Al-Risala · April 1998

نجات کا ذریعہ

Al-Risala, April 1998, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ خدا قیامت کی تکلیفوں سے اسے بچائے تو اس کو چاہیے کہ وہ قرض دار کو مہلت دے یا وہ اس کو معاف کردے (عن ابی قتادہ قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم من سَرَّهُ ان یُنجیَّه الله من کُرَبِ یوم القیامۃ فلیُنفس عن معسِرٍ او یضع عنه) مسلم ایک آدمی اپنی ضرورت کے لیے کسی سے قرض لے اور جب ادائیگی کا مقرر وقت آئے تو وہ اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتا ہو، ایسی حالت میں قرض دینے والے کو چاہیے کہ وہ قرض دار کو مزید مہلت دے۔ اور اگر اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے قرض دینے والا اپنے قرض کو معاف کردے تو اس کا یہ عمل خدا کو بہت پسند ہے۔ خدا ایسے بندوں کے ساتھ آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائے گا جو دنیا میں انسانوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کریں۔

اس اصول کا تعلق صرف قرض سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے اور دوسرا آدمی یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ اس کو اس مشکل سے نکالے اور اس کو راحت پہنچائے۔ ایسا ہر موقع آدمی کے لیے اس اعتبار سے نہایت قیمتی ہے کہ وہ اپنے بھائی پر مہربانی کر کے زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے لیے خدا کی مہربانی حاصل کرلے۔

دوسرے کا بوجھ اتارنا اپنے انجام کے اعتبار سے اپنے بوجھ کو ہلکا کرنا ہے۔ دوسرے کے کام آنا آخر کار یہ فائدہ دیتا ہے کہ آدمی کا خود اپنا بگڑا ہوا کام بن جائے۔ جو آدمی دوسروں کی ضرورتیں پوری کرے خدا اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور زیادہ بڑے پیمانے پر اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ کسی کو مشکل حالت میں دیکھ کر تڑپنا ایک اعتبار سے انسانیت کی بات ہے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا عظیم تر فائدہ یہ ہے کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو خدا کی عنایت کا مستحق بنا لیتا ہے۔ یہ گویا دنیوی عمل کی اخروی قیمت ہے اور بلاشبہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں۔

Printed page