Al-Risala · March 1998

ایک مطالعہ

Al-Risala, March 1998, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

صلح حدیبیہ (۶ ھ) کے بعد جب حالات معتدل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے باہر مختلف علاقوں میں تبلیغی دستے روانہ فرمائے۔ انھیں میں سے ایک تبلیغی دستہ وہ تھا جو مدینہ کے شمال میں شام کی سرحد سے ملے ہوئے علاقہ کی طرف بھیجا گیا۔ یہاں عیسائی قبائل آباد تھے اور وہ رومی در باز نظینی حکومت کے ماتحت تھے۔

اس تبلیغی وفد میں پندرہ آدمی تھے اور ان کے سردار کعب بن عمیر الغفاری تھے۔ وہ شام کے قریب ذات اطلاح میں پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک مقام پر کافی لوگ جمع ہیں۔ انھوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر انھوں نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا۔ بلکہ ان پر تیر برسانے لگے (فدعوهم الى الاسلام فلم يستجيبوالهم ورشقوهم بالنبل) البداية والنهاية ۳/ ۲۴۱ اس یک طرفہ حملہ میں بارہ مسلمان شہید ہو گئے ۔ صرف کعب بن عمیر الغفاری زخمی حالت میں مدینہ واپس آئے۔ شامی سرحد پر بسنے والے ان عیسائیوں کا حملہ ، بالواسطہ طور پر رومی سلطنت کا حملہ تھا۔ اس طرح رومی سلطنت نے سب سے پہلے اسلام کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحارث بن عمیر الازدی کو ایک دعوتی مکتوب لے کر حاکم بصرہ کی طرف روانہ کیا۔ جب وہ موتہ (شام) میں پہنچے تو ان کی ملاقات شرحبیل ابن عمرو الغسانی سے ہوئی۔ نے ان سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو ۔ انھوں نے کہا کہ حاکم بصرہ کے پاس۔ اس نے کہا، شاید تم محمد کے انھوں نے کہا ہاں ۔ اس کے بعد اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا اور انھوں نے الحارث بن عمیرؓ کو تلوار مار کر قتل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ قتل حاکم بصری کے اشارہ پر کیا تھا (الرسول فی المدینة شرحبیل بن عمرو الغسانی عیسائی تھا اور وہ رومی حکومت کا ایک افسر تھا۔ اس کا یہ فعل بین اقوامى روایت کے مطابق، اقدام جنگ کے ہم معنی تھا۔ اس لئے آپ نے تین ہزار افراد کا ایک لشکر تیار کیا اور جمادی الاولیٰ ۸ھ میں اس کو مؤتہ (شام) کی طرف روانہ فرمایا۔

شرحبیل کو جب مسلم لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو اس نے ایک لاکھ آدمیوں کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے جمع کیا۔ اسی کے ساتھ خود شاہ روم ہرقل ایک لاکھ فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لئے بلقاء کے مقام پر پہنچا۔ تین ہزار اور دو لاکھ کا تناسب بہت زیادہ غیر مساوی تھا۔ یہ مقابلہ فیصلہ کن نہ بن سکا، تامہم مسلمانوں نے اتنی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا کہ رومیوں کے اوپر مسلمانوں کی فوجی صلاحیت کا رعب قائم ہو گیا۔

مستشرق واشنگٹن ارونگ (Washington Irving) نے پیغمبر اسلام کی زندگی پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ اس کا اقتباس ڈاکٹر علی حسنی الخربوطلی نے اپنی کتاب ”الرسول فی المدینہ“ میں نقل کیا ہے۔ واشنگٹن ارونگ نے لکھا ہے کہ عرب میں اسلام کی اشاعت سے جب عرب کے بکھرے ہوئے قبائل متحد ہوگئے تو شہنشاہ ہرقل کو یہ عرب اتحاد اپنے لئے خطرہ محسوس ہوا۔ اس نے طے کیا کہ ایک بڑا لشکر تیار کرے اور اپنے اس ”امکانی دشمن“ پر حملہ کر کے اس کو کچل ڈالے۔ چنانچہ اس نے عرب کی سرحد پر اپنی فوجیں جمع کر نا شروع کر دیا۔ (صفحہ ۲۳۲ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ابر اطراف کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ ہرقل نے سرحد عرب پر فوجیں جمع کی ہیں تاکہ عرب پر حملہ کرکے اسلام کا زور توڑدے تو آپ نے فوراً جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ ہم پیش آئی جس کو غزوہ تبوک کہا

آپ نے مسلسل وعظ و تلقین کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کیا کہ زیا دہ سے زیادہ لوگ اس مہم کے لئے نکلیں۔ چنانچہ سخت حالات کے باوجود ۳۰ ہزار آدمیوں کا لشکر اس مہم کے لئے تیار اس سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، ان کا ایک جزہ یہ ہے:

کـان رسول الله صلى الله عليه وسلـم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لئے قل ما يخرج في غزوة الاكنى عنها الا نکلتے تو زیادہ تر آپ اشارہ اور کنایہ سے کام لیتے ما كان من غزوۃ تبوك فانه بينها تھے ۔ مگر غزوہ تبوک میں آپ نے اس سے مختلف طریقہ للناس ... فامرهم بالجهاد و اختیار فرمایا۔ اس کی بابت آپ نے صاف طور پر لوگوں اخبرهم انه يريد الــروم کے سامنے اعلان کیا۔ آپ نے انھیں جہاد کا حکم

(البدایۃ والنھایۃ ۳/۵)

دیا اور ان کو اس بات کی خبر دی کہ آپ کا قصد روم کی طرف ہے۔

غزوہ تبوک اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس کے بارہ میں بہت سی تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس واقعہ کا مطالعہ کیجئے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ جنگ کے بارہ میں نہایت اہم اصول سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے دو اصول یہ ہیں: ایک یہ کہ تبوک کی مہم کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فوجی اقدام بطورِ دفاع وہ جارحانہ اقدام کے طور پر نہ تھا۔ اس سے معلوم ہواا کہ اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے۔ میں جنگی اقدام صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ بطور دفاع ایسا اقدام کرنا ضروری ہو گیا ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ دفاعی اقدام میں بھی ٹکر اولاً لازمی طور پر ضروری نہیں ہے۔ اگر اس کا امکان ہو کہ طاقت کے مظاہرہ سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ دشمن پیچھے ہٹ جائے اور اپنے جارحانہ ارادہ سے باز آجائے تو اپنے اقدام کو ’’ مظاہرہ‘‘ کی حد میں رکھا جائے گا، اس کو لازماً جنگی ٹکراؤ تک نہیں لے جایا جائے گا۔

یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عام عادت کے خلاف غزوہ تبوک کی تیاری پورے اعلان و اظہار کے ساتھ کی۔ اور روانگی میں بھی اخفاء کے بجائے اظہار کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ کے سرحدِ شام پہنچنے سے پہلے رومیوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ پیغمبرِ اسلام ۳۰ ہزار جان بازوں کے ساتھ تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مظاہرہ کا متوقع فائدہ حاصل ہوا۔ رومی حکمران نے مرعوب ہو کر اپنی فوجوں کو پیچھے لوٹنے کا حکم دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومی فوجوں کی پسپائی کا علم ہوا تو آپ بھی مزید اقدام سے رک گئے (الرسول فی المدینہ، صفحہ ۲۳۴)

اسلام کی عام پالیسی یہی ہے کہ حتی الامکان جنگ سے اعراض کیا جائے۔ یہ پالیسی اسلام کے اصل مقصد و مدعا کے عین مطابق ہے۔ کیوں کہ اسلام کا مقصد لوگوں کو جہنم کے راستہ سے ہٹا کر جنت کے راستہ پر ڈالنا ہے نہ یہ کہ وہ جاہلیت کی جس زندگی میں ہیں، وہیں مار کر انہیں ختم کر دیا جائے۔ ایک تاجر کی نگاہ آدمی کی جیب پر ہوتی ہے۔ ایک جنگ باز کی نگاہ آدمی کی گردن پر۔

کے برعکس اسلام کی نگاہ آدمی کے دل پر ہواتی ہے۔ اسلام کا مقصد لوگوں کے دلوں کو بدلنا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی رحمتوں میں حصہ پاسکیں۔

کوئی شخص خواہ دشمن ہو یا غیر مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ ان سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہم سی " انسان" تک پہنچیں اور اس کے دل کے دروازہ پر دستک دیں۔ کہ اس کی فطری صلاحیت جاگ اٹھے اور وہ دین حق کے دائرہ میں داخل ہو جائے۔

اس کی مثال خود رومیوں کے قصہ میں موجود ہے۔ عین اس زمانہ میں جب کہ رومیوں سے کشمکش چل رہی تھی ، اسی زمانہ میں رومیوں کی اعلیٰ صف کے ایک آدمی نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ فروة بن عمرو الجذامی (م ۱۲ ) تھے۔ وہ ایک عیسائی تھے اور بنو النافرة کے اوپر رومیوں کی طرف سے حاکم تھے۔ بنو النافرة کے لوگ خلیج عقبہ اور ینبع کے درمیان رہتے تھے۔ جب اسلام کا ظہور ہو اور اس کی خبریں عرب میں پھیلیں تو فروة اس سے متاثر ہو گئے۔ آخر کار انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ فروة الجذامی نے اپنے قبول اسلام کی اطلاع ایک قاصد کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی۔ اور ہدیہ کے طور پر ایک سفید خچر بھی آپ کے لئے روانہ کیا۔ رومی حکمران کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے فروة کو اپنے پاس بلا کر انھیں قید میں ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ فروة کو فلسطین میں عفراء نامی ایک چشمہ کے پاس لے گئے اور تلوار مار کر انھیں قتل کر دیا۔ رومی جب فروہ کو قتل کے مقام پر لائے تو فروة نے یہ شعر کہا :

بَلِّغْ سَرَاةَ المُسْلِمِينَ بِأَنَّنِی سِلْمٌ لِرَبِّي أَعْظَمِي وَمَقَامِی مسلمانوں کے سردار کو یہ خبر پہنچا دو کہ میری ہڈیاں اور میرا اوپر وجود میرے رب کے لئے ہے (سيرۃ ابن ہشام ۴/ ۳۶۲) فروة بن عمرو اگر چہ قتل کر دیے گئے ، مگر ایک اصول پر قائم رہنے کی بنا پر قتل کیا جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ ایسا آدمی اپنے پورے وجود سے اس اصول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے جس کی خاطر اس نے اپنی جان دی جہاں لوگوں نے اپنے خود ساختہ نظریات کو بازار کی سیاہی سے لکھ رکھا ہے، وہاں وہ اپنے نظریہ کی صداقت کو اپنے خون کی سرخی سے تحریر کرتا ہے۔ ایسی موت ہزاروں لوگوں کے لئے زندگی کا سبب ہوتی چنانچہ یہی ہوا۔ دور اول کے مسلمانوں کی اس قسم کی قربانیوں نے ایک عیسائی علاقہ کو ابدی طور پر ایک مسلم علاقہ بنا دیا۔

Printed page