We have to learn to live with problems.
Al-Risala, February 1997, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے میرے نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں۔ جب مسائل ختم ہوں گے تو زندگی بھی ختم ہو جائے گی : When problems have finished, may be also life has. میں روم میں پوپ جان پال دوم سے ملنا چاہتا تھا۔ مگر ان دنوں ان کی طبیعت خراب تھی اس لئے ملاقات کا انتظام نہ ہوسکا۔ پوپ کا لفظ لاطینی پاپا سے بنا ہے جس کے معنی باپ کے ہوتے ہیں۔ تیسری صدی سے لے کر بعد کی صدیوں تک یہ لفظ عام پریسیٹ یا بشپ کے لئے بولا جاتا تھا۔ مگر نویں صدی عیسوی سے پوپ کا لفظ مخصوص طور پر صرف روم ( ویٹیکن سٹی) کے ہیڈ کے لئے استعمال ہونے لگا۔
روم میں ایک صاحب نے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ پوپ جان پال دوم کی اہمیت وہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ سب سے چھوٹے ملک کے ہیڈ ہیں، بلکہ اسی کے ساتھ وہ سب سے بڑی غیر حکومتی تنظیم کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں :
Do you know what is the significance of Pope John Paul II. It is not that he is the head of the smallest country. But at the same time he is also the head of the largest non-governmental organization. ۳۰ سال پہلے سکنڈ ویٹیکن کونسل نے طے کیا تھا کہ دوسرے مذاہب کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کیا جائے۔ اس وقت اس سے مراد زیادہ تر یہودی اور پروٹسٹنٹ تھے۔ کو ہند و اور بدھسٹ وغیرہ بھی اس میں شامل کر لئے گئے۔ اب بھی اگرچہ رومن کیتھولک چرچ کے مذہب کے لوگوں سے ڈائیلاگ جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اس اسلام سے وہ لوگ سب سے زیادہ
ڈائیلاگ ممکن نہ ہوسکا۔ واضح ہو کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پچھلے ۲۰ سال سے ڈائیلاگ میں خود بھی کئی ڈائیلاگ میں شریک ہو چکا ہوں۔ پہلا ڈائیلاگ جس میں میں شریک ہوا وہ ویٹیکن اور علماءِ اسلام کے درمیان فروری۱۹۷۶میں طرابلس میں ہوا تھا۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پچھلے ہزار سال سے ویسٹ ایشیا عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ ابتدائی صدیوں میں شام وفلسطین کے مقدس مقامات پر قبضہ کا مسئلہ اس کا سبب بنا ہوا تھا۔ اس کے بعد برٹش ایمپائر کے زمانہ میں اس نزاع کا مرکز نہر سویز کا علاقہ بن گیا۔ کیوں کہ صنعتی انقلاب نے نہر سویز کو لائف لائن (Life-Line) کی حیثیت دے دی تھی ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اب عرب پٹرول اس کا سبب ہے۔ اور دوبارہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کی صنعتی قوموں کے لئے پٹرول لائف بلڈ کی حیثیت
روم میں ویٹیکن کے زیرِ انتظام ایک بڑا کتب خانہ ہے۔ یہاں مختلف موضوعات پر عربی مخطوطات اور کتابوں کا بھی ایک ذخیرہ کیٹلاگ نمبر ۴ ۱۳۸ (عرب) کے تحت محفوظ ان میں ابوالحسن بن العطار (وفات ۲۷۲، ہجری) کی کتاب ” ادب الخطیب“ کا ایک نادر قلمی نسخہ ہے۔ یہ قلمی نسخہ اپنی قدامت اور دوسری امتیازی خصوصیات کی بنا پر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ غالباً اس نوعیت کا کوئی دوسرا نسخہ کہیں اور موجود نہیں۔ الجزائر کے ڈاکٹر محمد اسلیمانی نے ملاقات کے دوران بتایا کہ انھوں نے ” ادب الخطیب“ کے مذکورہ قلمی نسخہ کی ایک فوٹو کاپی حاصل کرکے اس کو جدید انداز میں ایڈٹ کیا ہے، اور اب وہ اس کو چھپو اکر شائع کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کی خواہش ہے کہ چھپنے سے پہلے میں اس پر ایک نظر ڈال لوں اور اس کے لئے کم از کم تین صفحہ کا ایک دیباچہ لکھوں۔ ان کے شدید اصرار کی وجہ سے میں انکار نہ کر سکا۔ چنانچہ واپسی کے بعد کتاب کے ٹائپ شدہ مسودہ کو پڑھا اور ۳۱ اکتوبر کو ۳ صفحہ کا ایک عربی دیباچہ تیار کر کے بذریعہ فیکس ان کو روانہ کر دیا گیا۔
ابو الحسن ابن العطار امام نووی (شارح مسلم) کے خاص شاگرد تھے۔ زمانہ طالب علمی کا
بڑا حصہ انھوں نے امام نووی کی صحبت میں گزارا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اسلوبِ تحریر پر نووی کا اسلوب غالب آگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سوانح نگار ان کو النووی الصغیر
"ادب الخطیب" اصلاً ایک روایتی انداز کی کتاب ہے۔ جس میں خطیب جمعہ کے بارہ میں ضروری آداب اور شرعی احکام کو بیان کیا گیا ہے۔ (الّفتُہ فى آداب الخطیب وما يتعلق به من الاحكام الشرعية) اس ضمن میں خطباء کو نصیحت کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ جمعہ کے خطبہ میں ترغیب و ترہیب کے لئے ضعیف اور موضوع حدیثوں کو بیان کرنے سے سخت پر ہیز کرنا چاہئے ( وليحذر كل الحذر من ایراد الاحادیث الموضوعة و الضعيفة لقصد الترغيب ... والترهيب۔ صفحہ ٩٦) اور یہ کہ خطبہ میں مسجع عبارتوں ، پیچیدہ نحوی ترکیبوں اور نامانوس الفاظ کا پر تکلف استعمال ایک ناپسندیدہ بات ہے ( ويكره تكلف السجع فيها وتحري دقائق الاعراب ووحشى اللغۃ صفحہ ۸۲) عجیب بات ہے کہ کئی صدیوں بعد آج بھی جمعہ کے خطبے ان "مکر وہات" سے پاک نہ ہو سکے۔
خطبہ جمعہ کے بعد عموماً سامعین اور تمام اہلِ اسلام کے حق میں دعائے خیر کی اس سلسلہ میں ابوالحسن بن عطار کہتے ہیں کہ اس موقع پر حکام وقت کے لئے بھی صلاح و توفیق کی دعا کرنی چاہئے خواہ وہ ظالم اور شریعت کے خلاف عمل کرنے والے کیوں ( ويستحب الدعاء للحکام ، و ان كانو اجائرین مخالفين ، ينبغي ان يدعى لهم بالصلاح والتوفيق والتسديد صفحہ ۱۰۰)
آجکل مسلمانوں کے درمیان ایک نظریہ بہت مقبول ہے۔ وہ یہ کہ انسان اس زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ خاص طور پر اسلام کے سیاسی شارحین اس کی زبردست حمایت کرتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول انسان کی یہی حیثیت یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دنیا میں انسان کا مقصد تخلیق یہ ہے کہ وہ حکومت الہیہ کے قیام کے لئے جدوجہد کرے۔ مگر خود اس نظریہ کے حق میں اب تک قرآن و سنت سے کوئی براہ راست دلیل نہیں دی جا سکتی۔
ابتداً یہ نظریہ عباسی دور میں وضع ہوا۔ اس وقت محدود طور پر صرف مسلم حکمراں کو خلیفۃ اللہ کہا جاتا تھا۔ بعد کو اس میں یہاں تک توسع کیا گیا کہ ہر انسان کو خدا کا خلیفہ کہا جانے لگا۔ تاہم محقق علماء نے تقریبا ہر زمانہ میں اس بے اصل نظریہ کی مخالفت کی ہے۔ اور یہ اعلان کیا ہے کہ مسلم حکمراں اور اسی طرح عام انسان کو خدا کا خلیفہ کہنا مطلق (اما العلماء فقالوا: لا يجوز اطلاق خليفة الله على القائم بامور المومنين - صفہ (۱۰)، علامہ بغوی نے شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ خلیفہ کا مطلب بعد میں آنے والا۔ انسان یا حکمراں کو خلیفہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے پیش رو کے بعد آتا ہے اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ (ويسمى خليفة لانه خلف الماضي قبله وقام مقامه ۔ بحوالہ ادب الخطیب صفحہ (۱۰۸) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کا نظریہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ اس کی بنیاد نہ کتاب وسنت میں ہے نہ علما اسلف کے مسلک میں۔
ڈاکٹر محمد السلیمانی نے " ادب الخطیب کی تحقیق میں زبر دست محنت کی ہے۔ کے شروع میں انھوں نے ایک مقدمہ شامل کیا ہے جس میں مستند تاریخی حوالوں سے کتاب اور صاحب کتاب کا مفصل تعارف کرایا ہے۔ اس کے علاوہ تقریبا ہر صفحہ پر نہایت مفید حواشی (تعلیقات) لکھی ہیں۔ جن کی وجہ سے کتاب کی افادیت دوگنی ہوگئی ہے۔ مصنف کی ایک رائے یہ تھی کہ جمعہ کا خطبہ صرف عربی زبان میں ہونا چاہئے۔ سریانی ، فارسی ، عبرانی یا کسی دوسری عجمی زبان میں خطبہ دینا درست نہیں۔ (فلو خطب بالعجمية : الفارسية او العبرانية او السريانية او غيرها من اللغات لم تصح صفحہ (۱۰۳) اس تبصرہ کرتے ہوئے فاضل محقق نے علامہ نووی کے حوالے سے لکھا ہے کہ عربی میں خطبہ دینا مستحب ہے مگر وہ لازمی شرط نہیں کیونکہ خطبہ کا اصل مقصد وعظ و نصیحت ہے اور یہ مقصد ہر زبان کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔ (مستحب ولا يشترط، لان المقصود الوعظ ، وهو حاصل بكل اللغات - صفحہ (۱۰۴) اپنی موجودہ شکل میں یہ کتاب بلا شبہ روایتی اسلامی لٹریچر د مکتبہ التراث الاسلامی) میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔
ڈاکٹر لیونارڈو (۲۰ سال ) فطری طور پر نہایت صالح انسان ہیں۔ اس بار وہی میرے گائیڈ تھے۔ اس لئے ان سے کافی باتیں کرنے کا موقع ملا۔ کار میں یہاں سے وہاں جاتے ہوئے میں ہمیشہ انہیں اسلام کے تعمیری پہلوؤں کے بارہ میں کچھ نہ کچھ بتاتا رہتا انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی بار میں آپ سے مل چکا ہوں۔ مگر اس بار میں نے آپ کو بہت زیادہ جانا اور بہت زیادہ آپ سے متاثر ہوا۔ آپ واقعی ایک مسلم مولانا ہیں۔ انھوں نے میرے بچوں کے بارہ میں دریافت کیا۔ میں نے ڈاکٹر ثانی اثنین کا تعارف انھوں نے پوچھا کہ ثانی اثنین کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا کہ دو میں کا دوسرا (second of the two) انھوں نے کہا کہ پھر میں آپ کا تیسرا شاگرد ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ تین میں سے تیسرے (third of the three) ہیں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ ۲۶ اکتوبر کو میرے ہوٹل کے کمرہ میں مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو میں نے کہا کہ آج رات میں نے خواب دیکھا کہ جیسے کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے:
You are striving to bring out a revolution of peace. And Dr. Leonardo is the third of the three in this noble cause. وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس سے پورا اتفاق ہے۔ فخر کے ساتھ تین میں کا تیسرا بننے پر راضی ہوں۔
روم میں میرا قیام دو دن کے لئے تھا ۔ ۲۷اکتوبر کی شام کو مجھے ایئر انڈیا کے ذریعہ دہلی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ میں نے یہ پروگرام بنایا کہ ہوٹل ہالی ڈے ان سے ایسے وقت میں نکلوں کہ روم کی مسجد اور اسلامک سنٹر کو دیکھتے ہوئے وہیں سے سیدھے ایئر پورٹ چلا جاؤں ۔ اس کے مطابق ڈاکٹر لیونارڈو کے ساتھ ۱۱ بجے دن میں ہوٹل سے روانگی
دوپہر کو میں روم کی مسجد اور اسلامک سنٹر میں تھا۔ یہ مسجد یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اسی کے ساتھ وہ غیر معمولی طور پر شاندار ہے۔ یہ مسجد بھی ہے اور اسی کے ساتھ اسلامک سنٹر بھی۔ اس کے باہر بورڈ پر اس کے بارہ میں ساری تفصیل لکھی ہوئی ہے۔
ایک خوبصورت تختی پر لکھا ہوا ہے کہ اس کا افتتاح ۲۱۔ جون ۱۹۹۵ کو ہوا ۔ جس علاقہ میں یہ مرکز واقع ہے وہ روم کا نہایت عمدہ علاقہ ہے۔ دور تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ مسجد کا کیمپس غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ اس کے اندرونی حصہ (ہال) کو میں نے ناپا تو وہ چوڑائی میں ۷۰ قدم اور لمبائی میں ۹۰ قدم تھا۔
مسجد کے اندر پہنچ کر میں نے دورکعت نماز پڑھی اور دعائیں کیں۔ باہر نکلا تو ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ وہ پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کا نام کمانڈر صفدر جمیل تھا۔ وہ فرنچ نیوی میں کام کرتے ہیں۔ مسجد کے اندر اور باہر غیر معمولی پہرہ تھا۔ کافی پولیس دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ کاش مسلمان ان سے کہہ سکتے کہ تم لوگ جاؤ یہاں مسجد کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔
برمنگھم سے نکلنے والے ایک ماہنامہ صراط مستقیم میں اس کی خبر کی سرخی یہ تھی : مرکز عیسائیت میں منارہ اسلام ۔ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نوائے وقت (۲۲ اگست ۱۹۹۵) میں اس کی بابت ایک مضمون تھا جس کا عنوان یہ تھا: ’’عیسائیت کے قلب میں اسلام کی فتح مضمون میں شکایت کی گئی تھی کہ روم کے اسلامی مرکز کی تعمیر پر مغربی اخبارات اور اٹلی کے بعض حلقوں نے ’’منفی اور شر انگیز پروپیگنڈہ‘‘ کی صورت میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اس کو مغرب کے لئے ایک خطرہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسلامی مرکز اسلامی انتہا پسندوں نے بنایا ہے، اور یہ کہ ’’نئی تعمیر ہونے والی مسجد میں جب اذان دی جائے تو اس کی آواز باہر نہیں سنائی دینا چاہئے اور یہ کہ آئندہ وہ روم میں کوئی دوسری مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ ایک مسلم انگریزی مضمون کی سرخی یہ تھی :