Al-Risala · February 1997

Capienza 4 persone

Al-Risala, February 1997, pp. 30–35

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اطالوی زبان میں وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں capacity 4 persons لکھا جائے گا۔ اسی طرح قوموں کے اختلاط سے ہر زبان میں الفاظ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ہر زبان اپنے حسب حال تلفظ بدل کر دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے اندر داخل کر لیتی ہے۔ یہ عمل ہر زبان میں ہمیشہ جاری رہا ہے اور آج بھی جاری ہے۔

یہی معاملہ کلچر کا بھی ہے۔ کلچر کوئی مطلق یا مقدس چیز نہیں۔ وہ قوموں کے اختلاط سے بنتا ہے۔ کلچر کو قانون کے ذریعہ ڈھالا نہیں جا سکتا۔ کلچر ہمیشہ تاریخی عمل کے دوران بنتا ہے۔ میں جو لوگ "کلچرل نیشنلزم" کا نعرہ لگاتے ہیں وہ تاریخ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی اتna طاقت ور نہیں کہ وہ تاریخ کے اوپر حکمراں بن جائے۔ ۲۵ اکتوبر کی سہ پہر کو پروگرام کا وہ آخری جزء تھا جس کو کانفرنس کے منتظمین دعائے امن (Prayer for Peace) کہتے ہیں۔ سب سے پہلے ہر مذہب کے لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں پہنچائے گئے جہاں وہ مطلق کے مطابق عبادت کر کے امنِ عالم کے لئے دعا کریں ۔

فلارنس کے مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین ہزار ہے۔ پورے اٹلی میں مسلم شہریوں کی تعداد تقریباً چالیس ہزار ہے۔ ان میں سے بیشتر افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین سال پہلے یہاں ایک مکان خرید کر اس کو مسجد کی صورت دی گئی ہے ۔ ہم لوگ اسی مسجد میں پہنچائے گئے۔ یہاں، ہم نے عصر اور مغرب کی نماز ادا کی۔ مرا کو کے شیخ علوی نے امامت کی۔ نماز کے بعد شیخ العلوی نے ممبر پر بیٹھ کر عربی میں ایک تقریر کی۔ تقریباً پچاس مسلمان اس میں موجود تھے۔ کے کنارے دیوار سے لگ کر بہت سے مسیحی نوجوان کھڑے ہوئے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ رعایت سے ایک صاحب نے تقریر کا ترجمہ اطالوی زبان میں کیا۔ شیخ العلوی نے کہا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ ہمارا کام قوموں سے مسالمہ ہے نہ کہ محاربہ۔ مسلمان جب دوسری قوموں کو دشمن قرار دے کر ان سے لڑیں گے تو وہ بھی ان سے لڑیں گے۔ اس لئے مسلمانوں کو ٹکراؤ سے دور رہنا ہے۔ آخر میں تقریر کا خلاصہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اسلام کے داعی بنیں ( يجب على المسلمين ان يكونوا دعاة للاسلام) اس کے بعد ایک اور عالم نے مختصر تقریر کی۔ انھوں نے بھی ٹکراؤ کے بجائے پُر امن دعوت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان بنیادی طور پر سلامتی کے داعی ہیں (المسلمون هم اساس دعاة السلام)

مغرب کی نماز سے فراغت کے بعد پیدل سفر شروع ہوا۔ ہر مذہب کے لوگ آکر ملتے رہے ایک بڑے قافلہ کی صورت میں ہم لوگ ایک وسیع میدان میں لے جائے گئے۔ دونوں طرف مقامی لوگ بڑی تعداد میں کھڑے ہوئے تالیاں بجا رہے تھے۔ نہایت وسیع پنڈال بنایا گیا تھا۔ ٹی وی کے تین چینل مسلسل تمام کارروائیوں کی تصویر کشی اور صدا بندی کر رہے تھے۔ امن کے بارہ میں تقریر اور دعا کے بعد تمام مشارکین نے امن کی اپیل پر دستخط کئے ۔ آخر میں سب باہم مل مل کر ایک دوسرے کو امن کی تمنائیں پیش کرتے رہے۔

اس کارروائی کی تکمیل کے بعد تمام لوگ گاڑیوں پر کار دینال کی رہائش گاہ میں پہنچائے یہ رہائش گاہ ایک شاہی محل کی مانند تھی۔ یہاں شام کا کھانا اور آخری ملاقاتیں ہوئیں۔

اس قسم کا سفر ممکن ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ حتیٰ کہ یہی کار اور یہی ڈرائیور بھی ہم ہندوستان میں اتنا تیز رفتار سفر نہیں کر سکتے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی سڑکیں اور وہاں کی سڑکوں کا نظام اتنا اچھا نہیں جیسا کہ یورپ کے ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زندگی کے سفر کا سارا معاملہ ڈرائیور کے اوپر منحصر ہوتا ہے۔ ڈرائیور جس طرح چاہتا ہے زندگی کی گاڑی کو چلاتا ہے۔ تم کسی نہ کسی طرح ڈرائیور کی سیٹ پر قبضہ کر لو، اور اس کے بعد زندگی کی گاڑی اسلام کی منزل کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ بہت سے سطحی لوگ اس نظریہ کی طرف دوڑ پڑے۔ انہوں نے پرشور جدوجہد کے ذریعہ سیاسی ڈرائیور کو دھکیل کر اسٹیئرنگ پر قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ کئی مسلم ملکوں میں ہوا۔ مصر، ایران، پاکستان، افغانستان وغیرہ۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ ڈرائیور سمیت پوری گاڑی دلدل میں پھنس کر رہ گئی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلم مفکرین اپنے ناقص فہم کی بنا پر اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ گاڑی اور ڈرائیور دونوں اگر ہمیں حاصل ہو جائیں، تب بھی اصل مسئلہ سڑک اور سڑک کے نظام کا جب تک ایسا نہ ہو کہ سڑک بھی اچھی ہو اور سڑک کا نظام بھی، اس وقت تک منزل مقصود کی طرف کامیاب سفر ممکن نہیں۔

فلارنس سے روم آتے ہوئے ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میرے ہاتھ کی آٹو میٹک گھڑی (Seiko) ساڑھے نو بجے بند ہو گئی۔ کتنا ہی ہلایا مگر وہ دوبارہ نہیں چلی۔ روم پہنچا تو یہاں میرے قیام کا انتظام ہوٹل ہالی ڈے ان (Holiday Inn) میں تھا۔ یہاں میں کمرہ نمبر ۳۰۴ میں ٹھہرا۔ میں نے گھڑی ہاتھ سے نکال کر میز پر رکھ دی۔ اور اس احساس کے ساتھ سو گیا کہ ابھی دہلی پہنچنے کے لئے کئی دن باقی ہیں اور بقیہ سفر میں مجھے گھڑی کے بغیر رہنا پڑے گا۔ حالانکہ گھڑی کی مجھے ہر وقت ضرورت پیش آتی ہے۔ میں نے اکثر اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ تین چیزیں میری زندگی کا لازمی

حصہ ہیں ــــ گھڑی ، مسلم اور مسواک ۔

صبح اٹھا تو وقت کا کوئی اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے انٹر کام (in-house telephone) پر رپشن ڈیسک سے وقت دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ چھ بجکر ۳۰ منٹ۔ میں نے مایوسانہ انداز میں اپنی گھڑی اٹھائی اور اس کی سوئی کو گھمانا شروع کیا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ سوئی جب ساڑھے چھ پر پہنچی تو وہ دوبارہ حسب معمول چلنے لگی۔

اس قسم کا ایک اور واقعہ سفر سے پہلے پیش آیا۔ سفر شروع کرنے سے چند دن پہلے میرے دانت میں سخت درد شروع ہو گیا۔ میں پریشان ہوا کہ اس حالت میں سفر کس طرح ہوگا۔ ۸ اکتوبر کو اللہ سے دعا کرتے ہوئے کروسین کی ایک گولی کھائی۔ عجیب بات ہے کہ اس کے بعد درد ختم ہو گیا اور اللہ کے فضل سے ابھی تک دوبارہ درد نہیں ابھرا۔ حالاں کہ کروسین کی ایک گولی کے بعد میں نے اس کے لئے کچھ اور نہیں کیا تھا۔

۲۶ اکتوبر کی صبح کو جب گھڑی دوبارہ چلنے لگی تو بے اختیار دل سے دعا نکلی کہ خدایا، میری خصوصی مدد فرما۔ تو میری بند گھڑی کو دوبارہ چلا دے۔ تو میرے ابھرے ہوئے درد کو دوبارہ اچھا کر دے۔ تو میرے مضمحل قوی کو دوبارہ تندرست جسم میں تبدیل کر دے۔ تو میرے بگڑے ہوئے معاملات کو ایک ایک کر کے درست فرمادے۔

نویں صدی عیسوی میں مسلمان روم کی سرحد تک پہنچ گئے تھے۔ اٹلی کے ایک حصہ میں عیسائیوں کے درمیان باہمی لڑائی شروع ہو گئی۔ اس وقت خود سسلی کے ایک گروہ نے تیونس کے مسلم حاکم سے مداخلت کی درخواست کی۔ چنانچہ ۷۸۲ء میں بنو اغلب کی فوج سسلی (صقلیہ) میں داخل ہوئی اور وہاں امن و امان قائم کیا۔ سسلی میں مسلمانوں کی حکومت تقریبا ڈھائی سو سال تک رہی۔

اس کے بعد مسلم فوج نے اٹلی کے جنوبی حصہ میں پیش قدمی کی۔ وہ کامیابی کے ساتھ روم کی دیواروں تک پہنچ گئی۔ مگر اسی درمیان سسلی میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔ گیارہویں صدی کے نصف ثانی میں نارمن (Normans) نے مسلمانوں کو شکست دے کر سسلی پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد روم کی طرف ان کی پیش قدمی بھی ختم ہو گئی۔ مسلمانوں کی اس پسپائی کا سبب

نارمن کی فوجوں سے زیادہ خودان کی باہمی لڑائیاں تھیں۔ اسی زمانہ میں بنو اغلب اور مصر کے فاطمیوں میں خونریز جنگ چھڑ گئی۔ اس نے مسلم محاذ کو کمزور کر دیا۔

روم کے ہوٹل کے کمرہ میں پڑھنے کی مختلف چیزیں تھیں۔ انھیں میں سے ایک ہوٹل کا میگزین (Weekender Plus) تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہالی ڈے ان کی شاخیں ساری دنیا میں ہیں اور ہر جگہ آپ ہمارے ہوٹل میں آرام کے ساتھ ٹھہر سکتے ہیں۔

اس میگزین میں رنگین تصویروں کے ساتھ مختلف ملکوں کے خوبصورت مناظر دکھائے گئے تھے جو سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ اس میں بلجیم، فرانس، چیکوسلاویکیا، جرمنی، اسپین، برطانیہ، مالٹا، اٹلی، پولینڈ وغیرہ کے ساتھ مڈل ایسٹ اور مراکو اور ترکی کا تذکرہ بھی چھپا ہوا تھا۔ اس میں استانبول کی تاریخی مسجد اور بحرین اور عرب امارات کی جدید وضع کی مسجدوں کی تصویریں بھی موجود تھیں۔ مگر ۶۰ صفحہ کے اس پرچہ میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کا نام تک بھی کہیں موجود نہ تھا۔

میں نے سوچا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جن نادان لیڈروں نے ملک کے بٹوارہ کی تحریک چلائی، اس کے بجائے وہ اس پورے خطہ کے لئے وفاقی نظام کی تحریک چلاتے تو ہماری تاریخ بالکل اس کے بعد ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ سب مل مل ایک عظیم ملک بناتے۔ اور یہ وفاقی ملک عالمی نقشہ پر اتنی اہمیت اختیار کرتا کہ کسی کے لئے ممکن نہ ہوتا کہ وہ اس کو نظر انداز کر سکے۔

اٹلی میں اسی سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا ہے۔ پہلے اٹلی بہت سی آزاد اور خود مختار ریاستوں کا ایک کمزور ملک تھا۔ اس کے بعد یہاں کچھ مدبر پیدا ہوئے جنھوں نے یہاں اتحاد کا اندولن چلایا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اٹلی کی صورت میں ایک بڑا ملک عالمی نقشہ پر اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔

۲۶اکتوبر کو روم میں آنکھ کے ایک ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت طے تھا۔ مجھے اپنی عینک کے سلسلہ میں ان سے مشورہ کرنا تھا۔ شہر کا بیشتر حصہ طے کرکے تقریباً پون گھنٹہ میں ہم لوگ تین بجے ڈاکٹر کے یہاں پہنچے۔ اس وقت میں حسب معمول ایک عینک لگائے ہوئے تھا۔ جب میں ان

کے دفتر میں داخل ہوا انہوں نے فورا میری آنکھ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ فوری طور پر میں سمجھ نہ سکا کہ وہ کس لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ میں سمجھا کہ شاید وہ معانقہ کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ انھوں نے فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ میری عینک اتار کر اس کو فوراً کمپیوٹرائزڈ مشین میں رکھ کر اس کا نمبر چیک کیا۔ موجودہ عینک کا نمبر معلوم کرنے کے بعد مختلف مشینوں کے ذریعہ میری آنکھ کا معائنہ کرتے رہے۔

یورپ میں عام طور پر یہی طریقہ رائج ہے، لوگ نہ اپنا وقت ضائع کرتے اور نہ آپ کا وہ ٹھیک مقرر وقت پر ملتے ہیں اور کسی رسمی تمہید کے بغیر فی الفور اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

۲۶ اکتوبر کی شام کو ہالی ڈے ان میں کھانے کی میز پر ڈاکٹر پابا سے ملاقات ہوئی: Dr Antonell Paba (Tel. 39-6-5592504)

انھوں نے اٹلی اور یورپ کی زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ کارکن عورتوں کی تعداد اٹلی میں (اور دوسرے ملکوں میں بھی) بہت بڑھ گئی ہے۔ بچے پیدا کرنا پسند نہیں کرتیں ۔ چنانچہ ہمارے یہاں پیدائش کی شرح دن بدن گھٹ رہی ہے۔ خاص طور پر اٹلی میں پیدائش کی شرح پورے یورپ میں سب سے کم ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہماری موجودہ سوسائٹی میں نوجوان کم ہو گئے ہیں اور بوڑھے لوگ زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے کہا کہ اب کتا بیں پڑھنے کا رواج بہت کم ہو گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ اب ٹی وی دیکھتے ہیں۔ " ورلڈ نیوز" کے عنوان کے تحت جب وہ خبریں سنتے ہیں تو وہ غلط طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ساری دنیا کے بارہ میں واقفیت حاصل کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف بعض خبریں ہوتی ہیں نہ کہ کل خبریں۔ مجھ سے سی این این کے ایک آدمی نے خود کہا کہ ہم زندگی کا صرف جزئی حصہ دکھاتے ہیں:

Printed page