Al-Risala · May 1998

اجتماعی بصیرت

Al-Risala, May 1998, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ حکمت جن بھیدوں کو بکتاتی ہے ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ کیا چیز مسئلہ ہے اور کیا چیز مسئلہ نہیں۔ آپ کس چیز کو لیں اور کس چیز کو چھوڑ دیں۔ کہاں بولیں اور کہاں کس معاملہ میں دخل دیں اور کس معاملہ سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ کتا اگر آپ پر حملہ کر دے تو آپ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر تا دور کھڑا ہوا بھونک رہا ہو تو آپ اس کو نظر انداز کر کے وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ یہ فرق زندگی کا ایک حکیمانہ اصول ہے اور ہر سمجھ دار آدمی ہمیشہ اس اصول پر عمل کرتا ہے۔ اس دنیا میں کچھ باتیں قابل لحاظ ہوتی ہیں۔ اور کچھ باتیں قابل اعراض۔ وہ ہے جو دونوں باتوں کے فرق کو جانے۔ وہ صرف انہیں باتوں کو اہمیت دے جو فی الواقع اہمیت کے قابل ہیں۔ اور بقیہ باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سفر حیات جاری رکھے۔ جو لوگ ایسا کریں وہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ چیزوں کا فرق جانے بغیر ہر بات پر لوگوں سے الجھ جائیں، ان کے لئے صرف یہی مقدر ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو بے نتیجہ کاموں میں ضائع کرتے رہیں اور آخر کار ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں۔

نادان آدمی صرف حال کو جانتا ہے، دانش مند آدمی حال کے ساتھ مستقبل کو بھی۔ نادان آدمی صرف اپنی خواہشوں سے باخبر ہوتا ہے۔ دانش مند آدمی اپنی ذات سے باہر قوانین فطرت سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ نادان آدمی صرف اپنے سامنے دیکھتا ہے۔ آدمی اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں، اپنے بائیں ہر طرف نظر رکھتا ہے۔ نادان آدمی کا اقدام عاجلانہ اقدام ہوتا ہے اور دانش مند آدمی کا اقدام منصوبہ بند اقدام۔ مکی دور کا واقعہ ہے، ابو لہب کی بیوی ام جمیل ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

تلاش میں نکلی۔ اس وقت آپ بیت اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو بکر صدیق بھی آپ کے پاس ام جمیل شاعرہ تھی۔ اس نے آپ کی ہجو میں یہ اشعار کہے کہ ہم نے ایک قابل مذمت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات ماننے سے انکار کیا اور اس کے دین سے بیزاری ظاہر کی : مذمّماً عصینا و امره أبينا و دینه فتلینا ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ کا نام محمد کے بجائے مذمّم رکھ دیا تھا۔ وہ یہی نام لے کر آپ کے خلاف سب وشتم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کو سنتے تو فرماتے :

الا تعجبون لما صرف الله عنی من اذی کیا تم لوگوں کو اس بات پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش - یسبون و یهجون مذمّاً قریش کی اذیت مجھ سے پھیر دی۔ وہ ایک مذمم کو و انا محمد (سیرة ابن هشام ۱/ ۳۷۹) - گالی دیتے ہیں اور اس کی ہجو کرتے ہیں اور میں تو محمد ہوں۔

یعنی جب وہ " مذمّم " کہہ کر سب وشتم کرتے ہیں تو ان کا سب وشتم اس پر واقعہ ہوگا جو مذمم میں مذمم نہیں ہوں۔ میرا نام تو محمد ہے۔ پھر مجھے ان کی گالیوں پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ گویا کسی کے برے لفظ پر اس کو غصہ ہونا چاہئے جس پر وہ پڑرہا ہو۔ جس کے اوپر بطور واقعہ اس کے برے الفاظ پڑنہ رہے ہوں، اس کو اسے قابل لحاظ بھی نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ اصول صرف حال کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ مستقبل کے لئے بھی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص ایک مخالفانہ ارادہ کا اظہار کرے تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا اس کا بُرا ارادہ مستقبل میں واقع بننے والا ہے یا نہیں۔ اگر حالات کا مطالعہ بتائے کہ اس کا بُرا ارادہ عملاً وقوع میں آنے والا نہیں ہے تو ایسے ناممکن الوقوع منصوبہ کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایسی باتوں میں الجھنا دانش مند انسان کا طریقہ نہیں۔

Printed page