لایعنی سے پرہیز
Al-Risala, April 1998, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ان کاموں کو چھوڑ دے جن میں کوئی فائدہ نہیں (من حسنِ اسلام المرء ترکہ مالا یعنيه) ادب الدنیا والدین للبصری صفحہ ۸۳ ۔
سچا انسان ایک با مقصد انسان ہوتا ہے۔ اس کی ساری توجہ ایک متعین مقصد کی طرف لگی ہوئی یہ مقصدیت اس کے اندر یکسوئی پیدا کر دیتی ہے۔ وہ اس کام میں مشغول ہوتا ہے جس کا اس کے مقصد سے واضح تعلق ہو اور جو چیز اس کے مقصد کے اعتبار سے غیر متعلق ہو اس سے وہ اپنے آپ کو دور کر لیتا ہے۔
ایسا آدمی ضروری اور غیر ضروری میں فرق کرتا ہے۔ کسی کام کو کرنے سے پہلے وہ دیکھتا ہے کہ یہ کام اس کے مقصد کے اعتبار سے کس حد تک ضروری ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو بولنے سے پہلے سوچتا ہے کہ اس کا بولنا کسی حقیقی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے یا وہ ایک بے فائدہ کلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہ اپنے مقصد کے بارے میں اس کی حساسیت اس کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی سوچ کے اوپر بھی نگراں وہ اپنے دماغ کو ایسی باتیں سوچنے میں استعمال نہ کرے جس کا کوئی مثبت فائدہ اس کو یا انسانیت کو ملنے والا نہیں۔
بے مقصد انسان اور با مقصد انسان کا فرق یہ ہے کہ با مقصد انسان سوچی سمجھی زندگی گزارتا ہے اور بے مقصد انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی واضح نشانہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی منزل کے بغیر اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔
سچا انسان وہ ہے جو با اصول انسان ہو۔ ایسے انسان کی سرگرمیاں اصول کے تحت ہوتی ہیں نہ کہ محض ذاتی خواہش کے تحت۔ ایسا انسان اپنی ذاتی خواہش کو الگ رکھ کر چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایسے انسان کا حال فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف انہی چیزوں کو لیتا ہے جن کی کوئی اصولی اہمیت ہو اور جو چیزیں اصول کے اعتبار سے غیر اہم ہوں ان کو وہ چھوڑ دیتا ہے، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی بارونق دکھائی ہوں۔