حکمت دعوت
Al-Risala, January 1998, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
ولادیمیر اول (Vladimir) ۹۵۶ میں پیدا ہوا۔ اور ۱۰۱۵ میں اس کی وفات ہوئی۔ کا پہلا عیسائی بادشاہ ہے۔ وہ ابتدا بُت پرست تھا اس نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ بعد اس نے روسی باشندوں کو عیسائی بنانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ تمام بت دریاؤں میں پھینک دیے گئے ۔
گیارہویں صدی عیسوی کے ایک مسیحی راہب یعقوب (Jacob) نے اس سلسلے میں جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ بہت سبق آموز ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ شاہ روس ولادیمیر کا یقین اپنے آبائی مذہب (بت پرستی) سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد اس نے تحقیق کے لیے یہودی، عیسائی اور اسلامی علماء کو بلایا اور ہر ایک سے اس کے مذہب کے بارے میں مفصل گفت گو کی انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا تذکرہ
یعقوب کے بیان کے مطابق، یہودی علماء نے کہا کہ ہمارا خدا ہم سے ناراض ہے، اس لیے ہم کو نہیں معلوم کہ ہمارا مقام زمین میں ہے یا آسمان میں۔ ولادیمیر نے کہا کہ مجھے ایسے مذہب کی ضرورت نہیں ۔
مسلم علماء کی زبان سے اسلام کی تعلیمات کو سن کر اس کو اسلام سے دل چسپی پیدا ہوئی حتی کہ وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ مگر اس نے کہا کہ میں شراب کا بہت زیادہ عادی ہوں ۔ میں اور سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں مگر میں شراب کو نہیں چھوڑ سکتا۔ مسلم علماء نے کہا کہ ہمارے مذہب میں شراب اس لیے اگر تم اسلام قبول کرتے ہو تو شراب بھی تم کو لازماً چھوڑنی پڑے گی۔ اس نے علماء سے بہت زیادہ کہا کہ شراب کے معاملے میں اسے رخصت دے دی جائے مگر علماء اس پر راضی نہیں ہوئے ۔ چنانچہ بات ختم ہو گئی اور شاہ روس اسلام قبول کرنے سے باز رہا۔
اس کے بعد شاہ روس ولادیمیر نے عیسائی مذہب کے لوگوں سے گفتگو کی۔ عیسائی عالموں نے زیادہ حکمت اور دانش مندی کا ثبوت دیا۔ وہ اگرچہ اپنے مذہب اور عقائد کے معاملے میں بادشاہ کو زیادہ مطمئن نہ کر سکے تھے، مگر انھوں نے شراب کے معاملے میں بادشاہ کو رخصت دے دی۔
اصولی اعتبار سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود عملی اعتبار سے اس نے اس کو پسند کر لیا۔ چنانچہ گفتگو کے آخر میں شاہ روس نے مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا۔ پروفیسر رابرٹس کے الفاظ میں : ـــــــــ یہ واقعہ روس مکی تاریخ اور کلچر میں ایک نقطہ انقلاب بن گیا۔
It was a turning point in Russian history and culture. قدیم زمانہ ”الناس علی دین ملوکهم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ روس کے لوگوں نے اپنے بادشاہ کے مذہب یعنی مسیحیت کو اختیار کر لیا۔ بہت جلد پورے ملک میں مسیحیت پھیل گئی۔ روس کا علاقہ موحدین کے بجائے غیر موحدین کا علاقہ بن گیا۔
مذکورہ علماء نے جو بات کہی وہ فقہی مسئلے کے اعتبار سے درست تھی، مگر وہ دعوتی مسئلے کے اعتبار سے درست نہ تھی۔ فقہ کی کتاب میں اسلام کے مسائل صرف اپنی قانونی حیثیت میں بیان کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فقہ کی کتابوں میں مسائل کی جو فہرست دی گئی ہے اس کو ویسے ہی کا ویسے ہی نافذ بھی کرنا ہے۔ عملی نفاذ میں تدریج کا اصول ہے نہ کہ فہرست بندی کا اصول۔ اسلام کے دور اول میں اسی تدریج کو استعمال کیا گیا۔ حتیٰ کہ کی دور میں یہ حال تھا کہ ایمان لانے کے باوجود شراب پینے والے شراب پیتے تھے۔ یہی تدریجی حکمت بعد کے زمانوں میں بھی اختیار کی تدریجی حکمت کے بغیر دعوت کی توسیع ممکن نہیں۔