Al-Risala · March 1998

ناقابلِ تسخیر طاقت

Al-Risala, March 1998, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بار بار نشیب و فراز کے واقعات پیش آئے ہیں مگر یہ تمام واقعات سماجی اور اقتصادی اور سیاسی پہلوؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ دعوت کا مسئلہ ہے، اس اعتبار سے اسلام مسلسل تاریخ میں مارچ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دعوت کے پہلو سے اسلام کبھی زوال کا شکار نہیں ہوا۔ اسلام کا دعوتی پہلو اس حد تک ناقابل شکست ہے کہ وہ اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب کہ مسلمان اپنے ضعف کی بنا پر مؤثر دعوتی عمل کو جاری کرنے کے قابل ہی نہ رہے ہوں۔

اس کی ایک واضح تاریخی مثال تاتاریوں کا مسئلہ ہے۔ قدیم زمانہ میں ترکستان (روس) اور منگولیا (چین) کے علاقے میں کچھ قبائل آباد تھے جن کو ترک کہا جاتا تھا۔ ان کا ایک سردار چنگیز خان ۱۲۲۷ء) تھا۔ یہ غیرمعمولی صلاحیت کا آدمی تھا۔ وہ ۲۰ ہزار جنگ جو افراد کو جمع کرکے اپنے علاقے سے نکلا اور فتوحات کرتا ہوا چین سے ایران تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد یہ قبائل آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہلاکو خان (۱۲۶۵- ۱۲۱۶ء) اٹھا۔ اس نے اسلامی سلطنت کو برباد کرنے کے بارے میں اپنے دادا (چنگیز خان) کے منصوبے کو مکمل اس نے دار السلطنت بغداد کو بالکل تباہ و برباد کر دیا اور خلیفہ معتصم باللہ کو بے رحمی کے ساتھ قتل کر ڈالا۔ تاتاری سرداروں کو مسلم حکمراں( خوار زم شاہ) سے کچھ شکایت پہنچی تھی، اس بنا پر وہ غضب ناک ہو گئے اور مسلم سلطنت کو برباد کرنے کے درپے ہو گئے۔ یہ اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ خوف ناک واقعہ تھا۔ تاتاریوں کے ظلم و فساد کی بنا پر اسلامی دنیا میں ان کا اتنا زیادہ ہول طاری ہوا کہ کہا جانے لگا : (اذا قيل لك ان التتر ‌انْهَزَمُوا فلا تصدق) (اگر کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو یقین مت کرنا) اس کے بعد صرف ۵۰ سال کے اندر تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ طور پر یہ معجزہ پیش آتا ہے کہ یہی ترک (تاتاری) جو اسلام کے کٹر دشمن تھے وہ اس کے دوست اور خادم بن گئے۔ ان کی بیشتر تعداد نے بہت تھوڑی مدت میں اسلام قبول کر لیا۔

کے بعد وہ مکمل طور پر ایک بدلی ہوئی قوم بن گئے۔ انھوں نے مسلم دنیا کو دوبارہ آباد کیا۔ سمر قند سے لے کر حلب تک جن مسجدوں کو انھوں نے ڈھادیا تھا ان کی دوبارہ تعمیر کر کے ان کے اندر خدائے واحد کے لیے سجدہ کیا۔ اس کے بعد تقریباً ۶۰۰ سال تک وہ اسلام کے خادم اور سپاہی بنے رہے۔

یہ معجزہ کیسے پیش آیا۔ پروفیسر آر نلڈ نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ اس کی صورت یہ ہوئی کہ فاتح تاتاریوں نے بہت بڑی تعداد میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو گرفتار کیا اور ان کو اپنے گھروں میں خادم اور خادمہ بنا کر رکھ لیا، اس طرح ان کا اختلاط ہر وقت مسلمان مردوں اور عورتوں سے ہونے لگا۔ وہ بار بار دیکھتے تھے کہ مسلمان مرد یا عورت کوئی ایسا عمل کر رہے ہیں جو ان کی مانوسات کے خلاف ہے۔ مثلاً ملاقات کے وقت السلام علیکم کوئی کام شروع کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا۔ مختلف مواقع پر الحمد للہ اور جزاک اللہ کہنا۔ اسی طرح نماز اور دوسری عبادات وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز تاتاریوں کو اپنے معلوم اور مانوس طریقہ سے مختلف دکھائی دیتی تھی۔ وہ ان پر سوالات کرتے تھے۔ طرح گفتگوؤں کے دوران اسلام کی تعلیمات ان پر واضح ہونے لگیں۔

اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ تاتاری جب بازاروں میں نکلتے، شکار یا اور کسی کام سے باہر جاتے تو بار بار ان کا سابقہ کسی مسلمان سے پڑتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں بھی بار بار اسلام زیر بحث آنے لگا۔ اس طرح کسی تبلیغی منصوبہ کے بغیر دعوتی عمل تاتاریوں کے درمیان مکمل طور پر جاری ہو گیا۔

اس کے بعد ان کے اسلام قبول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اولاً ان کے حکمرانوں اور سرداروں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد عام تاتاریوں نے اس کی پیروی کی۔ تک کہ ان کی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے استنبظام کی عمارت کو ڈھایا تھا وہی دوبارہ اسلام کی عمارت تعمیر کرنے والے بن گئے۔ اسلام ایک ناقابل تسخیر طاقت ہے۔ اسلام صرف اپنوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ غیروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ حتی کہ ان لوگوں کو بھی جو کسی وجہ سے بظاہر اس کے دشمن بن گئے ہوں۔

Printed page