احترام انسانیت
Al-Risala, April 1998, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ تمام انسان خدا کی عیال ہیں ۔ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اچھا انسان وہ ہے جو اس کی عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرے (رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم انه قال : الخلق كلهم عيال الله، و احبّ خلق الله تعالى اليه احسنهم ضيعا الى عيالم) ادب الدنیا والدین للھصری ۵۲۷ انسانی سماج کی بہتر تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام پایا جائے ، لوگ ایک دوسرے کی عزت کریں ، لوگ ایک دوسرے کے قدرداں بنے ہوئے ہوں ۔
احترام کا یہ جذبہ لوگوں کے اندر کس طرح پیدا کیا جائے ۔ اس کا سب سے زیادہ موثر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرائی جائے کہ جس خالق نے مجھ کو پیدا کیا ہے اسی خالق نے دوسرے انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے ۔ تمام انسان گویا ایک خدا کا تمام انسان ایک خدا کے عیال کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
یہ شعور آدمی کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اور دوسرے میں فرق نہ کرے ۔ وہ دوسرے کو بھی اتنا ہی قابل قدر سمجھے جتنا وہ خود اپنے آپ کو قابل قدر سمجھ رہا ہے ۔ انسان کی تحقیر کرتے ہوئے وہ محسوس کرے کہ میں نے خدائی کنبہ کے ایک فرد کی تحقیر کی۔ جب وہ کسی انسان کو عزت دے تو وہ اس سے یہ خوشی حاصل کرے کہ اس نے خدائی کنبہ کے ایک فرد کو عزت و احترام دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں کہ وہ ایک ایسا عمل کرے جو اس کو یہ خوشی دے رہا ہو کہ میں نے خدائی کنبہ کے ایک شخص کو عزت دی ہے۔ خدائی کنبہ کے ایک شخص کے ساتھ احترام کا معاملہ کیا ہے۔ یہ نظریہ ایک طرف آدمی کو خدا کی نظر میں قابل انعام بناتا ہے ۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس عمل کے دوران انسان کے اندر اعلیٰ احساسات جاگتے ہیں ۔ دوسرے کو عزت دے کر خود اپنے آپ کو ایک باعزت انسان بنا لیتا ہے ۔