فطری حفاظت
Al-Risala, March 1998, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
مائک وولڈرج (Mike Wooldridge) بی بی سی، نئی دہلی کے بیورو چیف ہیں۔ وہ ۱۶ جنوری ۱۹۹۸ء کو اپنی ٹی وی ٹیم کے ساتھ ہمارے دفتر میں آئے اور اپنی انگریزی نشریات کے لیے راقم الحروف کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔
ان کا ایک سوال یہ تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو عام طور پر مسلم مخالف پارٹی سمجھا جاتا ہندوستانی پارلیمنٹ کا بارھواں الیکشن جو فروری ۱۹۹۸ء میں ہونے والا ہے اگر اس میں بی جے پی جیت جائے اور مرکز میں حکومت بنا لے تو کیا آپ اس کو مسلمانوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ کوئی پولیٹکل پارٹی جو الیکشن جیت کر برسرِ اقتدار آتی ہے وہ صرف چند سال کے لیے آتی ہے اور اس کا اقتدار کسی بھی حال میں مطلق اقتدار نہیں ہوتا۔ یہاں ایک باضابطہ دستور ہے۔ ہر حکومت کو اس دستور کے تحت کام کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس سے آزاد رہ کر۔
انھوں نے کہا کہ ہندوستانی دستور میں حکمران جماعت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اسی سے فائدہ اٹھا کر اندرا گاندھی نے ۱۹۷۷ء میں یہاں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، جس کی وجہ سے اندرا گاندھی کو من مانی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ اسی طرح اگر بی جے پی حکومت پا کر یہاں ایمرجنسی نافذ کر دے تو خود اسی دستور کے مطابق اس کو لامحدود اختیارات حاصل ہو جائیں گے، اور وہ مسلمانوں کے خلاف جو چاہے گی کر سکے گی۔
میں نے کہا کہ اس قسم کا سنگین واقعہ کبھی قابل اعادہ نہیں ہوتا۔ آپ ایٹم بم صرف ایک بار گرا سکتے ہیں، بار بار ایٹم بم گرانا ممکن نہیں :
Such kind of holocaust is not repeatable in human history. You cannot drop an atomic bomb again and again. میں نے کہا کہ اسی اصول پر یقین کی بنا پر میں نے یہ جرأت کی تھی کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو جب اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی تو میں نے یہ کہا کہ اب اس ملک میں کوئی اور مسجد ڈھائی نہیں جائے گی۔
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کو کاماسمجھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ کا نہیں ہے بلکہ یہ فل اسٹاپ ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ ڈھانے والے لوگ اپنے لحاظ سے بہت سی اور مسجدوں کی فہرست بنائے ہوئے تھے، مگر فطرت کے قانون نے ان کی فہرست کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا، دوبارہ ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا کہ وہ کسی اور مسجد کے ساتھ ۶ دسمبر کو دُہرا سکیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ مجھے ان لوگوں پر فخر ہے جنھوں نے بابری مسجد کو ڈھایا۔ مگر اسی مہینہ کے اخبارات میں بال ٹھاکرے کا یہ بیان چھپا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پر نہ مسجد بنائی جائے اور نہ مندر، دونوں فرقوں کو اس سے الگ مقام پر مسجد اور مندر بنانے کی جگہ دے دی جائے اور جہاں بابری مسجد تھی وہاں ایک قومی یادگار تعمیر کی جائے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے مسلمانوں سے یہ کہہ کر معافی مانگی ہے کہ اس وقت اگرچہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، مگر ہم بابری مسجد کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جنتا پارٹی نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ مندر مسجد کا آشُو اب اس کے ایجنڈے میں نہیں، وغیرہ۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کسی بڑی برائی کو مسلسل جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ بڑی برائی یا کوئی سنگین جرم جب کیا جاتا ہے تو فوراً ہی اس کے خلاف مانع اسباب اکٹھا ہونے یہاں تک کہ ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ اس برائی یا ظلم کی تکرار ممکن نہیں رہتی۔ اگر کوئی شخص آپ سے کہے کہ میں تمہارے سر پر آسمان گرادوں گا۔ تو آپ کو کہنے والے سے لڑنا نہیں چاہیے بلکہ یہ سوچ کر چپ رہنا چاہیے کہ آسمان کو گرانا اس کے بس ہی میں نہیں ۔ کوئی پولیٹکل پارٹی یا لیڈر اگر آپ کی مخالفت میں بڑے بڑے الفاظ بولے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے یہ سوچیے کہ ایسا ہونا ممکن ہے یا نہیں۔ اگر وہ ممکن نہ ہو تو آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس دنیا میں کسی کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کو واقعہ بناسکے۔ یہاں جو چیز واقعہ بنتی ہے وہ حقائق ہیں نہ کہ کسی کے بولے ہوئے الفاظ۔