Al-Risala · January 1997

روزہ اور دعا

Al-Risala, January 1997, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں رمضان کے روزہ کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ کے درمیان دعا کی آیت ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ : اور جب میرے بندے تم سے میری بات پوچھیں تو میں بالکل قریب ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں۔ امید ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے (البقرہ ۱۸۶)

یہ ترتیب بتاتی ہے کہ روزہ اور دعا کے درمیان خاص تعلق ہے۔ انسان عین اسی وقت ایک دعا گو انسان ہوتا ہے۔ روزہ دعا کے ساتھ خصوصی مناسبت

دعا کیا ہے۔ دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار ہے۔ وہ نفسیاتی سوز کا ایک لفظی اظہار روزہ یہی تڑپ اور یہی سوز و گداز پیدا کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر اخبات کی وہ کیفیت پیدا کرتا ہے جس سے آدمی کے اندر سچی دعا ابلنے لگے۔

شام کو روزہ کی تکمیل کے وقت جب آدمی یہ کہتا ہے کہ خدا یا میں نے تیرے حکم سے روزہ رکھا، اور تیرے حکم سے میں نے افطار کیا، تو یہ صرف کچھ الفاظ نہیں ہوتے۔ یہ دراصل ایک روحانی تجربہ ہوتا ہے جو لفظوں میں ڈھل جاتا ہے۔ اسی طرح مہینہ بھر روزہ آدمی کے اندر عجز و گداز کی کیفیات پیدا کرتا ہے اور اس کے تحت آدمی بار بار خصوصی دعاؤں کا تجربہ کرتا یہاں تک کہ روزہ کا مہینہ پورا ہو جاتا ہے، اس وقت خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ خدا یا تو میرے بقیہ تمام مہینوں کو روزہ کے اس مبارک مہینہ کے تابع کردے۔ خدا یا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کر دی، اب تو بھی میری دعاؤں کو قبول کر لے۔

روزہ گویا دعا کی تیاری ہے۔ روزہ آدمی کو چارج کرتا ہے تاکہ وہ حقیقی طور پر دعا کے قابل ہو سکے۔ وہ مطلوب کیفیات کے ساتھ خدا کو پکارنے لگے۔

خدا اپنے بندوں سے قریب ہے ، ہر چیز سے زیادہ قریب ۔ خدا اپنے بندے سے اتنا زیادہ قریب ہے کہ وہ ان کی پکار کو سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ قرآن میں خدا کا یہ تعارف کسی بندے کے لئے بے حد سکون بخش ہے کہ وہ اپنے رب کو براہِ راست پکار سکتا ہے ، وہ اپنے رب سے براہِ راست اپنا مدعا بیان کر سکتا ہے۔ خدا بلاشبہ اپنے بندوں کے قریب ہے۔ مگر یہ قربت کسی بندے کے لئے ذاتی واقعہ اسی وقت بنتی ہے جبکہ اس پر بندگی کے حقیقی تجربات گزریں۔ جب اس پر احتیاج کی حالت روزہ آدمی کو اسی موافق دعا تجربہ سے گزارتا ہے۔ وہ قربتِ خداوندی کی کیفیات پیدا کر کے آدمی کو سچا دعا گو بناتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دعا احساسِ بندگی کے تحت نکلنے والے الفاظ کا نام ہے ، اور روزہ اسی احساسِ بندگی کو پیدا کرنے کی سالانہ تربیت ۔ پانی کو نعمت کے طور پر محسوس کرنا اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ آدمی کو پیاس لگے اور ٹھنڈا پانی اس کی رگوں کو تر کر دے۔ جس آدمی پر پیاس کا تجربہ نہ گزرے وہ پانی کی نعمت کا احساس بھی نہیں کرسکتا۔ روزہ آدمی کے اندر پیاس پیدا کرتا ہے تاکہ جب وہ پانی پئے تو وہ پانی کی نعمت پر سچا شکر ادا کرسکے۔ روزہ آدمی کو احتیاج کی حالت کا احساس دلاتا ہے ، تاکہ جب اس کی احتیاج پوری ہو تو وہ بھرپور کیفیات کے ساتھ کہہ سکے کہ خدایا ، تیرا شکر ہے کہ تو نے میری ضرورتوں کی تکمیل کا اتنا اعلیٰ انتظام فرمایا۔

Printed page