Al-Risala · April 1998

برائی کے بدلے بھلائی

Al-Risala, April 1998, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ خدا برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے۔ گندگی، گندگی کو صاف نہیں کرتی (إنّ الله لا يَمْحُو السّيئ بالسّيئ، وَلكنْ يَمْحُو السّيّئ بالحسن إنّ الخبيث لا يَمْحُو الخبيث) مسند احمد لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو اس کو سماج میں سر خرو بنانے والا ہو۔ پھر آدمی کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاق کی روش سے ہٹ جاتا ہے ، اس کا سبب جوابی نفسیات ہے۔

سماج میں جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے جذبات کو دوسرے آدمی سے کوئی ٹھیس پہنچے تو پہلا آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میری عزت خطرہ میں آگئی۔ اپنی عزت کو محفوظ کرنے کا طریقہ اس کی سمجھ میں یہ آتا ہے کہ وہ دوسرے شخص پر جوابی حملہ کر کے معاملے کو برابر کرلے۔ مگر یہ ایک غلط تدبیر ایسی کسی کارروائی کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔

جس طرح ایک گندگی کو دوسری گندگی کے ذریعہ پاک نہیں کیا جا سکتا اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک غلطی کو دوسری غلطی کے ذریعہ درست کیا جائے۔ بداخلاقی کا جواب بداخلاقی نہیں۔ اصلاح کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ جس آدمی نے بداخلاقی کا سلوک کیا ہے اس کے ساتھ حسنِ اخلاق کا سلوک کیا جائے۔

جب آپ برے سلوک کا جواب برے سلوک سے دیں تو فریقِ ثانی کے اندر انتقامی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ وہ آپ کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ برے سلوک کا جواب اچھے سلوک سے دیں تو فریقِ ثانی کے اندر شرمندگی کا احساس جاگ اٹھے گا، وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا۔ اس کا یہ جذبہ خود ہی اس کو مجبور کرے گا کہ وہ آپ کے بارے میں اپنے رویہ کو درست کرلے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی معاملہ کو اپنے انتقامی جذبہ کی تسکین کا مسئلہ نہ بنائے، بلکہ اس کو صرف حل کی نظر سے دیکھے۔

Printed page