Al-Risala · April 1998

اپنا محاسبہ

Al-Risala, April 1998, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ تم لوگ خود اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے (حاسبو ا انفسکم قبل ان تحاسبوا) الترمذی انسان موجودہ دنیا میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہے مگر وہ انجام کے معاملہ میں آزاد نہیں۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو چاہیں بولیں اور جو چاہیں کریں۔ مگر آپ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنے آپ کو اپنے قول وعمل کے انجام سے بچا سکیں۔

آدمی اپنی زبان سے کڑوا بول بولے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ سننے والوں پر کڑوے بول کا بھی وہی رد عمل ہو جو میٹھے بول کا ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنی زبان سے کڑوا بول بولے اس کو جاننا چاہیے کہ اس کو بہر حال لوگوں کی طرف سے منفی رد عمل کی قیمت بھگتنی پڑے گی۔ بے سوچے سمجھے عمل کرے اس کو جاننا چاہیے کہ اس کا اس قسم کا عمل فطرت کے قانون کے مطابق اپنا نتیجہ ظاہر کرے گا نہ کہ اس کی ذاتی خواہش کے مطابق۔

آدمی کے قول وعمل کا ایک انجام وہ ہے جو فوری طور پر دنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ دوسرا انجام وہ ہے جو موت کے بعد آخرت میں ظاہر ہو گا۔ آخرت کا انجام بھی بہر حال اسی طرح سامنے آنے والا ہے جس طرح دنیا کا انجام آدمی کے سامنے فوراً آ جاتا ہے۔ آدمی کو بلاشبہ یہ اختیار ہے کہ وہ جو چاہے ہے بولے اور جو چاہے کرے۔ مگر یہ اختیار کسی کو بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے قول وعمل کے انجام سے اپنے کو بچا سکے، نہ موجودہ دنیا میں اور نہ آخرت کی دنیا میں، جو مرنے کے بعد ہر ایک کے سامنے آنے والی ہے۔

ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ ہر آدمی اپنا نگراں آپ بن جائے۔ ہر آدمی اس کو اپنا معمول بنالے کہ ہر روز وہ اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ ہر آدمی اپنا بے لاگ جائزہ لے کہ اس نے جو کچھ کیا کیا کہا، کیا وہ اس قابل تھا کہ اس کو کہا جائے اور کیا جائے ، یا وہ اس قابل نہ تھا۔ قبل اس کے کہ آدمی کی کارگزاری کا انجام اس کے اوپر ٹوٹ پڑے اسے چاہیے کہ وہ اپنا محاسبہ کر کے پیشگی طور پر اس سے بچنے کے لیے فکر مند ہو جائے۔

Printed page