بمبئی کا سفر
Al-Risala, March 1998, pp. 32–45
By Maulana Wahiduddin Khan
بھارتیہ ودیا بھون کے زیر انتظام بمبئی میں ۲۹۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۵ کو ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا موضوع تھا : اقدار پر مبنی سماج ۔ اس کی دعوت پر بمبئی کا سفر ہوا۔ یہاں اس کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔
۲۶ جنوری کی شام کو دہلی ائیر پورٹ پہنچا۔ یہاں بمبئی کے تین صاحبان مل گئے۔ بمبئی کے مقامی لیڈر ہیں۔ اپنے قول کے مطابق، آئندہ الیکشن کے مسئلہ پر راجدھانی کے ’’مسلم لیڈروں ‘‘ سے بات کرنے کے لیے وہ دہلی آئے تھے اور اب یہاں سے واپس جارہے میں نے پوچھا کہ مسلمانوں کی انتخابی پالیسی کے بارہ میں آپ لوگوں نے کیا طے کیا۔ کسی قدر جوش کے انداز میں کہا : ہمیں نان کانگریس اور نان ہندو توپارٹیوں کاساتھ دینا ہے۔ مسلم دشمن طاقتوں کو ہرانا ہے، یہ ہماری آنا کا سوال ہے۔
میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تھرڈ فورس (third force) کو ووٹ دیں گے جس کے افراد آج کل آپ کی دل پسند باتیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے دوبارہ پر جوش طور پر جواب دیا : ہاں، اس میں کیا شک ہے ۔ میں نے کہا کہ نام نہاد تھرڈ فورس تو نو فورس ہے۔ ساتھ دے کر آپ صرف اپنے ووٹ کو ضائع کریں گے ۔ آپ کی اس نیگیٹو ووٹنگ کا فائدہ براہ راست انھیں لوگوں کو ملے گا جن کو آپ مسلم دشمن کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی مذکورہ انتخابی پالیسی سراسر ناکام رہی۔ الیکشن فروری ۱۹۹۵ میں نام نہاد تیسرے محاذ (تھرڈ فرنٹ) کے نمائندے بری طرح باہر ہو گئے۔ اور انتخابات کے بعد بھاجپا اور شیو سینا نے مل کر مہاراشٹر میں اپنی حکومت بنائی۔ لوگوں نے جن کو مسلمان اس الیکشن میں ہرانا چاہتے تھے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ مہاراشٹر کے مسلمانوں نے لوک سبھا کے الیکشن (اپریل۔ میں اسی سابقہ غلطی کو پھر دہرایا۔ حیدر آباد کے روز نامہ سیاست (، جولائی ۱۹۹۶) میں ڈاکٹر مسعود علی خان (ICSSR) نے تفصیلی تجزیہ کر کے بتایا کہ ۱۹۹۶ میں گیارھویں لوک سبھا کے
الیکشن نے اس خوش فہمی کا خاتمہ کر دیا ہے کہ مسلم ووٹ توازن کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ جس پارٹی کی طرف گر جائیں اس کی کامیابی یقینی ہے۔
یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس میں نام نہاد مسلم لیڈروں کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ لوگ اپنی سطحیت کی بنا پر ہمیشہ انا اور وقار کی سیاست چلاتے ہیں۔ اور اسی لیے وہ ہمیشہ ناکام ان کو یہ سادہ سی حقیقت نہیں معلوم کہ الیکشن میں شرکت انا کی تسکین کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کی جاتی ہے اگلے چند سالوں (نہ کہ ہمیشہ کے لیے) کمیونٹی کے مفادات کو بہتر امکان (نہ کہ مکمل طور پر) محفوظ کیا جا سکے ۔ وقار کی سیاست تباہی کی سیاست ہے۔ اور بدقسمتی سے نا اہل مسلم قیادت نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اسی تباہی کا تحفہ دیا ہے ۔ دہلی سے بمبئی کا سفر انڈین ایرلائنس کی فلائٹ نمبر ۴۰۵ کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز ٹھیک وقت پر پونے چھ بجے روانہ ہوا، اور تقریباً دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد بمبئی پہنچ گیا۔ پر کئی ساتھی موجود تھے۔ ان کے ہمراہ شہر کے لیے روانگی ہوئی۔ یہاں میرا قیام ہوٹل میٹروپولیس کے کمرہ نمبر ۲۰۲ میں تھا۔
ہوٹل کے کمرہ میں تھوڑی دیر ساتھیوں سے گفتگو ہوئی۔ لوگوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد وقتی طور پر یہاں کے مسلمانوں میں الرسالہ مشن کے خلاف جو غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی وہ اللہ کے فضل سے اب تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ الرسالہ کی اور کتابوں کی مانگ دوبارہ بڑھ لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ اس بحران میں وہی راستہ درست تھا جس کی رہنمائی الرسالہ میں دی گئی تھی۔
ہوٹل میں تھوڑی دیر قیام کے بعد ہم لوگ باندرہ کے جناب جاوید صاحب کے یہاں ان کی رہائش گاہ پر نماز عشاء کے بعد ایک میٹنگ رکھی گئی تھی ۔ اس میں تعلیم یافتہ مسلمان تقریباً ۲۵ کی تعداد میں شریک ہوئے ۔ ان سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ موجودہ زمانہ میں جو جدید تقاضے پیدا ہوئے ہیں وہ کیا ہیں اور ان کے درمیان رہتے ہوئے کس طرح اسلامی زندگی گزاری جاسکتی ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ٹی وی کی صورت میں جو کلچرل انویژن ہے اس
کے خلاف چیخ پکار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ وہ تو جاری رہے گا۔ ہمارے نوجوان جوان کا شکار ہورہے ہیں اس کی اصل وجہ ان کا چیپ ٹیسٹ ہے۔ ہمیں ان کے ٹیسٹ کو اونچا کرنا مثلاً میرا اپنا حال خدا کے فضل سے یہ ہے کہ میرا انٹلکچول لیول اتنا بلند ہو چکا ہے کہ میں اس قسم کی چیزوں سے انجوائے نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں ان کا شکار بھی نہیں ہوتا۔ مسئلہ کا حل ہے۔
۲۰ جنوری کو ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا دین انٹرسٹ (مفاد) آج ہر آدمی ، خواہ وہ ایک مذہب کا ہو یا دوسرے مذہب کا، صرف انٹرسٹ کے ٹرم میں فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا انٹرسٹ دولت ہے اور کسی کا انٹرسٹ قیادت اور مقبولیت۔ یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی شخص انٹرسٹ کے خلاف بول رہا ہو تو سمجھ لیجئے کہ اس میں بھی اس کا کوئی انٹرسٹ شامل ہوگا۔
۲۷ جنوری کو جمعہ کا دن تھا۔ ہوٹل میں لوگ ملاقات کے لیے آتے رہے اور ان سے ملی اور ملکی مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔ جمعہ کی نماز ماڈرن ڈیری کی مسجد میں پڑھنا تھا۔ جب ہماری گاڑی ہوٹل سے مسجد کے لیے روانہ ہوئی تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ ہمارے سامنے جو گاڑی جارہی ہے اس کی باڈی کے پیچھے لکھا ہوا ہے محفوظ دوری پر رہو (Keep safe distance) میں نے سوچا کہ یہی کامیاب زندگی کا اصول ہے۔ اس دنیا میں سڑک پر محفوظ سفر کے لیے بھی یہی واحد اصول ہے، اور زندگی کے وسیع تر سفر میں بھی۔ یہی واحد کار آمد اصول ہے۔
ماڈرن ڈیری کی مسجد میں مولانا شمس الحق قاسمی امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہاں جمعہ کی نماز پڑھی۔ نماز سے پہلے آدھ گھنٹہ کی تقریر رکھتی۔ یہ بتانے کی کوشش کی کہ مسجد انسان سازی کا تربیتی مرکز ہے۔ یہاں انسان کے اندر وہ اوصاف پیدا کیے جاتے ہیں جو دینی اور دنیوی اعتبار سے بہتر زندگی گزارنے کی کلید ہیں ۔
مسجد میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مولانا مظاہر الحق قاسمی (۲۷ سال) رُدر پور ضلع نینی تال) میں رہتے ہیں۔ وہ کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ نے کیا سبق لیا۔ انھوں نے کہا کہ مجاہدانہ زندگی ۔
کو مجاہدانہ زندگی گزارنے کی فکری تربیت ہے۔
ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ بمبئی میں کس مسلم تنظیم کا زیادہ اثر ہے۔ نے کہا کہ کسی کا نہیں۔ صرف یہ ہے کہ کوئی قومی اشو کھڑا ہوتا ہے تو اس کے نام پر کوئی تنظیم یا جماعت وقتی طور پر کچھ بھیڑ اکٹھا کر لیتی ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۲۰ جنوری کو مغرب کی نماز آدرش نگر میں پڑھی۔ یہاں مسجد کے ساتھ ایک رہائشی مدرسہ اس میں اس وقت ۷۵ لڑکے زیر تعلیم ہیں اور چار استاد ہیں۔ اس کو جناب جی ایم صدیقی نے بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہے ہیں۔
جی ایم صدیقی صاحب نے بتایا کہ جنوری ۔ فروری ۱۹۹۳ میں جب بمبئی میں فساد ہوا تو مدرسہ کے بارہ میں ہم لوگوں کو تشویش پیدا ہوئی۔ کچھ مسلمانوں نے مشورہ دیا کہ مدرسہ کے بچوں کو یہاں سے دوسرے مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ مقامی ہندوؤں کو جی ایم صدیقی اور ان کے دوستوں کی پریشانی کا علم ہوا تو یہ ہند و مسٹر صدیقی سے ملے اور کہا کہ آپ لوگ نہ پریشان ہوں اور نہ کہیں اور منتقل ہوں ۔ ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے امن کمیٹی بنائی اور ڈیڑھ ماہ تک رات دن گھوم گھوم کر علاقہ کا پہرہ دیتے رہے ۔ ایک مجلس میں جناب محمود ایوبی صاحب (صحافی) بھی تھے۔ ایک صاحب نے فسادات وغیرہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا: زلزلہ آیا کرے ، مکان پھر بنالیں گے ۔ جناب جی ایم صدیقی صاحب نے آج رات کے کھانے پر تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بلایا تھا۔ یہاں تقریباً دو گھنٹہ کی نشست میں مجھے اظہار خیال کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ اسلام کی از سر نو تعبیر (reinterpretation) کا مسئلہ ہے۔ آج کا زمانہ پوری طرح ایک بدلا ہوا زمانہ ہے ۔ اب نئے حالات کے لحاظ سے اسلام کی ابدی تعلیمات کی از سر نو تشریح کرنا ہے ۔ تاکہ دور جدید میں بھی اسلام پوری طرح ایک قابل عمل نظریہ دکھائی دینے لگے (اس معاملہ کی تفصیل " فکر اسلامی " میں دیکھی جا سکتی ہے)
مہاراشٹر کے سابقہ الیکشن پر کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا ایک سبق یہ ہے کہ الکشن تقریریں ہمیشہ بے حقیقت ہوتی ہیں۔ مثلاً ۱۹۹۵ کے اس الیکشن
میں بھاجپا کے لیڈر مسٹر منوہر جوشی نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ پہلی ہندو ریاست مہاراشٹر میں بنے گی :
اس الیکشن کے جو نتائج سامنے آئے اس کے بعد منوہر جوشی کو موقع ملا کہ وہ مہاراشٹر میں چیف منسٹر بن جائیں۔ مگر اقتدار میں آنے کے بعد ہندو اسٹیٹ بنانا تو درکنار، انھوں نے ہندو اسٹیٹ کی بات بھی نہیں کی۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ ہے کہ کسی انسان کے الفاظ کبھی تاریخ نہیں بنتے۔ تاریخ ہمیشہ حقیقی اسباب کے زور پر بنتی ہے نہ کہ لاؤڈ اسپیکر پر بولے ہوئے الفاظ کی بنیاد پر۔ ایک بار ایک سڑک پر چلتے ہوئے یہاں کا مشہور گیٹ وے آف انڈیا نظر آیا۔ یہ ایک تاریخی گیٹ ہے۔ انگریز بمبئی میں سمندر کے راستہ سے داخل ہوئے تھے۔ یہاں سمندر کے ساحل پر انھوں نے ایک اونچا گیٹ بنایا جو گیٹ وے آف انڈیا کہا جاتا ہے (دوسرا گیٹ نئی دہلی میں بنایا گیا جس کا نام انڈیا گیٹ ہے) یہ گیٹ بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں بنایا گیا
جب وہ بنایا گیا، اس وقت وہ انگریز کے داخلہ ہند کا پر عظمت نشان تھا۔ آج وہ علی طور پر انگریز کی ملک سے واپسی کی پر حسرت یادگار بن چکا ہے۔
یہی اس دنیا کے لیے خدا کا تاریخی قانون ہے۔ اس قانون میں کسی کا استثناء نہیں ، خواہ وہ ایک قوم ہو یا کوئی دوسری قوم۔
۲۷ جنوری کو صبح سویرے نیند کھل گئی۔ فجر کی نماز کے بعد کچھ دیر تک ٹہلتا رہا۔ پاس بچوں کا ایک اسکول ہے۔ اس سے بندے ماترم کے گانے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ وہ انسان بھی کیسا عجیب ہے جو مخلوق کی حمد گاتا ہے، لیکن خدا کی حمد گانے کی تڑپ اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔
چائے پینے کے بعد ہاتھ روم گیا۔ میرا معمول ہے کہ صبح کو فراغت کے بعد وضو کرتا ہوں اور پر سکون کے عالم میں دو رکعت نماز ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں۔ آج صبح ۸ بجے ہوٹل کے کمرہ میں حسب معمول نیت باندھ کر کھڑا ہوا تو قرآن کا ایک حصہ پڑھتے ہوئے اچانک آواز بلند ہو گئی ۔ میں تقریباً گونج دار آواز میں قرآن کی تلاوت کرتا رہا۔ یہ ایک قسم کا غیر شعوری عمل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کے مشرکانہ شور و غل کو سن کر میرا جذبہ توحید جاگ اٹھا اور بے ساختہ طور پر میں کتاب توحید کو اعلان کے انداز میں اپنی زبان سے دہرانے لگا۔ ۲۸ جنوری کی صبح کو ۹ بجے ایک پروگرام تھا۔ یہ نیشنل ویمنزپالی ٹکنک (قائم شده ۱۹۸۰ء) یہاں لڑکیوں کی تعداد تقریباً ۷۰۰ ہے۔ خواتین ٹیچر کی تعداد ۲۵ ہے۔ یہ مسٹرجی ایم صدیقی کی محنتوں سے قائم ہوا ہے۔ یہاں ہوم سائنس کے مختلف موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ میں سلائی سے لے کر کمپیوٹر تک تمام ضروری فنون شامل ہیں۔
اس کا معیار نہایت اعلیٰ ہے۔ چنانچہ یہاں کے ایک ایجوکیشن افسر نے ایک بار مسٹر جی ایم صدیقی کو بلایا۔ اس نے کہا کہ ہم اکثر اسکول کے ذمہ داروں کو شکایت کے لیے بلاتے ہیں۔ مگر آپ کو ہم نے اس لیے بلایا ہے کہ ہم آپ کے کام کا اعتراف اور قدر دانی کریں۔ یہ بچیاں زیادہ تر کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ نسیم علی خان صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ آمدنی کا کوئی تعلق تعلیم سے نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایک
سبق آموز واقعہ سنایا۔ نومبر 1993 میں لاتور کے علاقہ میں سخت زلزلہ آیا جس میں بستیاں تباہ اس میں جو لوگ بری طرح متاثر ہوئے ان میں سے ایک 16 سالہ لڑکا سنجے تھا، اس کا گھر تباہ ہوگیا۔ اس کے باپ نے بستی سے باہر جنگل میں ایک معمولی ٹینٹ میں اس کو رکھ دیا۔ حالات آخری حد تک خراب ہو گئے تھے ۔ مگر یہی لڑکا ہے جس نے اُس سال ہائی اسکول کے امتحان میں پورے مہاراشٹر میں ٹاپ کیا۔
سنجے نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ جنگل کے ٹینٹ میں جانا میرے لیے ایک ایڈوانٹیج وہاں کوئی دوست یا رشتہ دار ملنے والا نہیں تھا ، نہ ٹی وی جیسی کوئی اور چیز ، اس طرح سارا وقت پڑھنے کے لیے مل گیا۔ نسیم صاحب نے جگہ کا نام بتائے بغیر یہ قصہ سنایا ۔ پھر طالبات سے پوچھا کہ بتائیے یہ بچہ کہاں کا تھا ۔ ایک لڑکی نے اٹھ کر کہا کہ لاتور کا ۔ جناب اقبال صاحب نے فوراً پچاس روپیہ اپنی جیب سے نکالا اور اس لڑکی کو بطور انعام دیا۔
میں نے اپنی تقریر میں تعلیم کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے وہ گویا خدا کا ایک پودا ہے۔ اس کو بڑھ کر پورا درخت بننا ہے ۔ پودے کو درخت بنانے کا یہ عمل تعلیم کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ تعلیم کا یہ کام بے حد نازک بھی ہے اور بے حد اہم بھی ۔ ضرورت ہے کہ اس کو پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے ۔
تقریب کے بعد ہم لوگوں کو مدرسہ کی کلاسیں دکھائی گئیں ۔ ایک بعد ایک تمام کلاس اس دوران ہم لوگ جب کسی کمرہ میں داخل ہوتے تو وہاں کی طالبات کھڑی ہو جاتیں اور بلند آواز سے کہتیں السّلام علیکم۔
مگر ایک کمرہ میں ایسا نہیں ہوا ۔ ہم لوگ حسب معمول اس کے اندر داخل ہوئے۔ لڑکیاں اپنی اپنی میز پر جھکی ہوئی لکھنے میں مشغول رہیں ۔ کسی ایک نے بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ اٹھ کر ہم کو سلام کرے یا ہماری طرف دیکھے۔
میں نے جاننا چاہا کہ اس فرق کا سبب کیا ہے ۔ معلوم ہوا کہ اس کمرہ میں جو لڑکیاں تھیں وہ دراصل ٹیسٹ دے رہی تھیں ۔ ان کے ذہن میں یہ تھا کہ ہمارے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت ہے، وہ ایک منٹ کھوئے بغیر اپنے اس وقت کو استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ میں نے سوچا کہ یہی ہر
انسان کا معاملہ ہے، اگر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ ایک خدائی ٹیسٹ دے رہا ہے، اور صرف محدود مدت ہی اس کو حاصل ہے تو وہ مذکورہ لڑکیوں سے بھی زیادہ سنجیدہ ہو جائے گا۔ آفتاب احمد صاحب باندرہ میں کلثوم کتاب گھر چلاتے ہیں۔ یہ کتاب گھر عملاً الرسالہ اور الرسالہ کی مطبوعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک بار کچھ مخالفین نے انھیں دھمکی دی کہ تم الرسالہ اور الرسالہ کی مطبوعات کا کام بند کرو، ور ہم کتاب گھر میں آگ لگا دیں گے۔ آفتاب احمد صاحب نے کہا کہ بہت آپ آئیے، میں اپنی طرف سے آپ کو پانچ لیٹرتیل فری دوں گا۔ انھوں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے کہا کہ اس لیے کہ اس سے تو ہماری پبلسٹی ہوگی۔ ہمارا کام اور نہ زیادہ بڑھ جائے گا۔ شرمندہ ہو کر چلے گئے۔
۲۸ جنوری کی شام کو حسب ذیل افراد ملاقات کے لیے ہوٹل میں آئے :
مسٹر بی این جوگ، مسٹر دلیپ کورم بیلکر، مدھو دیو لیکر، گوپال بلی رام۔ یہ سب کٹر ہندو حلقہ سے تعلق رکھتے تھے اور صحافی تھے، دیر تک باتیں ہوئیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آج کا مسلم نوجوان کس طرح سوچتا ہے۔ نسیم علی خاں صاحب نے کہا کہ آج کے مسلم نوجوانوں کی سوچ یہ ہے کہ، ۱۹۴۷ میں جب بہت سے مسلمان پاکستان چلے گئے تو ہم نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اس ملک کے لیے قربانی مگر ہندو لوگوں کی طرف سے ہمیں کوئی قدر دانی نہیں ملی۔
ایک ہندو نے کہا کہ آپ کی سوچ یہ ہے کہ آپ نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کر کے قربانی دوسری طرف ہندو نوجوان کی سوچ یہ ہے کہ دیش کے بٹوارہ کے وقت مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہنس کے لیا ہے پاکستان، لڑ کر لیں گے ہندوستان۔ اسی لیے آپ لوگ یہاں ٹھہر گئے تاکہ لڑ کر ہندوستان کو لے سکیں۔ میں نے سوچا کہ دونوں طرف کس طرح دو مختلف سوچ الگ الگ چل رہی اس کا علاج صبح پکار نہیں ہے، بلکہ زیادہ سے زیادہ میل ملاپ ہے۔ اس غلط فہمی کو میل ملاپ ہی کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جوگ (پیدائش سنہ ۱۹۲۶) ہندوؤں کے انتہائی کٹر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ آر ایس ایس کے سرگرم ممبر ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی ایک کتاب یہ ہے :
B.N. Jog, Threat of Islam; Indian Dimensions Unnati Prakashan, ۸۵ صفحہ کی یہ کتاب پوری کی پوری اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں آکر زبردستی یہاں کے ہندوؤں کو مسلمان بنایا۔ اب اس کا واحد حل یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو دوبارہ ان کے سابق مذہب کی طرف واپس کر دیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ دونوں عمل میں فرق یہ ہوگا کہ ابتدائی تبدیلی مذہب (کنورژن) جبر کے ذریعہ ہوا، اب دوبارہ تبدیلی مذہب (reconversion) ان کے آزاد ارادہ کے تحت ہوگا (صفحہ ۴۸۲)
کتاب کی رسید بھیجتے ہوئے میں نے مسٹر جوگ کو لکھا تھا کہ میں فلاں تاریخ کو بمبئی آ رہا ہوں اور فلاں جگہ میرا قیام ہوگا۔ اس کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملنے کے لیے آئے۔ میں نے ان سے بالکل معتدل انداز میں گفتگو کی۔ کسی قسم کی بیزاری کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب پڑھ لی ہے۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ ہندو کے اوپر ظلم کیا اور انھیں زبردستی مسلمان بنایا۔ یہی تمام مسائل کی اصل جڑ ہے، اور اب اس کا حل صرف ری کنورژن ہے، یعنی ان مسلمانوں کو دوبارہ ان کے قدیم مذہب کی طرف واپس لوٹانا۔
مگر کتاب میں یہ بات دعویٰ کی زبان میں کہی گئی ہے۔ اس کے حق میں کوئی تاریخی دلیل نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ تمام بڑے مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کی بات تاریخ سے ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً انگریز مورخ ڈاکٹر ٹائٹس (Titus) نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کا داخلہ ایک پرامن داخلہ (Peaceful Penetration) تھا۔ یہی بات خود سوامی ویویکانند نے حتی کہ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ کہنا ایک لغوبات (nonsense) ہے کہ ہندوستان میں جبری کنورژن ہوا ہے۔
پھر میں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی تعمیر و ترقی کی پہلی شرط یہ ہے کہ پندرہ کروڑ مسلمانوں کو دوبارہ ہند وبنایا جائے تو پھر یہ ترقی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ جن ہندوؤں نے آپ کے بقول، جبر کے تحت اپنا مذہب بدلا تھا وہ سیکڑوں سال پہلے تھے موجودہ مسلمان تو ان کی بہت
بعد کی نسلیں ہیں۔ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کوئی گروہ اپنا مذہب بدلتا ہے تو بعد کی نسلوں کے لیے وہ ان کا فخر بن جاتا ہے۔ موجودہ مسلم نسلوں کے لیے اسلام ان کا فخر اور دوبارہ تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی گروہ اپنے فخر کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ پچھلے پچاس برس میں اس نظریہ کے ماننے والوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی حد تک جاکر زبردست تحریک چلا رکھی ہے، مگر وہ کسی بھی مسلمان کو ”ری کنورٹ“ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسلمان توحید کو اپنا فخر بنا چکے ہیں اور اب وہ ری کنورژن کو توحید سے شرک کی طرف واپسی سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کو ان کا فخر چھوڑنے پر راضی کیا پھر وہ کون سی تدبیر ہے جس کے ذریعہ اس ناممکن کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ مسٹر جوگ نے میری باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ ان کے چہرہ سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اپنے موقف کی کمزوری پر وہ شرمندہ ہو رہے ہیں۔
جناب ہارون شیخ صاحب نے بتایا کہ ضیاء الدین خلیفہ (۸۰ سال) انجمن ہائی اسکول میں پرنسپل ان کا ایک تجربہ بہت سبق آموز ہے۔ ان کا طریقہ تھا کہ وہ کلاس کا معائنہ کرتے اور لڑکوں کا جائزہ لیتے ۔ جس طالب علم کو دیکھتے کہ وہ سب سے زیادہ شریر ہے، اسی کو کلاس کا مانیٹر بنا دیتے ۔ اور وہ لڑکا بہترین مانیٹر ثابت ہوتا تھا۔
میں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ شریر آدمی سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور جو آدمی میٹھی باتیں کرے اس کو اچھا سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ شریر آدمی کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیر منافق ہے۔ منافق آدمی ہی ہمیشہ کام کا ہوتا ہے۔ منافق آدمی سے آپ کسی بھی کام کی امید نہیں کر سکتے۔ جناب نسیم علی خاں صاحب نے ضیاء الدین خلیفہ صاحب کا ایک اور تجربہ بتایا۔ انجمن اسلام کے تحت انگلش میڈیم کا ایک اسکول کھولا اور اردو کو اس میں سیکنڈ لینگویج بنا دیا۔ انجمن اسلام کے تحت جو خالص اردو میڈیم اسکول چل رہے ہیں ان کے معیار کے بارہ میں عام طور پر لوگوں کو شکایت ہے۔ اس کے برعکس انگلش میڈیم اسکول اردو و سیکنڈ لینگویج کے ساتھ) کا معیار نہایت اعلیٰ ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ نسیم علی خاں صاحب نے کہا کہ اردو میڈیم والوں کے سامنے دوسرے اردو میڈیم اسکول ہوتے تھے۔ اس بنا پر ان میں مقابلہ کا جذبہ
پیدا انہیں ہوتا تھا۔ جب کہ انگلش میڈیم والوں کے سامنے مقابلہ کے لیے انگلش اسکول ہوتے ہیں جو نہایت اعلیٰ معیار پر چلائے جا رہے ہیں۔ اس بنا پر انگلش میڈیم کا معیار اپنے آپ زیادہ اونچا ہو جاتا ہے۔
میرے کمرہ میں ٹائمز آف انڈیا کا بمبئی ایڈیشن (۲۶ جنوری) موجود تھا۔ اس کے پہلے صفحہ پر ایک نمایاں چار کالی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ گاندھی سمادھی کی تقریب سے فراغت کے بعد مسٹر نیلسن منڈیلا ایک کرسی پر تعجب خیز مسرت کے انداز میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور مرکزی وزیر مسٹر جگدیش ٹائٹلر کے قدموں کے پاس زمین پر بیٹھ کر ان کو جوتا پہنا رہے ہیں۔ کے نیچے لکھا ہوا تھا :
South African President Nelson Mandela being helped by Union surface transport minister Jagdish Tytler to tie his shoes after laying a wreath at Gandhi samadhi in New Delhi on Wednesday. Rochell Mitirara, grand- daughter of Mr. Nelson Mandela, looks on. یہ نیلسن منڈیلا کی قربانیوں کی قیمت ہے۔ وہ ۱۹۱۸ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ساؤتھ افریقہ کی سیاہ فام اکثریت کی آزادی کی جد و جہد شروع کی۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزرا۔ یہاں تک کہ لمبی پر مشقت جد و جہد کے بعد ۱۹۹۳ میں وہ ساؤتھ افریقہ کے پہلے بلیک پریذیڈنٹ یہ ایک شخص کی قربانیوں کی وہ قیمت ہے جو دنیا میں اسے ملی۔ اسی طرح کچھ اللہ کے بندے آخرت کے لیے قربانیاں دیں گے ۔ اور پھر شاندار تر انداز میں وہ وہاں اس کی ابدی قیمت پائیں گے ۔
بھارتیہ ودیا بھون کا جلسہ ۲۹۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۵ کو تھا۔ وہ بھون کی وسیع عمارت کے ہال میں ہوا۔ بمبئی کے حلقہ الرسالہ کی طرف سے اس موقع پر الرسالہ کا اور کتابوں کا اسٹال لگایا گیا۔ بہت سے لوگوں نے کتابیں دیکھیں اور اپنے لیے حاصل کیں۔
دو روزہ اجلاس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں ، اور موضوع پر اپنے خیالات میری تقریر ۳۰ جنوری کو تھی ۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انسانی سماج وہی ہے جواقدار (respect) پر مبنی ہو۔ جس سماج میں اقدار مٹ جائیں وہ حیوانی
سماج ہے، اس کے بعد اس کو انسانی سماج نہیں کہا جا سکتا۔
پھر میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جتنی بھی بڑی تحریکیں اٹھیں وہ سب روایت شکنی کی بنیاد پر اٹھیں، اور روایت شکن تحریکیں اٹھانا ہی اقدار کو توڑنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں اٹھنے والی تحریکیں ہی اگر سب کچھ ہوتیں تو اب تک ہمارے ملک میں اقدار کا یکسر خاتمہ ہو گیا ہوتا۔ مگر خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اقدار کا احترام خود انسانی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یہی انسانی فطرت ہے جس کی بنا پر آج بھی کسی نہ کسی درجہ میں اقدار کا تصور ہمارے سماج میں
میں نے کہا کہ ہماری تعلیم گاہیں، ہمارا میڈیا، ہماری مجلسیں، غرض ہماری تمام فکری سرگرمیوں کو اقدار رخی ہونا چاہیے ۔ یہی کسی سماج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سماج کے اندر اگر اقتدار کا تصور زندہ ہو تو بقیہ مطلوب چیزیں اپنے آپ زندہ ہو جائیں گی ۔ اور اگر اقدار مٹ جائیں تو بقیہ مطلوب چیزیں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی ۔
میں نے کہا کہ سو سال پہلے سوامی ویویکانند امریکہ گئے ۔ ایک روز وہ وہاں شہر کی ایک سڑک پر چل رہے تھے ۔ اس دوران ایک امریکی مرد اور عورت قریب سے گزرے ۔ سوامی جی حسب معمول سادہ قسم کے گیروے لباس میں تھے ۔ ان کو یہ لباس کچھ غیر مہذب دکھائی دیا۔ اپنے مرد ساتھی سے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ یہ شخص کوئی جنٹل مین دکھائی نہیں دیتا۔ نے اس کی یہ بات سن لی۔ سوامی جی آہستہ چل کر ان کے قریب گئے اور کہا کہ خاتون محترم، مجھے معاف آپ کے دیس میں درزی کسی آدمی کو جنٹل مین بناتا ہے۔ مگر میں جس دیس سے آیا ہوں، وہاں کیریکٹر کسی آدمی کو جنٹل مین بناتا ہے:
Excuse me Madam. In your country tailor makes a man gentleman, but in the country from which I come character makes a man gentleman. سو سال پہلے ایک ہندوستانی امریکہ میں جا کر یہ بات کہہ سکتا تھا۔ مگر آج کوئی ہندوستانی باہر کے دیس میں اس قسم کی بات کہنے کی ہمت نہیں کر سکتا ۔ امریکہ کے ایک سفر میں میں نے ایک امریکی پروفیسر سے سوامی ویویکانند کا یہ واقعہ بیان کیا۔ اس نے جواب دیا کہ سو سال پہلے تمہارا
انڈیا ایسا ہی ہوگا۔ لیکن آج کے انڈیا کے لیے کُر کر کے کی بات ایک ایکسپورٹ آئٹم ہے وہ لوکل کنزپشن کی چیز نہیں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے جتنے بھی رہنما ہیں، مثلاً سید جمال الدین افغانی، محمد اقبال، ابوالکلام آزاد، سید قطب، سید ابوالاعلیٰ مودودی، سید ابوالحسن علی ندوی، ان میں سے ہر ایک نے امت کے احیاء کا راز یہ سمجھا کہ امت کے اندر امامت اور قیادت کا شعور جگایا جائے۔ مگر یہ الٹی خوراک تھی۔ کوئی بھی نظام، خواہ وہ سیکولر ہو یا دینی، ایسے لوگوں کے درمیان نہیں چل سکتا جہاں ہر شخص قائدانہ حوصلہ اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہو۔ ایک لاکھ آدمی ہوں تو 99999 آدمی کو مقتدی بننا پڑتا ہے تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص آگے کھڑے ہو کر ان کی امامت یہ سبق جو ہر روز نماز میں دیا جاتا ہے یہی کامیاب نظام کا راز بھی ہے۔ جس سماج کے لوگ ماتحتی قبول کرنے پر راضی ہوں انھیں کے یہاں کوئی صحیح نظامِ اقتدار قائم ہوتا ہے۔ برعکس، جہاں ہر آدمی حاكم بننا چاہتا ہو وہاں وہی خلفشار وجود میں آتا ہے جو آج ہمارے ہر ادارہ میں چھوٹی سطح پر اور افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں زیادہ بڑی سطح پر دکھائی دے رہا ہے۔
موجودہ زمانہ کی تحریکوں نے پوری ملت کو قیادت پسند ملت بنا دیا ہے۔ باہمی جھگڑوں کی جڑ ہے۔ اگر نماز با جماعت والی ا سپرٹ لوگوں کے اندر جگائی جاتی تو تمام لوگ اقتداء پسند ہوتے اور پھر اپنے آپ وہ چیز وجود میں آ جاتی جس کو متحدہ طاقت کہا جاتا ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے فوراً بعد میں بمبئی گیا تھا جب کہ وہاں فساد ہو گیا تھااور ابھی کر فیونافذ اس موقع پر پولیس کی خصوصی اجازت سے مدھو مهتا (وفات ۲۷ اگست ۱۹۹۵) وغیرہ نے ایک جلسہ کرایا، اس موقع پر اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے میں نے کہا تھا :
"بمبئی کے بھائیو اور بہنو، ہم ایک ایسے وقت میں آپ کے پاس آئے ہیں جبکہ آپ ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہوئے ہیں۔ مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ میرے پاس دعاؤں اور آنسوؤں کے سوا کوئی اور چیز دینے کے لیے نہیں۔ اس جنونی دور میں آپ کا جو نقصان ہوا اس کو میں آپ کی طرف لوٹا نہیں سکتا۔ مگر میرے پاس زندگی کا ایک پیغام ہے اور زندگی کا
پیغام بلاشبہ موت کی خبر سے زیادہ بڑا ہے۔ میرے پاس مادی طاقت یں مگر میرے پاس اخلاقی طاقت کا نسخہ ہے۔
عیسیسی: اس دنیا میں ہمیشہ پرابلم کے ساتھ سولیوشن موجود ہوتا ہے۔ واقعہ میں بھی مائنس پوائنٹ کے ساتھ پلس پوائنٹ موجود ہے ۔
زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ آگ جلاتی ہے، اس سے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ یہاں پانی ہے جس سے ہم آگ کو بجھا سکتے ہیں۔ زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ جسم کو زخم لگتا ہے، زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ جسمانی نظام میں سیلنگ پر اس ہے جو زخم کا اندمال کرتا ہے۔ نہ زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ درخت کے پتے جھڑتے ہیں، زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ دوبارہ ہری پتیاں نکل
موجودہ سفر میں اندازہ ہوا کہ میرا مذکورہ اندازہ اب بمبئی میں ایک واقعہ بن چکا ہے۔ ۶ دسمبر کا حادثہ یہاں کے مسلمانوں کے لیے ایک تازیانہ ثابت ہوا۔ آج وہ ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ بہتر ہیں ۔
یکم فروری ۱۹۹۵ کی صبح کو بمبئی سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایر لائنز کے ذریعہ طے ہوا۔ راستہ میں کچھ اخبارات دیکھے۔ ایک اخبار میں ایک پرائیوِیٹ ایر لائنز کا اشتہار تھا۔ اس میں ایر لائنز کے بارے میں مختلف تفصیلات دی گئی تھیں۔ مثلاً یہ کہ " آج ہم بھارت کے مختلف حصوں سے روزانہ ۲۵ مقامات سے ۲۷، کمرشیل پروازیں کرتے ہیں" اس میں مزید بتایا گیا تھا کہ :
" ہر قسم کی خرابی سے مبرا دس طیاروں کا شاندار بیڑا جس کی بہترین نگہداشت کے لیے ہی ایک کروڑ امریکی ڈالر کے فاضل پرزے اسٹاک کیے گئے ہیں"
یہ زندگی کا ایک قانون ہے جس کا تعلق صرف ہوائی جہاز سے نہیں ہے بلکہ تمام معاملات جو لوگ پیشگی تحفظ کی اس تدبیر کو اختیار کر سکیں وہی اس دنیا میں کامیابی کے ساتھ منزل پر پہنچتے ہیں۔ اسی کو شاعر نے ان لفظوں میں بیان کیا :