اسلامی اخلاق
Al-Risala, April 1998, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
شوہر اور بیوی کے درمیان اگر اختلاف ہو جائے تو اس وقت دونوں کو کیا کرنا اس کا حکم بتاتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــــ طلاق دو بار ہے ۔ پھر یا تو قاعِدہ کے مطابق رکھ لینا ہے۔ یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ( الطلاق مرّتَن فَاِمْسَاكُ بِمَعْرُوفٍ اَوْ تَسْرِيحُ بِاِحْسَانٍ) البقره ۲۲۹ - یہ آیت اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے شوہر اور بیوی کے تعلق کے بارے میں آئی ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک وسیع تر انطباق بھی ہے ۔ یہ آیت در اصل اسلام کی ایک اخلاقی اسپرٹ کو بتاتی ہے ۔ اسپرٹ کا تعلق تمام انسانی تعلقات سے ہے ۔
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی معاملاتی تعلق قائم ہوتا ہے ۔ مثلاً مل کر سفر کرنا ، مل کر ادارہ چلانا ، مل کر تجارت کرنا ، اس طرح کے ہر ملاپ میں دو یا زیادہ انسان کبھی محدود مدت کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور کبھی لمبی مدت کے لیے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں مستقل تعلق کے نام پر دو شخصوں کے درمیان ملاپ قائم ہوتا ہے ۔ مگر بعد کو ایسی صورتیں پیش آتی ہیں کہ ان کا باہمی تعلق ٹوٹ جاتا ہے ۔
ایسے تمام معاملات میں اتحاد کے متعلق طرفین کو جس اسلامی اصول کی پابندی کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ یا تو خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو باقی رکھیں ، یا خوش اسلوبی کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ۔
دو انسان جب کسی مقصد کے لیے باہم متحد ہوں تو شریعت انھیں یہ حکم نہیں دیتی کہ وہ ہر حال میں اپنے اتحاد کو باقی رکھیں ۔ لیکن معاملے کے دونوں فریقوں کے لیے شریعت کا یہ لازمی حکم ہے کہ وہ اتحاد اور اختلاف دونوں حالتوں میں اخلاقی معیار کو ترک نہ کریں ۔ دونوں میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ تعلق ٹوٹنے کے بعد ایک فریق دوسرے کو بد نام کرنے لگے یا اس کی جڑ اکھاڑنے کے لیے سرگرم ہو جائے ۔