Al-Risala · April 1998

اصلاح کا جذبہ

Al-Risala, April 1998, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن، مومن کا جب وہ اس میں کوئی عیب دیکھتا ہے تو اس کو درست کر دیتا ہے (المُؤْمِنُ مِرْآةُ المُؤْمِنِ، اِذَا رَأَى فِيهِ عَيْباً اَصْلَحَهُ) ادب الدنیا والدين للبصری، صفحہ ۳۸۱ انسان کی انسانیت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا خیر خواہ ہو۔ دوسرے انسان کی بہتری چاہے۔ ہر انسان کا یہ حال ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا بھائی سمجھے، وہ ان کی ترقی پر خوش ہو، اور اگر کسی بھائی میں کوئی خرابی دیکھے تو وہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت اس کی اصلاح کے لیے مستعد ہو جائے ۔

جس سماج میں لوگوں کا یہ حال ہو وہاں ہر انسان دوسرے انسان کے لیے آئینہ کی مانند اگر آپ آئینہ کے سامنے کھڑے ہوں تو وہ کسی کمی یا زیادتی کے بغیر آپ کے اصل چہرے کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح ایک سچے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کسی دوسرے انسان کے اندر کوئی کمی یا خرابی دیکھتا ہے تو اس کا انسانی جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اس سے باخبر کر دے۔ سچے انسان کے لیے ایسے معاملہ میں چپ رہنا ممکن نہیں۔ آئینہ جب کسی کو اس کے چہرے کی خرابی دکھاتا ہے تو اس کے اندر کوئی برا جذبہ نہیں آئینہ کا کام صرف خرابی کو بتانا ہے نہ کہ خرابی والے انسان کو نیچا دکھانا۔ اسی طرح سچا انسان وہ ہے جو اپنے بھائی کو اس کی خرابی سے آگاہ کرے تو اس کے دل میں بھائی کے خلاف نفرت یا حقارت کا کوئی جذبہ نہ ہو، ایسا کرتے ہوئے نہ وہ اپنے آپ کو اونچا سمجھے اور نہ دوسرے اس کا مقصد صرف عیب کی اصلاح ہو نہ کہ عیب کا اشتہار۔

آئینہ آدمی کے چہرہ پر کوئی دھبہ بتائے تو آدمی کسی رکاوٹ کے بغیر فوراً اس کو قبول کر لیتا ہے۔ جب انسان کسی آدمی کو اس کا عیب بتائے تو اکثر وہ اس کو اپنی عزت اور غیرت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ آدمی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ انسان کی نشاندہی کو بھی اسی طرح خوش دلی کے ساتھ قبول کر لے جس طرح وہ آئینہ کی نشاندہی کو قبول کرتا ہے۔

Printed page