Simple living, high thinking
Al-Risala, January 1998, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
کھانے کے معاملہ میں میرا کوئی شوق نہیں۔ اور دعوتی کھانے تو مجھے بیزاری کی حد تک ناپسند جو کھانا سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ مل جائے وہی میرا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں علماء اور دین دار لوگ بھی سادہ کھانے کی سنت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ لوگوں کے سفر ناموں میں اکثر پر تکلف کھانے اور شان دار ناشتے کا ذکر ہوتا ہے۔ ایسی دعوتوں سے محظوظ ہونا تو در کنار مجھے کاغذ کے صفحہ پر بھی اس کو پڑھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ایک دینی ماہنامہ میں ایک عالم کی صاحبزادی کی شادی کی تقریب اور ضیافت کا تفصیلی مذکورہ عالم کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی اس روداد کا ایک حصہ یہ تھا: ’’نقوی صاحب کے تعلق سے شادی کی اس پر بہار محفل میں احباب نے بڑے بڑے ادبی نکتے پیش کیے۔ ایک صاحب نے انھیں کھانے کی میز پر دوستوں کے ساتھ چھپاتے ہوئے دیکھ کر علامہ اقبال کے اس شعر میں تصحیح کر ڈالی:
نشانِ مَردِ مومن باتو گویم چوں مرغ آید تبسم بر لب اوست (مرد مومن کی پہچان یہ ہے کہ اس کے سامنے بھنا ہوا مرغ پیش کیا جائے توار نے خوشی کے اس کا چہرہ دمک اٹھے) ایک دوست نے ٹوکا کہ اقبال نے "مرغ" نہیں "مرگ" کہا ہے تو ارکانِ بزم نے کہا کہ بے چارے مرغ کی مرگ ہی کے صدقے میں نقوی صاحب کو چھپانے کا موقع ملا ہے۔ زندہ مرغ کی کیا وہ چوپوخ سے مشق آزمائی کرتے (البلاغ، دسمبر ۱۹۹۵ء، صفحہ ۴۵)
مراد آباد یوپی کا ایک صنعتی شہر ہے۔ وہ رام گنگا کے کنارے واقع ہے۔ مراد آباد کو مغل حاكم رستم خاں نے ۱۶۲۵ء میں بسایا تھا۔ شہر کے شمال کا قدیم قلعہ اور جامع مسجد رستم خاں کی تعمیری یادگار کے طور پر ابھی تک باقی ہیں۔
شہری زندگی کو ایک طریقِ زندگی (way of life) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت اور منظم زندگی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ مومنانہ زندگی شہری ہی
زیادہ تر شہروں میں مسلمانوں کا ارتکاز پایا جاتا ہے۔
۹ مارچ کی شام کو عبدالرحمن صاحب کے مکان پر کئی آدمی آگئے ۔ اس طرح مجلس کے انداز میں دیر تک اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ یہ مجلس رات کو دیر تک جاری رہی۔ لوگ گفتگو میں مشغول تھے۔ اچانک باہر سے پٹاخوں کی آوازیں آنے لگیں ۔ ہوا کہ بنگلور میں ہونے والے کرکٹ میچ کے کوارٹر فائنل میں انڈیا اور پاکستان کا مقابلہ تھا، اس میں انڈیا جیت گیا ۔ چنانچہ لڑکے پٹاخہ چھوڑ کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ۱۲ مارچ کو ایک خصوصی ہوائی جہاز پاکستانی کھلاڑیوں کو لے کر بنگلور سے لاہور پہنچا۔ تاہم وہ خود اپنے ملک کے ائیر پورٹ پر اتر نہ سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کوارٹر فائنل (quarter-final) میں شکست کی خبر سن کر پاکستانی نوجوان بڑی تعداد میں لاہور ایئر پورٹ پر اکٹھا ہو گئے۔ سخت غصہ میں تھے اور اپنے ساتھ گندے انڈے لائے تھے تاکہ پاکستانی ٹیم کے ممبروں پر اسے پھینک کر ان کا استقبال کریں۔
اس ماحول کو دیکھ کر ذمہ داروں نے پاکستانی ٹیم کا جہاز فضا ہی سے واپس کر کے اسے کراچی اس کے بعد پاکستانی نوجوانوں نے ائیر پورٹ پر ہنگامہ کیا۔ انھوں نے پاکستانی ٹیم کے لیڈر وسیم اکرم کا پتلا جلایا۔ لاہور میں وسیم اکرم کے مکان پر ہم پہنچ کر اس پر پتھر پھینکے اور توڑ پھوڑ بعد کو مسٹر وسیم اکرم نے بتایا کہ انھیں ٹیلی فون پر موت کی دھمکی مل رہی ہے۔ اس کے بعد ۱۳ مارچ کو دوسرا واقعہ ہوا۔ اس بار کلکتہ میں ولس ورلڈ کپ (Wills World Cup) کے سیمی فائنل مقابلہ میں انڈیا کی کرکٹ ٹیم کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے ہرا دیا۔ اس پرائڈن گارڈن کے اسٹیڈیم میں ہندوستانی تماشائیوں نے زبردست ہنگامہ کیا۔ سارا اسٹیڈیم اچانک توڑ پھوڑ کا منظر پیش کرنے لگا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، دونوں ملکوں میں کئی لوگوں نے اپنے ٹی وی سیٹ توڑ ڈالے اور پھر خود کشی کر لی۔
میچ کی ہار جیت صرف ٹیموں کی ہار جیت ہے، وہ ملکوں کی ہار جیت نہے۔ مگر موجودہ زمانے میں، خاص طور پر ایشیائی ملکوں میں اس کو انتہائی غیر ضروری طور پر ملکوں کی ہار جیت بنا دیا گیا ہندوستان کی کرکٹ ٹیم بنگلور کے کوارٹر فائنل میں جیتی تو اس کی خبر اخباروں میں ان الفاظ میں چھپی کہ ہندوستان نے پاکستان کو ذلت آمیز شکست دی۔ اس کے بعد کلکتہ کے سیمی فائنل میں جو واقعہ ہوا تو ٹائمز آف انڈیا (۱۴ مارچ ۱۹۹۶) نے صفحہ اول کی پہلی سرخی اس طرح لگائی ــــ سری لنکا نے انڈیا کو کچل دیا :