Al-Risala · May 1998

دھوم کے باوجود

Al-Risala, May 1998, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بے شمار تحریکیں اٹھیں۔ انھوں نے کروڑوں آدمیوں کو متاثر کیا اور اپنے دعوے کے مطابق ان کو دین دار بنایا۔ مگر ان مسلمانوں کو حتی کہ ان کے اکابر کو قریب سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ان کے یہاں مظاہرِ دین کی تو بہت دھوم ہے ، مگر حقائقِ دین کا کہیں وجود نہیں۔ مثلاً ان کے یہاں خدا کے نام کا لفظی ورد ہے مگر خدا کی عظمتوں کامعنوی چرچا نہیں۔ شان میں نظم ونثر کے قصیدے پڑھے جارہے ہیں، مگر رسول کی حقیقی اطاعت سے کوئی دل چسپی نہیں۔ قرآن کی قرأت کی آوازیں گونج رہی ہیں مگر قرآن پر تدبّر کرنے والا دکھائی نہیں دیتا۔ شریعت کو دنیا میں نافذ کرنے پر تقریریں ہو رہی ہیں مگر اسلام کی شریعت کو اپنانے کے لیے کوئی مظاہرِ شرک کے خلاف جہاد کیا جا رہا ہے مگر حقیقتِ توحید کو دلوں میں اتارنے کی کسی میں تڑپ نہیں۔ اسلام کی اخلاقی خوبیاں بتا کر فخر کیا جا رہا ہے ۔ مگر اسلام کی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنے کی کسی کو فرصت نہیں۔ مناظرہ بازی کے معرکے گرم ہیں مگر دعوتِ رب کی ناصحانہ مجالس نہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ اسلام کے مظاہر لوگوں کے اندر جاگے ہیں مگر اسلام کی حقیقت لوگوں کے اندر نہیں جاگی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی تحریکوں نے مظاہرِ اسلام کو زندہ کرنے پر محنت کی۔ انھوں نے حقیقتِ اسلام کو زندہ کرنے پر محنت ہی نہیں کی۔

اسلام کے احیاء کا کام در اصل ایمان باللہ کے احیاء کاکام ہے۔ اسی سے تمام اسلامی تقاضے ظہور میں آتے ہیں۔ مگر یہی وہ کام ہے جو موجودہ زمانہ کی تحریکوں نے سرے سے انجام نہیں دیا۔ موجودہ زمانہ میں چھپنے والی کسی اسلامی کتاب کو پڑھئے۔ موجودہ زمانہ میں ہونے والے کسی مسلم اجتماع میں آپ دیکھیں گے کہ کہیں بھی اللہ کی عظمت کا چرچا نہیں ۔ کہیں بھی اللہ کی بڑائی کو دلوں میں اتارنے والی باتیں نہیں۔ کہیں بھی اللہ کے جلال وجمال کا وہ تذکرہ نہیں جو فطرتِ انسانی کو جگائے اور دلوں میں ربانی زلزلہ پیدا کر کے انسان کو اللہ والا انسان بنا دے۔

جلسوں میں خداوندِ ذو الجلال کا تذکرہ نہیں۔ کتابوں میں عظمتِ خداوندی کا بیان نہیں۔ حالت میں یہی ہوگا کہ اسلام کے مظاہرزندہ ہوں گے ، مگر اسلام کی حقیقت زندہ ہونے سے رہ جائے گی۔

Printed page