عفو و تواضع
Al-Risala, April 1998, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ صدقہ دینے سے مال اور بندہ جب معاف کرتا ہے تو خدا اس کی عزت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ بندہ خدا کے لیے تواضع کرتا ہے خدا اس کو بلندی عطا کر دیتا ہے (ما نقصت صدقہ من مال وما زاد الله عبداً بعفو إلا عِزّاً وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله) صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب ۔
اخلاق دوسرے لفظوں میں ، دینے کا ایک معاملہ ہے۔ جب آدمی کسی سے اچھا بول بولتا ہے یا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو وہ اس کو اپنی محبت دے رہا ہوتا ہے۔ طرح جب ایک شخص کسی دوسرے کی مالی مدد کرتا ہے تو وہ بھی اپنی چیز کو دوسرے کے لیے دینا ہوتا ہے ۔
بظاہر یہ دینا یک طرفہ معلوم ہوتا ہے۔ یعنی آدمی دوسرے سے کچھ پائے بغیر اس کو اپنے پاس سے دے رہا ہے۔ مگر کوئی بھی اخلاقی معاملہ یک طرفہ معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دینے میں پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔
جس سماج میں لوگ ایک دوسرے کی مالی مدد کریں ، ان کے اندر جمع کرنے کے بجائے خرچ کرنے کا مزاج ہو، اس سماج میں دولت کی گردش بڑھے گی اور استحصالی ذہنیت کا ایسے ماحول میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ دینے والا مختلف طریقوں سے اپنے دینے کے فوائد میں حصہ دار بن جائے ۔ ایسے سماج میں جب عمومی بہبودی آئے گی تو اس کا فائدہ ہر ایک کو پہنچے گا یہاں تک کہ دینے والے کو بھی ۔
جب کوئی شخص آپ کے سامنے سرکشی کرے اور آپ اس کے مقابلہ میں جوابی انداز اختیار نہ کریں بلکہ تواضع کا انداز اختیار کریں تو فطرت کا قانون حرکت میں آکر آپ کا درجہ اونچا کر دیتا ہے اور دوسرے کا درجہ نیچا۔ اس طرح تواضع کی روش اختیار کرنا عملی نتیجہ کے اعتبار سے آدمی کے لیے سرفرازی کا سبب بن جاتا ہے ۔