Al-Risala · February 1997

We are number 4 in the sequence.

Al-Risala, February 1997, pp. 44–50

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی تین جہاز جب اڑ چکے ہوں گے تب ہم کو رن وے ملے گا۔ میں نے سوچا کہ اگر ہمارا پائلٹ

اس ترتیب کی پروا نہ کرے ۔ وہ کہے کہ میں ترتیب میں نمبر نہیں بن سکتا۔ میں تو نمبر ایک ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ اپنا جہاز رن وے پر دوڑا دے تو کیا ہوگا ۔ وہ خود بھی تباہ ہوگا اور دوسرے جہازوں کے لیے بھی تباہی کا سبب بن جائے گا ۔

جہاز میں کچھ مخصوص سامان ڈیوٹی کے بغیر اصل قیمت پر ملتا ہے ۔ ڈیوٹی فری کی گاڑی مسافروں کے درمیان گھومتی ہوئی میرے پاس پہنچی تو اس کے آدمی نے کہا : " آپ کو ڈیوٹی فری شاپ سے کچھ خرید لینا ہے "۔ اس قسم کی غلطیاں ہر آدمی اپنی غیر مادری زبان میں کرتا ہے ۔ بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو غیر مادری زبان میں اس قسم کی غلطیاں نہ کریں۔ میں لوگ انگریزی زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر بیشتر ہندوستانیوں کی زبان میں اسی قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں جس کی ایک مثال مذکورہ اردو جملہ میں نظر آتی ہے ۔ روم میں ایک شخص نے مجھ سے ایک انگریزی لطیفہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ انگریزی زبان برطانیہ میں پیدا ہوئی، امریکہ میں اس نے ترقی کی۔ افریقہ پہنچ کر وہ بیمار ہوئی اور انڈیا میں وہ

English language was born in Great Britain, grew in USA, became sick in Africa, and died in India. میں نے کہا کہ اس قسم کے لطیفوں میں ہمیشہ مبالغہ ہوتا ہے۔ اور یہ لطیفہ بھی یقیناً مبالغہ سے خالی نہیں ۔

روم سے دہلی آتے ہوئے راستہ میں انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹ্রিبیون کا شمارہ ۲۷اکتوبر اس کے صفحہ اول کی پہلی خبر بوسنیا کے بارہ میں تھی۔ یہ بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی دردناک کہانی تھی جو صفحہ اول سے شروع ہوکر دوبارہ صفحہ ۸ پر ختم ہوئی تھی ۔ اس میں جو باتیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ سرب فوجیں بوسنیا کے مسلمانوں کو پکڑ کر لے جاتی ہیں ۔ ان کو وحشیانہ طور پر مارتی پیٹتی ہیں اور بہت سے لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہیں ۔ ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ایک گانا گائیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ —— یہ ملک کس کا ہے۔ کا ملک ہے۔ وہ ہمیشہ سے سربوں کا تھا اور ہمیشہ انھیں کا رہے گا :

Whose country is this? This is Serbian land. It always was, and it always will be. بوسنیا کے جو شیلے مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے حالات کا لحاظ کئے بغیر آزادی کا اعلان کر دیا۔ مزید یہ کہ اس یکطرفہ اعلان آزادی میں انھوں نے اپنے پڑوسی کرواتیوں کو ساتھ بوسنیا میں اب مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل اسی جذباتی سیاست کے نتائج ہیں۔

جہازوں میں خاص طور پر اوپر کے درجہ میں، شراب نہایت فیاضی کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے۔ ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ایک بوتل لے کر آیا۔ اس نے کہا؛ آپ کو شراب پینا مجھے اس آدمی کو جواب دینا عجیب سالگا۔ میں نے سوچا کہ کاش مسلمانوں کی تصویر ساری دنیا میں یہ ہوتی کہ وہ شراب نہیں پیتے ۔ اور جہاز کا عملہ بتائے بغیر پیشگی طور پر محض صورت دیکھ کر جان لیتا کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ شراب نہیں پئے گا۔ مگر بدقسمتی سے آج مسلمان کی یہ تصویر دنیا میں نہیں۔

میری سیٹ کے سامنے دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں بڑے تاجر تھے اور آپس میں تجارتی گفت گو کر رہے تھے۔ کبھی کبھی کوئی لفظ میرے کان میں بھی آجاتا تھا۔ اس طرح کے الفاظ :

1 million dollars, 60 million dollars, 100 million dollars. کبھی یہ لفظ سنائی دیا کہ اس میں بہت فائدہ ہے۔ میں نے سوچا کہ آج ہر آدمی صرف ایک چیز کی طرف دوڑ رہا ہے، اور وہ دولت ہے۔ دولت ہی آج کے انسان کا حقیقی خدا ہندو بد نام ہیں کہ انھوں نے دولت کو “لکشمی “ کے نام پر خدا بنالیا ہے اور اس کو مگر آج کون ہے جو دولت کا پرستار نہ ہو۔ حتیٰ کہ مسلمان بھی اس معاملہ میں دوسروں سے پیچھے نہیں۔

میرے دائیں طرف کی سیٹ پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ دیر تک ہم لوگوں میں کوئی کلام نہیں ہوا۔ آخر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں۔

جب میں نے کانفرنس کا نام لیا تو انھوں نے پوچھا کہ کیا آپ امام ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر انھوں نے کہا کہ کیا آپ پر یسٹ ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ وہ مسلم امام اور عیسائی پر یسٹ سے واقف تھا۔ اس نے فرض کر لیا کہ مجھے انھیں دو میں سے کوئی ایک ہونا چاہئے۔ اسی طرح ہر آدمی اپنے ذہنی سانچے لحاظ سے دوسروں کے بارہ میں رائے قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رائیں واقعہ کے مطابق نہیں ہوتیں۔ پو چھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک پرائیویٹ ایئر کمپنی کے مالک ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً دس پرائیویٹ کمپنیاں ہیں۔ ان کی کمپنی کا نام یہ ہے: Jagson International Limited. یہ نام انھوں نے اپنے نام پر بنایا ہے۔ ان کا نام ہے جگدیش گپتا۔ ان کا ایک لڑکا ہے۔ نے اپنے نام کا جگ لے کر جیگ سن (Jagson) بنا لیا۔ اس طرح ان کی کمپنی کا نام بظاہر یورپی دکھائی دینے لگا۔

نام رکھنے کا یہ طریقہ مسلمانوں میں بھی اسی طرح رائج ہے۔ چنانچہ آجکل مدرسوں اور مسلم اداروں کے نام کثرت سے اس ڈھنگ سے رکھے جاتے ہیں جو عربوں جیسے دکھائی دیں۔ میں یہ رواج کسی اسلامی داعیہ سے نہیں آیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ "پٹرول ڈالہ" کے ظہور کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس کا رواج ہمارے یہاں موجود نہ تھا۔ اپنی عادت کے مطابق میں مسٹر جگدیش سے ان کے کے اپنے میدان کی باتیں کرنے لگا۔ ان سے میں نے پوچھا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے جہاز ہمیشہ ٹھیک وقت پر چلتے ہیں۔ جب کہ انڈین ایئر لائنز کے جہاز اکثر لیٹ ہو کر روانہ ہوتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ دیر میں اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔ نے پوچھا کہ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ "پرائیویٹ کمپنیوں کو سر دو الو کرنا ہے۔ انڈین ایئر لائنز کو معلوم ہے کہ اس کو سرکار سے سبسڈی ملے گی۔ مدد کا یقین نہ ہو تو آدمی سخت چوکنار ہتا ہے۔ مگر جس آدمی کو مدد کا بھروسہ ہو وہ کبھی چوکنانہیں رہے گا۔ مسٹر گپتا کی کمپنی اپنے جہاز فیڈر روٹ (feeder routs) پر چلاتی ہے۔ بتایا کہ پرائیویٹ کمپنیوں میں کچھ وہ ہیں جو ٹرنک روٹ پر اپنے جہاز چلاتی ہیں۔

طور پر گھاٹے پر چل رہی ہیں۔ مگر جو کمپنیاں فیڈر روٹ پر اپنے جہاز چلاتی ہیں وہ نفع پر چل رہی ہیں۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ٹرنک روٹ پر ان کا مقابلہ انڈین ایئرلائنز کہ فیڈر روٹ پر اس قسم کا مقابلہ نہیں۔ اگر ہے تو باہمی طور پر پرائیویٹ کمپنیوں سے ہے نہ کہ انڈین ایئر لائنز سے۔

دہلی اور روم میں گھڑی کے لحاظ سے ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق تھا۔ دہلی میں جب میں اترا تو یہاں کی گھڑی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے کا وقت بتا رہی تھی۔ جب کہ اس وقت روم کی گھڑیوں میں ایک بجے رات کا وقت تھا۔ اسی طرح دونوں میں موسم کا بھی غیر معمولی فرق تھا۔ اکتوبر کو ہمارا جہاز دس ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتا ہوا جب دہلی پہنچا تو یہاں کا ٹمپریچر اس وقت ۳۰ جب کہ روم میں اترنے کے وقت جہاز کے اندر اعلان کیا گیا کہ باہر کا درجہ حرارت ۱۰

۲۸ اکتوبر ۱۹۹۵ کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے میں دہلی ایئر پورٹ پر اترا۔ جہاز میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جو اب بھی میرا پیچھا کر رہا تھا۔ میرے کیبن میں ایک مسافر تقریباًمیری عمر کا تھا۔ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر باتھ روم میں گیا۔ کچھ دیر کے بعد اچانک کوئی بھاری چیز گرنے کی آواز دیکھا تو وہ آدمی بے ہوش ہو کر گر پڑا تھا۔ جہاز کا عملہ اور ایک ڈاکٹر دیر تک اس کو دوبارہ ہوش میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کو ایک سلنڈر کے ذریعہ مزید آکسیجن دیا گیا۔ دہلی کے قریب پہنچ کر وہ ہوش میں آ گیا۔ تاہم دہلی ایئر پورٹ پر اس کو اسٹریچر کے ذریعہ اتارا گیا اور غالباً سیدھے اسپتال لے جایا گیا۔

میں نے سوچا کہ اس مسافر کا دنیا کا سفر ممکن ہے کہ آخرت کا سفر بن گیا ہو۔ یہی امکان ہر ایک کے لئے ہے۔ شاعر کی زبان میں یہاں ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ کا معاملہ ہے۔ اگر چہ ایسے کسی واقعہ کو دیکھ کر لوگ اس کو دوسرے کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو ایسے واقعات میں اپنی تصویر دیکھیں، جو آنے والے دن کو پیشگی طور پر خود اپنے لئے جان لیں۔

سفر سے واپسی کے بعد میں نے محترم جناب حبیب بھائی صاحب (حیدر آباد) کے

نام ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو لکھا گیا تھا۔ ذیل میں اس خط کا مضمون نقل کیا جا رہا ہے۔

"حال ہی میں اٹلی گیا تھا۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۵ کو یہاں سے روانہ ہوا اور ۲۸ اکتوبر کو واپسی اس مدت میں روم اور فلارنس وغیرہ میں خطابات اور ملاقاتوں کا موقع ملا۔ موقع پر آپ بہت یاد آئے ۔ اسی یاد کے زیر اثر یہ خط لکھ رہا ہوں۔

فلارنس میں ایک سو چرچ اور مسیحی ادارے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑے چرچ نے اپنے مخصوص ہال میں میری تقریر رکھی تھی۔ اس کا موضوع تھا : اسلام کیا ہے۔ میں نے انگریزی میں جس کا ترجمہ فوری طور پر یونیورسٹی کے ایک پر وفیسر نے اٹالین زبان میں کیا۔ کے بعد کافی دیر تک سوال وجواب کا پروگرام رہا۔

اس پروگرام کے بعد ایک تعلیم یافتہ عیسائی نے کہا کہ اب تک ہم اسلام کے بارہ میں اتنا ہی جانتے تھے جتنا ہم نے ٹی وی میں دیکھا اور سنا تھا ۔ آج پہلی بار معلوم ہوا کہ اسلام کیا ہے۔ ایک اور عیسائی نوجوان نے کہا کہ آپ کی تقریر سن کر میرے اندر یہ شوق ابھرا کہ میں اسلام کا مطالعہ کروں۔ اسلام واقعی جاننے کے قابل ہے۔

یہ تجربات کوئی سادہ تجربات نہیں ہیں۔ وہ آپ کو نہایت اعلیٰ روحانی کیفیات سے آشنا ان تجربات کے دوران آدمی یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی کر رہا ہے، وہ من انصاری الی اللہ (الصف ۱۴) کی پکار کا جواب بن رہا یہ بلا شبہ تھرل کا ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر آپ کی یا در اس طرح آئی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ صلاحیت دی آپ اس اعلیٰ روحانی کیفیت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ میرے دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس عظیم تر دولت کے کمانے کے لئے منتخب کرلے کیوں کہ اس سے بڑی دولت اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

اردو Rs. تاریخ دعوت حق تذکیر القرآن جلد اول 200/- مطالعہ سیرت تذکیر القرآن جلد دوم 200/- ڈائری جلد اول اللہ اکبر 45/- کتاب زندگی پیغمبر انقلاب 50/- انوار حکمت مذہب اور جدید چیلنج 45/- اقوال حکمت عظمت قرآن 35/- تعبیر کی طرف عظمت اسلام 50/- تبلیغی تحریک عظمت صحابہ 7/- تجدید دین دین کامل 60/- عقلیات اسلام الاسلام 45/- مذہب اور سائنس ظہور اسلام 50/- قرآن کا مطلوب انسان اسلامی زندگی 30/- دین کیا ہے احیاء اسلام 35/- اسلام دین فطرت راز حیات 50/- تعبیر ملت صراط مستقیم 40/- تاریخ کا سبق خاتونِ اسلام 60/- عبادات کا مسئلہ سوشلزم اور اسلام 40/- انسان اپنے آپ کو پہچان اسلام اور عصرِ حاضر 30/- تعارفِ اسلام نار جہنم 5/- خلیج ڈاری 12/- رہنمائے حیات 80/- مضامین اسلام 55/- تعدد ازواج - ہندستانی مسلمان 25/- روشن مستقبل 8/- صوم رمضاں 20/- علم کلام 25/- اسلام کا تعارف 35/- طبار اور دور جدید - سیرت رسول 8/- ہندوستان آزادی کے بعد -/1 مارکسزم تاریخ جس کو 7/- رد کرچکی ہے 7/- سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ -/4 منزل کی طرف 5/- الاسلام یتحدی 5/- 5/- اسلام پندرھویں صدی میں 40/- الربانیہ 8/- سچائی کی تلاش 12/- راہیں بند نہیں 45/- کاروانِ ملت Rs. آڈیوکیسٹ 4/- انسان اپنے آپ کو پہچان 7/- ایمانی طاقت 30/- حقیقت حج 25/- حقیقت ایمان 4/- پیغمبر اسلام 7/- اتحادِ ملت 25/- اسلامی تعلیمات 25/- حقیقت نماز 10/- سچائی کی کھوج 7/- سبق آموز واقعات 25/- اسلام دور جدید کا خالق 25/- حقیقت روزہ 8/- آخری سفر 10/- زلزلہ قیامت 35/- حدیثِ رسول 25/- حقیقت زکوة 8/- اسلام کا پرچہ 7/- حقیقت کی تلاش 85/- سفرنامہ (غیر ملکی اسفار) 25/- حقیقت حج سفیر نامہ ( فلکی اسفار )

میوات کا سفر تعبیر کی غلطی دین کی سیاسی تعبیر - پیغمبر اسلام 35/- آخری سفر 30/- اسلامی دعوت 25/- خدا اور انسان 70/- حل یہاں ہے 20/- سچا راستہ 20/- دینی تعلیم 7/- حیات طیبہ 25/- سنتِ رسول 8/- پیغمبر اسلام کے جہان ساتھ 5/- 25/- میدانِ عمل 7/- راستے بند نہیں 7/- 25/- رسول اللہ کا طریقِ کار 8/- جنت کا باغ 7/- 25/- اسلامی دعوت کے 10/- ہنو پتنی वाद اور اسلام 12/- جدید امکانات 9/- انہناس کا سبق 10/- 25/- اسلامی اخلاق 8/- اسلام ایک سوا بھاوک مذہب 8/- 25/- اتحادِ ملت 8/- اجول بھویش 7/- 25/- تعبیرِ ملت 8/- پوتریچیوں 7/- 25/- نصيحت لقمان 3/- منزل کی اور 7/- باغ جنت 3/- اسلام ایک عظیم جدوجد 50/- فکر اسلامی 3/- طلاق اسلام میں

Printed page