Al-Risala · April 1998

امانت داری

Al-Risala, April 1998, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی امانت تمہارے سپرد کی ۔ اس کی امانت اس کو واپس کرو۔ کوئی شخص تم سے خیانت کرے تب بھی تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ( (ادّا الْاَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَّنْ عام حالت میں ایک آدمی اپنی فطرت پر ہوتا ہے، فطرت انسان کی نہایت صحیح معلم ہے۔ چنانچہ عام حالت میں انسان وہی کرتا ہے جو اسے کرنا چاہیے ۔ وہ امانتوں کو ادا کرتا ہے اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرتا ہے جو انسانیت کے مطابق ہو۔

انسان کی اصل جانچ عام حالت میں نہیں ہے بلکہ خاص حالت یا ہنگامی حالت میں مثلاً چھوٹی امانت کا معاملہ ہو تو آدمی اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتا۔ پر اسے ادا کر دیتا ہے۔ لیکن جب معاملہ کسی بڑی امانت کا ہو تو اس وقت وہ بدل جاتا ہے۔ وہ انسانی اور اخلاقی اصولوں کو توڑ کر یہ کوشش کرنے لگتا ہے کہ اس کو امانت ادا کرنا نہ ہو، دوسرے کی چیز کو وہ اپنے قبضہ میں لے لے۔

مگر یہ سخت غیر انسانی فعل ہے۔ امانت ہر حال میں قابل ادائیگی ہے۔ خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی حتیٰ کہ اگر صاحب امانت کے پاس اپنی امانت کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو تب بھی وہی اپنی امانت کا مالک ہے اور امانت دار پر اس کی ادائیگی اسی طرح ضروری ہے جس طرح ثبوت کی موجودگی میں ضروری ہوتی ہے۔

انسان کا حال یہ ہے کہ عام حالت میں وہ لوگوں کے ساتھ بد معاملگی یا خیانت نہیں کرتا لیکن جب کوئی شخص اس کے ساتھ خیانت کا معاملہ کرے تو وہ ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ منفی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ چاہنے لگتا ہے کہ جس نے اس کے ساتھ خیانت کا معاملہ کیا ہے وہ بھی اس کے ساتھ مزید اضافہ کے ساتھ خیانت کا معاملہ کرے۔ مگر ایک شخص کی خیانت دوسرے شخص کے لیے خیانت کو جائز نہیں کرتی ۔

Printed page