موافق میدان
Al-Risala, March 1998, pp. 21–27
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ ہجرت کے چھٹے سال کا واقعہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا کر رہے ہیں۔ رسول کا خواب وحی ہوتا ہے۔ چنانچہ ذوالقعدہ سنہ کے آغاز میں آپ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوگئے، آپ کے علاوہ چودہ سو اصحاب بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ عمرہ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ چنانچہ آپ کے ساتھ قربانی کے ستر اونٹ بھی تھے جن کی گردنوں میں ہدی کی علامت کے طور پر قلادے پڑے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھیوں کے پاس صرف ایک تلوار میان میں تھی جو قدیم قبائلی دور میں ہر مسافر کا معمول سمجھی جاتی تھی۔ ذوالحلیفہ (موجودہ بئر علی )کے مقام پر پہنچ کر پورے قافلہ نے حسب قاعدہ احرام باندھ لیا اور لبيك اللّهمّ لبيك کی پکار کے ساتھ مکہ( بیت اللہ ) کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک حرام مہینہ تھا۔ تمام ظاہری علامات کے مطابق یہ عمرہ ادا کرنے والوں کا قافلہ تھا۔ پوری تاریخ میں ایسے کسی قافلہ کو کبھی روکا نہیں گیا تھا۔ مگر قریش (اہل مکہ ) نے اس وقت مسلمانوں کے خلاف جنگ اور عداوت کی جو مہم چلا رکھی تھی اس نے اس سادہ سے واقعہ میں سیاسی اور قومی پہلو پیدا کر دیا۔ قریش نے اس کو اپنی غیرت وحمیت کے خلاف سمجھا کہ ان کے دشمنوں کا قافلہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکہ میں داخل ہو اور عمرہ کرکے شان کے ساتھ واپس چلا جائے۔
چنانچہ قریش نے آپ کو روکنے کے لئے طرح طرح کی کوششیں شروع کر دیں۔ سب سے پہلے خالد بن ولید کی سرداری میں ۲۰۰ سواروں کا دستہ روانہ ہوا اور مکہ سے چل کر ذی طویٰ کے مقام پر پہنچ یہ مقام مکہ اور مدینہ کے راستہ میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تھے کہ آپ کے مخبر نے یہ اطلاع دی۔ آپ نے خالد کی مڈبھیڑ سے بچنے کے لئے فوراً اپنا راستہ بدل دیا۔ سیدھے اور عام راستہ سے چلنے کے بجائے آپ پہاڑی راستہ سے گھوم کر آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ تاہم قریش نے چھیڑ چھاڑ جاری رکھی۔ آپ کا ایک آدمی جو ایک
پہاڑی پر چڑھ کر حالات کا مشاہدہ کر رہا تھا اس کو تیر مار کر ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ بار جب کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے ، قریش کے تقریبا پچاس آدمی آئے اور پتھر برسانا شروع کر دیا۔ اسی طرح ایک بار قریش کے کچھ لوگ رات کے وقت آئے اور اچانک آپ کے خیموں پر حملہ کر دیا۔ اس قسم کے واقعات ہوتے رہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ آپ صرف یہ کہتے رہے کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں بلکہ عمرہ کے لئے آئے ہیں۔ حتیٰ آپ نے حضرت عثمان کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ وہ سردار ان قریش سے کہیں کہ زیارت کعبہ کے سوا ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے ۔ ہم طواف اور قربانی کے بعد مدینہ واپس چلے جائیں گے۔ مگر قریش نے ضد میں حضرت عثمان کو روک لیا ۔ یہاں تک کہ غلط طور پر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمان قتل کر دئے اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کیا کہ فوراً مکہ پر چڑھائی کر دیں۔ کے سامنے اظہار ِعزیمت کے لئے صرف جہاد کی بیعت لی اور بدستور حدیبیہ میں مقیم رہے۔ جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس پر بیعت لی تھی کہ اگر مقابلہ کی نوبت آئی تو ہم نہیں بھاگیں گے (ببایعنا علی ان لا نفر ، سیرت ابن ہشام ، جلد ۳، صفحه ۳۷۴) اس درمیان میں مکہ کے کچھ امن پسند لوگوں نے صلح کی بات چیت شروع کر دی۔ مثلاً بنو خزاعہ کا سردار بدیل بن ورقاء، احابیش کا سردار حلیس بن علقمہ ، بنو ثقیف کا سردار عروہ بن مسعود ثقفی ، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا حال دیکھنے کے بعد مکہ جا کر قریش کو بتایا کہ یہ لوگ صرف زیارت کعبہ کے لئے آئے ہیں۔ اس لئے انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ وہ عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعد خود ہی واپس چلے جائیں گے۔
کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے سراسر خلاف تھا۔ اس لئے ضد اور عداوت کے باوجود قریش کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے اشتعال کے باوجود خاموش رہے۔ کے اس پر امن رویہ نے مزید یہ کیا کہ قریش سے ہر قسم کی جارحیت کا جواز چھین لیا۔ بالآخر اپنی بالاتری قائم رکھنے کی خاطر انہوں نے یہ چاہا کہ مسلمانوں کو اس پر راضی کریں کہ وہ اس سال مدینہ واپس چلے
جائیں اور اگلے سال مکہ آ کر عمرہ ادا کریں۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے سہیل بن عمرو کی قیادت میں اپنا ًیک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سہیل“ کو دیکھا تو اس سے اچھا فال لیا اور فرمایا کہ اب معاملہ سہل ہو گیا (قد سهل لكم من امرکم)، آپ نے کہا کہ اس آدمی کو بات چیت کے لئے بھیجنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریش نے اب صلح کا ارادہ کر لیا ہے (قَدْ اَرَادَ الْقَوْمَ الصَّلْحَ حِیْنَ بَعَثُوْا ھَذَا الرَّجُلَ)، جب صلح کی بات چیت شروع ہوئی تو سہیل بن عمرو نے بے حد ضد کا مظاہرہ کیا۔ آپ اس کی ہر ضد کو مانتے چلے گئے اور تقریباً یک طرفہ طور پر قریش سے معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کی تفصیلی دفعات سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
معاہدہ کی بات چیت کے دوران قریش نے بار بار ضد اور عداوت کا مظاہرہ کیا۔ مگر آپ جوابی انداز اختیار کرنے کے بجائے ان کی ہر بات مانتے رہے اور اس کو نظر انداز کرتے چلے گئے ۔ ابتداءً یہ تجویز پیش ہوئی کہ ایک فریق کا کوئی آدمی دوسرے فریق کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو فریق اول کی طرف واپس کر دے۔ سہیل نے کہا کہ ہمارا آدمی آپ کے پاس آئے تو آپ کو اسے واپس کرنا ہو گا۔ مگر آپ کا آدمی ہمارے پاس ہو تو ہم اس کو واپس نہیں کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک طرفہ شرط کو منظور کر لیا۔ معاہدہ کی کتابت حضرت علی کر رہے تھے۔ آپ نے مضمون املا کرا کرتے ہوئے فرمایا: لکھو بسم الله الرحمن الرحيم، سہیل بن عمرو نے کہا نہیں۔ بلکہ ہمارے طریقے کے مطابق یوں لکھو باسمك اللھم ۔ مسلمانوں نے یہ سن کر کہا خدا کی قسم، ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کے سوا اور کچھ نہ لکھیں گے (والله لا نكتبها الا بسم الله الرحمن الرحيم)، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بحث نہیں کی بلکہ وہی الفاظ لکھوا دئے جو سہیل بن عمرو اور اس کے ساتھی چاہتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے اگلا جملہ ارشاد فرمایا : ھذا ما قضیٰ عليه محمد رسول اللہ ( یہ وہ ہے جس کا فیصلہ محمد اللہ کے رسول نے کیا)، سہیل نے دوبارہ کہا : خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ بلکہ یوں لکھئے
کہ محمد بن عبداللہ ۔ آپ نے حضرت علی سمیت تمام صحابہ کی ناگواری کے باوجود حکم دیا کہ محمد رسول اللہ کاٹ دو اور محمد بن عبد اللہ لکھو۔ واللہ انی لرسول الله وان كذبتمونى ۔ بن عبد اللہ ، معاہدہ کی دفعات طے ہونے کے بعد اس کی کتابت جاری تھی کہ ابو جندل بن سہیل بن عمرو آگئے ۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے مگر مکہ والوں نے ان کو بیڑیوں میں باندھ رکھا تھا۔ انھوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کے قریب حدیبیہ میں موجود ہیں تو وہ کسی طرح بھاگ کر یہاں پہنچے ۔ ان کے پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں تھیں اور جسم پر مار پیٹ کا نشان تھا۔ چلا کر کہا کہ مجھے اس ظالمانہ قید سے بچائیے ۔ سہیل بن عمرو نے کہا کہ نہیں۔ یہ معاہدہ کے ایفاء کاپہلا موقع ہے اور آپ پر لازم ہے کہ ابو جندل کو ہمارے حوالے کریں۔ ابو جندل نے چلا کر کہا کہ کیا میں ظالم کافروں کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا حالاں کہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں ۔ یہ بڑا جذباتی لمحہ تمام صحابہ بگڑ گئے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل کو صبر کی تلقین کر کے انھیں واپس کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ کر کے واپس روانہ ہوئے۔ آپ کراع الغمیم کے مقام پر پہنچے تھے کہ فرشتہ خدا کی طرف سے سورہ فتح لے کر آپ کے پاس آگیا۔ اس کو پا کر آپ اتنا مسرور ہوئے کہ آپ نے فرمایا : آج مجھ پر ایسی سورہ نازل ہوئی ہے جو مجھ کو دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے (نزل على البارحة سورة هي أحب إلي من الدنيا ومافيها)، اس سورہ کی ابتدائی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے :
بے شک ہم نے تم کو فتح مبین دے دی تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخش دے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے ۔ اور تم کو صراط مستقیم دکھائے ۔ اور تم کو زبر دست نصرت عطا کرے ۔ وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت اتاری تاکہ ان کے ایمان میں ایک اور ایمان کا اضافہ ہو۔ اور زمین و آسمان کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں ۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔ اور اللہ کے نزدیک یہی بڑی
اور تاکہ اللہ سزادے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے باب میں برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کی گردش انھیں پر ہے۔ اللہ کا غضب ان پر ہو اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور اس نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے (الفتح ۱-۶) "اور خدا تم کو صراط مستقیم دکھائے۔ اس آیت کا تعلق واضح طور پر اسی صلح کے واقعہ سے ہے۔ نہ عقائد کا ذکر ہے اور نہ عبادات کا۔ بلکہ تمام تر ذکر صرف صلح حدیبیہ کا ہے۔ اس لئے اس سیاق میں اس کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کا واقعہ اس لئے پیش آیا تا کہ اجتماعی مقابلہ میں حریف کے اوپر فتح پانے کی صراط مستقیم تمہیں بتائی جائے ۔ موجودہ دنیا میں جب اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ ہو تو اس میں حقیقی فتح پانے کا خدائی راستہ صرف وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی مثال کی صورت میں ہمارے اوپر کھولا گیا ہے۔
اس آیت میں اتمام نعمت سے مراد حق کے ساتھ غلبہ کو جمع کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق اپنی کامل صورت میں پہلے بھی ملا ہوا تھا۔ البتہ اس حق کے ساتھ دنیوی غلبہ ابھی تک جمع نہیں ہوا صلح حدیبیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ملک میں غلبہ کا راستہ کھول دیا۔ "اور تاکہ خدا تم کو زبر دست نصرت عطا کرے"۔ یہ آیت موجودہ دنیا میں خدا کے قانون نصرت کو اہل ایمان اگر چاہتے ہیں کہ خدا کی مدد ان کا ساتھ دے تو اس کا مستحق بننے کے لئے انھیں اس صلاحیت کا ثبوت دینا ہو گا کہ وہ اس کام میں اپنی محنتیں صرف کریں جو صلح اور امن کے حالات میں انجام دیا جاتا ہے نہ کہ وہ کام جو جنگ کے حالات میں انجام دیا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جنگی حالت قائم تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کے سامنے یہ نشانہ نہ تھا کہ وہ غیر مسلموں کی گردن کاٹیں۔ صلح کے بعد نشانہ بدل گیا۔ اب ان کا کام یہ قرار پایا کہ وہ غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کا پیغام داخل کریں۔ گویا خدا کی نصرت کا مستحق بننے کا راز غیر مسلموں کو اپنا حریف بنانا نہیں ہے بلکہ اس کار از یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اپنا مدعو بنایا جائے۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کے دلوں پر جو سکینت نازل ہوئی وہ کیا تھی ۔ وہ یہ تھی کہ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ وہ متعلقہ معاملہ میں رد عمل کا رویہ اختیار نہ کریں بلکہ رد عمل کی نفسیات سے بلند ہو کر مثبت رویہ کا ثبوت دیں۔ انہوں نے اشتعال کے موقع پر بے اشتعالی کا طریقہ اختیار کیا۔
کی طرف سے ضد کا مظاہرہ ہو اگر انھوں نے ضد کو چھوڑ کر ایک طرفہ شرائط پر ان سے صلح کر لی۔ "ایمان پر ایمان کا اضافہ " سے مراد یہ ہے کہ اب تک وہ معمول کے حالات میں ایمان والے بنے ہوئے تھے، اب انھوں نے غیر معمولی حالات میں صاحب ایمان ہونے کا ثبوت دیا۔ جس خدا کو وہ پہلے جذبات کے ٹھہراؤ کی حالت میں مانے ہوئے تھے اس خدا کو اب انھوں نے جذبات کے ہیجان کی حالت میں مانا۔ جس خدا کے حکم کی تعمیل مزاج کی موافقفت کے ساتھ کر رہے تھے ، اس خدا کے حکم کی تعمیل انھوں نے مزاج کی مخالفت کے باوجود کی۔ جس خدا کے نام پر انھوں نے اپنا سراونچا کیا تھا ، اسی خدا کے حکم سے انھوں نے اب اپنا سر نیچا کر لیا۔
" زمین و آسمان کا تمام لشکر اللہ کا ہے ۔ " یہ بات اس موقع پر کیوں کہی گئی۔ جواب یہ ہے کہ خدا کی ایک سنت کو بتانے کے لئے ۔ اس کائنات میں ہر قسم کی طاقت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ اور اصحاب رسول کو فرشتوں کی فوج کے ذریعہ معجزاتی طور پر غالب کر سکتا تھا۔ مگر یہ دنیا دار الامتحان یہاں کے لئے خدا کا یہ قانون نہیں۔ موجودہ دنیا میں ہر ایک کو آزادی ہے۔ اس لئے یہاں تمام واقعات اسباب کے پردے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ خدا نے اپنے رسول کو " ذلت آمیز صلح " پر رضى ہو جانے کا حکم اس لئے دیا ، کیوں کہ موجودہ عالم اسباب میں باعزت فتح کی منزل تک پہنچنے کا راستہ یہی ہے ۔
متفقہ روایات کے مطابق سورہ فتح حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے ذی قعدہ ۶ ھ میں نازل اس سے ظاہر ہے کہ یہاں دشمن سے صلح کر لینے کو فتح مبین کہا گیا ہے ۔ اس صلح کی تاریخ اور اس کی دفعات کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سارا خلاصہ یہ تھا کہ دشمن کی تمام شرائط کو مان کر اس سے یہ عہد لے لیا جائے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اگلے دس سال تک جنگ نہ ہوگی۔ گویا اس سورہ میں جس چیز کو فتح مبین کہا گیا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تھا کہ دشمن کو میدان جنگ سے ہٹا کر میدان امن میں لایا جائے۔
اس معاہدہ کا فریق اول (مسلمان) محض عام قسم کا ایک گروہ نہ تھا بلکہ وہ ایک داعی گروہ تھا۔ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی صداقت تھی۔ ایسی صداقت جو عقل اور فطرت کو مسخر کر لینے والی ہے۔ حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو اس معاہدہ کے معنی اس وقت یہ تھے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے
در میان میدان مقابلہ کو بدل دیا جائے۔ وہ مقابلہ جو اب تک جنگ کے میدان میں ہورہا تھا اس کو وہاں سے ہٹا کر دعوت کے میدان میں لایا جائے۔
بعثت نبوی سے لے کر صلح حدیبیہ تک تقریباً ۲۰ سال کی مدت ہے۔ اس طویل مدت میں اتنے لوگ مسلمان نہ ہوئے جتنے صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال میں ہوئے۔ حدیبیہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چودہ سو مسلمان تھے۔ جب کہ حدیبیہ کے بعد دو سال سے بھی کم مدت میں آپ نے مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ دس ہزار مسلمان شامل تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہجرت کے بعد مسلسل جنگوں کی وجہ سے اشاعت اسلام کا کام ٹھپ پڑ گیا تھا۔ دس سالہ نا جنگ معاہدہ کے بعد جب فضا معتدل ہوئی تو اشاعت اسلام کا کام پوری تیزی سے ہونے لگا۔ گویا کہ جنگی صورت حال کی بنا پر اسلام کا زیادہ طاقت ورہتھیار غیر استعمال شدہ حالت میں پڑا ہوا تھا۔ حدیبیہ کے نا جنگ معاہدہ نے اس طاقت ور ہتھیار کو قابل استعمال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کو قرآن میں فتح مبین کہا
حدیبیہ کا معاملہ فتح مبین اس لئے تھا کہ اس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کے سب سے طاقت ورہتھیار کو اس کے حق میں استعمال کیا جائے۔ حدیبیہ کی اسپرٹ یہ ہے کہ فریق ثانی کی ضد اور مخالفت کی وجہ سے اگر ٹکراؤ کی فضا پیدا ہو جائے تو یک طرفہ صبر کے ذریعہ ٹکراؤ کی فضا کو ختم کیا جائے تاکہ اسلامی دعوت کی راہ ہموار ہوسکے۔