Christians protest over Rome mosque
Al-Risala, February 1997, pp. 41–44
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض عیسائی حلقہ کا یہ رد عمل دراصل خود ان پر جوش مسلمانوں کے عمل کا نتیجہ ہے جو روم میں مسجد یا اسلامی مرکز کے قیام کو ’’عیسائیت کے قلب میں اسلام کی فتح‘‘ کا نام دے رہے اس زبان میں قومی بڑائی کا انداز جھلک رہا ہے۔ جب کہ اسلام تواضع کا مذہب ہے یہ فطرت کا اصول ہے کہ برتری کے جواب میں برتری پیدا ہوتی ہے اور تواضع کے جواب میں تواضع۔
اسی انداز صحافت کی قیمت مسلمان بوسنیا میں ادا کر رہے ہیں۔ مگر بار بار کے تلخ تجربات کے باوجود انھوں نے اپنا یہ انداز ابھی تک تبدیل نہیں کیا۔
اس مرکز کا افتتاح ایک پر رونق تقریب میں سعودی عرب کے شاہ فہد کے بھائی امیر سلمان بن عبدالعزیز اور اٹلی کے صدر (Oscar Luigi Scaltaro) نے مشترکہ طور پر افتتاحی تقریب میں اٹلی کے کم و بیش تمام شہروں سے آئے ہوئے مسلمانوں کے علاوہ مختلف اسلامی ملکوں کے سفراء، سعودی عرب کے وزیر برائے دینی امور ڈاکٹر عبداللہ ترکی، رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر احمد محمد علی، مجلس شوریٰ سعودی عرب کے نائب رئیس ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے شرکت کی۔ اس تقریب کے تمام پروگرام کو نہ صرف اٹلی کے ٹیلی ویژن نے براہ راست نشر کیا بلکہ امریکی سی این این، ایم بی سی اور این بی سی، نے بھی سٹیلائٹ کے ذریعے ساری دنیا میں اس پروگرام کی تفصیلات نشر کیں۔
یورپ کے اس عظیم اسلامی مرکز کی تعمیر تیس ہزار مربع میٹر زمین پر عمل میں لائی گئی ہے۔ مسجد کے اندرونی اور بیرونی ہال میں بیک وقت چار ہزار مسلمان نماز ادا کر سکتے ہیں۔ ازیں اس میں دس کلاسوں پر مشتمل ایک دینی مدرسہ، ایک وسیع کانفرنس ہال، اسلامی میوزیم مرکز کے دفاتر، امام مسجد اور دیگر اسٹاف کے رہائشی فلیٹ شامل ہیں۔ اس مسجد کو شاہراہ عام سے ملانے کے لئے سعودی عرب نے پندرہ ملین ریال کے خرچ پر ایک خصوصی ذیلی سڑک بھی تعمیر کر کے حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ روم کی مسجد اور اسلامی مرکز کے بارہ میں ایک سبق آموز بات یہ ہے کہ عیسائیوں کے ایک گروپ کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔ تاہم اٹلی کی حکومت نے اس کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ آخر میں انتہا پسندوں نے یہ شرط لگائی کہ مسجد کے مینار کی بلندی مقامی گرجاوں کی بلندی سے کم رکھی جائے۔ انھوں نے کہا کہ روم میں چرچ سے اونچی مسجد بنانے سے چرچ کا تقدس مجروح ہوگا اور اس سے عیسائیوں کے دینی جذبات مجروح ہوں گے۔ اگرچہ اس مسجد کی پشت پر سعودی عرب سمیت بیشتر عرب ممالک کی حمایت تھی۔ اس کے باوجود عیسائیوں کی اس شرط کو مان لیا گیا۔ چنانچہ مسجد کی وسعت کے اعتبار سے
اس کا مینار نسبتاً بہت کم اونچا ہے۔
مسلمان اس حقیقت پسندی کو عام طور پر یورپ اور امریکہ میں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے وہ وہاں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر دوسرے ملکوں میں بھی یہی حقیقت پسندی اختیار کر لی جائے تو یہاں بھی شاندار اسلامی زندگی کی تعمیر کے تمام مواقع ان کے لئے کھل
روم کی مسجد اور اسلامی مرکز کو دیکھنے کے بعد وہاں سے ہم لوگ سیدھے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ روم ایئرپورٹ پر میں نے وضو کر کے عصر کی نماز پڑھی۔ اٹھ کر چند قدم چلا تھا کہ ایک صاحب میرے رفیق ڈاکٹر لیونارڈو کے پاس کھڑے ہوئے نظر آئے ۔ کو پہچانتا نہ تھا۔ غالباً وہ اٹلی سے تعلق رکھتے تھے۔ ممکن ہے انہوں نے مجھ کو کانفرنس میں مگر میں ان سے واقف نہ تھا۔ میں نماز پڑھ کر اٹھا تو انھوں نے کسی تمہید کے بغیر میری طرف دیکھتے ہوئے انگریزی میں کہا :
You are the only religious man all over the world. مذکورہ آدمی نے جب یہ بات کہی تو وہ اور ڈاکٹر لیونارڈو قریب قریب کھڑے ہوئے تھے۔ سمجھا کہ وہ شاید ڈاکٹر لیونارڈو کے ساتھی ہیں۔ مذکورہ جملہ کہنے کے بعد ہی وہ وہاں سے میں نے ڈاکٹر لیونارڈو سے پوچھا کہ یہ کون صاحب تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں بھی ان کو مذکورہ جملہ کے سوا کوئی اور بات انھوں نے مجھ سے بھی نہیں کہی۔ روم ایئرپورٹ پر میرے ساتھ وہی قصہ پیش آیا جو اکثر میرے ساتھ پیش آتا ہے۔ کے اعتبار سے میں اپنے آپ کو آخری حد تک "غیر اہم" انسان سمجھتا ہوں۔ اسی احساس کے تحت یہاں میں نے عام باتھ روم میں وضو کیا اور کھلی زمین پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی۔ دیر بعد ایک صاحب آئے۔ انھوں نے مجھ کو لے جا کر وی آئی پی لاؤنج میں بٹھا دیا۔ نہ صرف خاطر تواضع کا انتظام کیا بلکہ میرا ٹکٹ اور پاسپورٹ لے کر ساری ضروری کارروائی مکمل کر دی۔
اگر میں پہلے سے جانتا تو لاؤنج میں پہنچ کر نماز پڑھتا۔ کیوں کہ یہاں ہر طرح کی عمدہ سہولت
مگر شاید اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس کے لئے دلالین پر سجدہ نہ کروں، بلکہ اس کے بجائے کھلی زمین پر سجدہ کروں۔ ایئرپورٹ پر جن صاحب نے تمام انتظامات کئے وہ ایئر انڈیا کے پی آر او مسٹر کے جی دیش مکھ تھے :
K.G. Deshmukh, Rome (Tel. 65010741,. 5663483)
ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا طریقہ کیا یورپ کی سوسائٹی میں قابل قبول ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ میں نے کہا انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ اس طرح نوجوانوں کو زندگی کا تجربہ حاصل ہوگا۔ میں نے کہا کہ تجربہ تو نہیں حاصل ہوگا۔ البتہ یہ نوجوانوں میں سطعیت اور نفس پرستی پیدا کرے گا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ ہاں آپ کی بات درست ہے اور عملاً آج یہی ہو رہا ہے۔ روم سے ایئر انڈیا کی فلائٹ 81 کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ ایئر پورٹ سے نکل کر جہاز کے قریب پہنچا تو اس کی مخصوص سیڑھی کے پہلے زینہ پر لکھا ہوا تھا — سیڑھی جب تک اپنی آخری پوزیشن تک نہ پہنچ جائے اس پر قدم نہ رکھیں :