا۔ جو ہوا وہ صرف یہ کہ پہلے بیرونی ملک کے لوگ ہمارے اوپر اپنے سیاسی حوصلہ کی تکمیل کر رہے تھے، اب خود اپنے ملک کے لوگ اپنے سیاسی حوصلوں کے لئے ہم کو آزمائش گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جہاں تک عام ہندوستانی کا سوال ہے، وہ آج بھی
پہلے ہی کی طرح مصائب وشدائد کا شکار ہے۔
میں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی انتخاب کسی اور دو چیز کے درمیان ہوتا ہے۔ سطحی لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ کسی اور دو چیز میں ان کے لئے انتخاب کا موقع ہے۔ حالاں کہ وہ فرضی تمناؤں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہی آپ جیسے لوگوں کا حال بھی ہے۔ ایک روز گھومتے ہوئے ہم لوگ ایک مقام پر پہنچے۔ یہاں دریا کے کنارے ایک خوبصورت رنگین پھولوں کی کیاریاں، ہرے بھرے درخت، مخصوص گھاس سے اگائے ہوئے لان، فطرت کے اتھاہ حسن کی صورت میں ہمارے سامنے پھیلے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ کیا کوئی انسان ان پھولوں اور ان درختوں کو پیدا کر سکتا ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ یہ صرف خدا ہی کی شان ہے کہ وہ ایسی حسین دنیا کی تخلیق کر سکے۔
پھر میں نے سوچا کہ جنت تو اس گارڈن سے بے حساب گنا زیادہ خوبصورت اور با معنی پھر کون ہے جو جنت کو اس طرح بنا سکے جس طرح دنیا میں ایک شخص اپنے لئے گھر بنا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان نہ تو جنت کی تخلیق کر سکتا، اور نہ کسی بڑے سے بڑے انسان کا عمل جنت کی قیمت بن سکتا ہے۔ جنت کی ناقابل بیان حد تک حسین دنیا تو صرف رحمت ِخداوندی سے ملے گی جس کو ملے گی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے : الا ان يتغمدنی الله برحمة منه وفضله۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی صرف جنت کا طالب بن سکتا ہے۔ وہ جنت کا خالق نہیں بن سکتا۔ جنت کوئی ایسی چیز نہیں کہ ایک آدمی اپنے اعمال کا پرس لے کر بازار آخرت میں پہنچے اور وہاں اپنی پسند کا ایک جنتی مکان اپنے لئے خرید لے۔ جنت اس آدمی کے لئے ہے جو حقیقی معنوں میں طالب جنت ہونے کا ثبوت دے دے۔ کیوں کہ خریدار جنت بننا یااپنے آپ کو مستحق جنت ثابت کرنا تو کسی انسان کے لئے ممکن ہی نہیں۔
فلارنس کی تین روزہ کانفرنس کے مختلف سشن مختلف مقامات پر ہوئے۔ بار بار کسی نئی اور شاندار بلڈنگ میں لے جائے جاتے ۔ ہر عمارت میں وقت کے جدید ترین انتظامات موجود ہوتے اور جدید قسم کے ہال میں معیاری انتظام کے تحت کارروائی انجام پاتی۔
یہ تمام عمارتیں کسی نہ کسی چرچ کے ماتحت ادارے سے متعلق ہوتی تھیں۔ یہی حال ہندوستان سمیت ، ساری دنیا میں عیسائی حضرات کا ہے۔ انھوں نے ہر ملک میں اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ بنا رکھی ہے۔ کسی بھی ملک میں وہ سیاسی اقتدار کے براہ راست مالک نہیں ہیں۔ مگر غیر سیاسی شعبوں میں انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کر لی ہے جو انھیں اپنے مذہبی وجود کے استحکام اور بقاء کے لئے درکار تھی۔
اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ یہی عیسائی قدیم زمانہ میں اس پوزیشن کے مالک نہ تھے۔ پھر آج وہ کیوں کر اس کے مالک بن گئے۔ میری سمجھ میں آیا کہ جدید نگری انقلاب نے انھیں اس کا موقع دیا ہے۔ قدیم زمانہ میں بادشاہی حکومت ہوا کرتی تھی۔ صرف ایک شخص کی ملکیت ہوتی تھیں، اور وہ بادشاہ کی شخصیت تھی۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی افکار میں جو انقلاب آیا ہے اس نے سیاسی ادارہ کو گھٹا کر صرف انتظامیہ (administration) کے درجہ پر پہنچادیا ہے۔ نظم و قانون کے محدود دائرہ کے سوا تمام شعبے عوام کے لئے کھل
عیسائی حضرات نے اسی جدید امکان سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے انتظام ملکی کے معاملہ کو سیاسی لوگوں کے لئے چھوڑ دیا۔ اور اس کے سوا جو شعبے تھے ، ان میں خاموشی کے ساتھ جدوجہد کر کے ان پر قابض ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر ملک میں ان کے شاندار ادارے قائم ہیں۔ ہمارے دانشور اس صورت حال کو چرچ کی سازش قرار دیتے ہیں۔ یہ ہمارے دانشوروں کی سطحیت اور ان کی خطرناک بے خبری کا نتیجہ ہے نہ کہ فی الواقع کسی سازش اور مؤامرۃ کا نتیجہ۔
۲۵ اکتوبر کی صبح کو سشن میں میری نشست سے ملی ہوئی نشست پر ایک مسیحی پیشوا بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کالے رنگ کے نہایت شاندار لباس میں ملبوس تھے۔ ہاتھ میں ایک خوبصورت قسم کی کالی روزاری (تسبیح) تھی۔ خود بھی نہایت شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے گلے میں خوبصورت زنجیر کے ساتھ ایک سونے کی صلیب لٹک رہی تھی۔ اس پر ایک دبلا اور ستم رسیدہ انسان مصلوب حالت میں لیٹا ہوا دکھائی دیتا تھا جو ان کے عقیدہ کے مطابق ، حضرت مسیح
کی شبیہ تھی۔ یہ ایک شاندار زندگی تھی جو انھوں نے مظلوم اور مصلوب مسیح کے نام پر حاصل کر رکھی تھی۔
آج کل ہر مذہب عالی شان تجارت کا ذریعہ بن گیا ہے۔ خود مسلمانوں میں بھی مذہبی لوگ مذہب کے نام پر شاندار زندگیاں حاصل کئے ہوئے ہیں۔
آئندہ آنے والے دور کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، میں تمہارے بارے میں محتاجی سے بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تمہارے اوپر کشادہ کر دی جائے گی (فتح الباری ۶/ ۲۹۸ ) اس حدیث میں مجھے صنعتی دور کی پیشین گوئی نظر آتی ہے۔ یہ دراصل صنعتی دور کا ایک ظاہر ہ ہے کہ ہر طرف دولت کی فراوانی ہو گئی ہے۔ ہر آدمی کے گرد سامان دنیا کا ڈھیر لگ رہا ہے، اور اسی طرح مذہبی شخصیتوں کے گرد بھی۔ اس اعتبار سے یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ایک دلیل ہے۔ میرے ہوٹل میں جو لفٹ لگی ہوئی ہے ، اس کے اندر لکھا ہوا ہے: