پڑوسی کا حق
Al-Risala, April 1998, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی زیادتیوں سے امن میں نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واللہ لا یومن ، واللہ لا یومن ، واللہ لا یومن، قیل من یا رسول اللہ ؟ قال الذی لا یأمن جارہ بوائقه)۔ بخاری، کتاب الادب - مسلم، کتاب الایمان ۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ جہاں بھی رہتا ہے ایک سماج کے اندر رہتا ہے حتی کہ آدمی جب سفر کرتا ہے اس وقت بھی کچھ لوگ اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ یہ تمام لوگ انسان کے پڑوسی ہیں۔ اب ایک انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے ان کی پوری طرح رعایت کر رہا وہ ایسی بات نہ کہے جس سے لوگوں کے جذبات بھڑکیں۔ وہ ایسا کام نہ کرے جو اس کے قریبی لوگوں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والا ہو، وہ اپنی زندگی کے لیے سرگرم ہو مگر اس طرح کہ اس کی سرگرمی دوسروں کے لیے نقصان یا پریشانی کا سبب نہ بنے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے پڑوسی کا حق ادا کیا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو صرف اپنی رعایت کرنا جانتا ہو، دوسروں کی رعایت سے اسے کوئی دل چسپی نہ ہو۔ ایسا انسان دوسروں کے لیے مستقل مسئلہ بنا رہے گا۔ وہ اپنے غیر محتاط بول سے دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے گا۔ وہ ایسی کارروائیاں کرے گا جو دوسروں کا امن وسکون چھین لینے والی ہوں ، وہ جب اپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہے گا تو اس کے لیے وہ ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں کرے گا جو دوسروں کی زندگی میں خلل ڈالنے والی ہوں۔ ایسا انسان اپنے قریبی لوگوں کے لیے برا پڑوسی ہے۔ جو آدمی اپنے پڑوسی کے لیے اچھا ہو، وہی اچھا انسان ہے، اور جو آدمی اپنے پڑوسیوں کے لیے برا ہو وہی برا انسان ۔ اپنے فائدہ کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچانا بلاشبہ ایک جرم ہے اور کون شخص اس جرم کا مجرم ہے، اس کو جاننے کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ اس آدمی کا پڑوس ہے۔ انسان گویا خدا کی عدالت ہے۔ جس انسان کے بارہ میں اس کے پڑوسی اچھی رائے رکھیں وہ اچھا انسان ہے اور جس انسان کو اس کے پڑوسی برا سمجھیں وہ بلاشبہ برا انسان ۔