Al-Risala · May 1998

فساد انگیزی

Al-Risala, May 1998, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کی ایک بستی ہے۔ یہاں ۸۰ فی صد ہندو ہیں ، اور ۲۰ فی صد کی تعداد میں مسلمان آباد کچھ پر جوش مسلمانوں کے اندر اپنے مذہب کی برتری کا جذبہ پیدا ہوا۔ ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ اس جذبہ کا اظہار وہ علمی ، صحافتی ، سیاسی، معاشی اور سماجی میدانوں میں کر سکیں۔ انھوں نے کالک کی روشنائی بنائی اور لکڑی کا قلم ، اور بستی کی کچھ دیواروں پر بھدے حرفوں میں لکھ دیا : مورتی پوجا پاپ ہے اب ہندوؤں میں رد عمل پیدا ہوا۔ انھوں نے عمدہ ٹائپ میں چھپوا کر بڑے بڑے پوسٹر تیار کیے اور ساری بستی کی تمام دیواروں پر اسے چسپاں کر دیا۔ اس دوسرے پوسٹر میں لکھا ہوا تھا : قبر پوجا مہا پاپ ہے اس کے بعد دونوں فرقوں میں تناؤ بڑھا۔ اس کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا رہا۔ کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان کے درمیان لین دین کے ایک معاملہ میں جھگڑا ہوا۔ عام حالت میں وہ صرف دو آدمیوں کا جھگڑا بن کر رہ جاتا۔ مگر دو طرفہ کشیدگی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دو فرقوں کا جھگڑا بستی میں فرقہ وارانہ فساد ہوا جس کا نقصان ایک طرفہ طور پر مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ جن پر جوش مسلمانوں نے " مورتی پوجا پاپ ہے " کا جملہ دیواروں پر لکھا تھا ، وہ اپنے گمان کے مطابق ، " دعوت " کا کام کر رہے تھے ، مگر باعتبار حقیقت انھوں نے صرف عداوت کا کام کیا۔ وہ مصلح نہیں بلکہ مفسد تھے۔ کیوں کہ دعوت کا پیغام دیواروں پر لکھا نہیں جاتا۔ پر لکھا جاتا ہے۔ وہ فخر کا اظہار نہیں بلکہ تواضع کا اظہار ہے۔ وہ نعروں کے ذریعہ نہیں بلکہ دعاؤں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ اس کی تحریر روشنائی سے نہیں بلکہ آنسوؤں سے لکھی جاتی ہے۔ کا عمل نفرت کی زمین پر نہیں بلکہ محبت کی زمین پر انجام دیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کا اصل مذہب قومی فخر ہے۔ اپنے قومی فخر کے مذہب کو وہ اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ وہ اپنے قومی ہنگاموں کو اسلامی دعوت اور اسلامی جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اس طرح کا ہر فعل صرف سرکشی ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں دینی کام نہیں ۔

Printed page