Al-Risala · April 1998

اچھا انسان ، برا انسان

Al-Risala, April 1998, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ تم میں سب سے زیادہ برے لوگ کون ہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول ۔ آپ نے فرمایا ۔ میں سب سے زیادہ برے وہ ہیں جو چغلی کرتے پھریں ، جو دوستوں کے درمیان بگاڑ ڈالیں ، جو لوگوں کے عیوب تلاش کریں (عن النبی صلی الله علیه وسلم انه قال : الا اخبرکم بشراركم ، قَالُوا: بلیٰ يارسول الله ، قال : من شراركم المشاؤون بالنميمة، المفسدون بين الاحبة الْبَاغُونَ العُيُوب) ادب الدنیا والدین للبصری صفحہ ۲۴۳ فطرت کے نقشہ میں ہر انسانی کردار کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ مثالیں اس لیے ہیں کہ انسان ان پر غور کرے ، وہ ان سے نصیحت لے۔ اور پھر وہ اچھے کردار کو اپنائے اور جو برا کردار ہے اس سے دور رہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کی مکھیاں ہوتی ہیں ۔ ایک شہد کی مکھی ، جو ہمیشہ خوشبو اور مٹھاس کی تلاش میں ہوتی ہے۔ وہ جس پھول میں خوشبو اور مٹھاس دیکھتی ہے فوراً اُڑ کر وہاں پہنچ اس طرح وہ پھولوں کی مٹھاس لے کر اسے جمع کرتی ہے تاکہ وہ اسے دوسرے انسانوں تک دوسری مثال عام مکھی کی ہے۔ اس کو گندگی سے دل چسپی ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت اُڑتی رہتی صرف اس لیے کہ جہاں وہ گندگی پائے وہاں پہنچ کر اس سے اپنا حصہ وصول کرے۔ اسی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ انسان جو بھلائی کو پسند کرتا ہو۔ وہ لوگوں کے درمیان جائے تو ان سے ان کی بھلی باتوں کو لے اور اسے دوسروں تک پہنچائے ۔ وہ لوگوں کے درمیان اچھی اور بھلی باتوں کا سفیر بن جائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو بہتر انسان کہا جائے۔ فطرت کا مطلوب انسان ہے۔ فطرت کے تمام اعلیٰ امکانات ایسے ہی لوگوں کے لیے مقدر کیے گئے ہیں۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کی روح کو برائیوں کے تذکرہ سے غذا ملتی ہو۔ ایسا انسان جب لوگوں سے ملتا ہے تو اس کی ساری دل چسپی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی برائیوں کو تلاش کرے اور اگر کوئی برائی نہ ملے تو فرضی طور پر خود ساختہ برائیوں کو ان کی طرف منسوب کر دے ، اور پھر ان فرضی یا واقعی برائیوں کو لوگوں سے بیان کرتا رہے۔

Printed page