مبنی بر قلب
Al-Risala, March 1998, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
الا وان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح سن لو کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ الجسد کلہ ، و اذا فسدت فسد الجسد وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اور جب کلہ ، الا وھی القلب۔ وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو کہ گوشت (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۵۲/۱) کا یہ ٹکڑا دل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کی اصلاح کا حقیقی طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح جسمانی اعتبار سے آدمی اس وقت صحت مند ہوتا ہے جب کہ اس کا دل ٹھیک کام کر رہا ہو۔ اسی طرح کسی انسان کی دینی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح اس وقت ہوتی ہے جب کہ اس کا فکر درست ہو، اس کا شعور صحیح طور پر کام کرنے لگے۔
تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں — اصلاحی اور انقلابی۔ اصلاحی تحریک فرد کی تبدیلی کو اپنا نشانہ بناتی اس کے مقابلہ میں جن تحریکوں کو انقلابی تحریک کہا جاتا ہے ، ان کا نشانہ سسٹم (اجتماعی نظام) کو بدلنا ہوتا ہے۔ اصلاحی تحریک کے مطابق ، افراد کے سدھار سے اجتماعی زندگی میں سدھار آتا ہے۔ اس کے برعکس انقلابی تحریکوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ نظام پر قابض لوگوں کو ہٹا کر اس کے اوپر اپنا کنٹرول حاصل کیا جائے تاکہ لوگوں کو بدلا
موجودہ زمانہ میں تبلیغی تحریک مبنی بر قلب تحریک ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری اکثر تحریکیں مبنی بر نظام کے اصول پر قائم ہیں۔ مبنی بر نظام تحریکوں کا اصول فطرت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحریکوں کا آخری نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ وہ آندھی اور طوفان کی طرح اٹھیں اور پھر کسی مثبت نتیجہ کے بغیر ختم ہو جائیں اس دنیا میں کوئی نتیجہ صرف کسی ایسی تحریک ہی سے نکل سکتا ہے جو مبنی بر قلب کے اصول پر اٹھائی گئی ہو، جو ایک ایک انسان کو اپنا نشانہ بنائے ، جو ایک ایک انسان کے اندر فکر و شعور کی روشنی پیدا کرے، جو ایک ایک انسان کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ اس کو خدا پرست انسان بن کر دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ اسلامی تحریک وہی ہے جو اسلامائزیشن آف مین کے فطری اصول پر جاری کی جائے۔ اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کے نام پر چلائی جانے والی تحریک غیر فطری بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ اس کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔