یہ سوچ درست نہیں
Al-Risala, May 1998, pp. 20–25
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے حال ہی میں ایک کتاب پڑھی۔ اس کے مصنف مسٹر چترویدی بدری ناتھ (IAS)
اور وہ ساڑھے تین سو صفحہ پر مشتمل ہے۔ پورا حوالہ یہ ہے:
Dharama, India and the World Order, 1993 اس کتاب کے ایک حصہ میں انڈیا کی تقسیم پر کلام کیا گیا ہے۔ مصنف نے ملک کی تقسیم کا ذمہ دار آر ایس ایس کو قرار دیا ہے۔ آر ایس ایس کے سابق سرینچالک کی ایک کتاب 1939 میں انگریزی میں ترجمہ ہو کر چھپی تھی۔ یہ کتاب نیشن ہڈ کے بارہ میں تھی اور اس کا نام یہ تھا: We or Our Nationhood Defined ۵۵ سال پہلے چھپنے والی اس کتاب میں انھوں نے نہ صرف انڈین نیشنلزم کو ہندونیشنلزم کے ہم معنی قرار دیا تھا۔ بلکہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ مسلمان یا عیسائی کبھی ہندوستان کا سچا نیشنلسٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہندوستان کا سچا نیشنلسٹ وہ ہے جو ہندوستان کی سرزمین کو مقدس مانے چونکہ مسلمان اور عیسائی ہندوستان کو مقدس نہیں مانتے ، اس لئے وہ سچے نیشنلسٹ بھی نہیں ہو سکتے۔ کہا کہ ہم ہندوہی نیشنلسٹ ہیں کیوں کہ صرف ہندو ہی انڈیا کو تقدس کی نظر سے دیکھتے ہیں: Only the Hindus, We, are nationalists. For the Hindus alone look upon India as a holy land, motherland, fatherland, every particle of whose dust is sacred to them. (p. 300)
مصنف لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم نیشنلزم ہندونیشنلزم کی جوابی پیدا وار پاکستان کے نظریہ کا بیج ہندو دانشوروں نے بویا نہ کہ مسلمانوں نے: The truth is that Muslim nationalism was a product, emotional and political, of Hindu nationalism with its insistence that India’s swa, or ‘one’s own,’ was Hindu. The seeds of the idea of Pakistan were sown, without knowing it, by the Hindu intellectuals and. not by the Muslims: (p. 301)
یہ صرف ایک مصنف کی بات نہیں۔ متعدد دانشوروں نے یہی بات ایک یا دوسرے انداز سے کہی ہے۔ مثلاً ڈاکٹر سیروائی ، ڈاکٹر رفیق زکریا ، وغیرہ۔ اس سلسلہ میں غالباً مولانا ابوالکلام آزاد کو اولیت حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب آزادی ہند (India wins Freedom)
میں اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اور تقسیم ملک کی ذمہ داری کانگریس رب الفاظ دیگر ہم ہندو لیڈر شپ پر ڈالی ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ کے تحت ہندوستان میں ۱۹۳۷ میں ریاستوں کے الیکشن ہوئے ۔ اس سے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ الیکشن کے بعد دونوں پارٹیاں مل کر کولیشن گورنمنٹ بنائیں گی۔ مگر جب الیکشن ہوا تو چھ ریاستوں میں خلاف اندازہ کانگریس کو مطلق اکثریت حاصل ہو گئی۔ وقت کے صدر کانگریس جو نہر لال نہرو نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم ماقبل الیکشن معاہدہ کے پابند نہیں ہیں۔ اس پر کانگریس اور مسلم لیگ میں نزاع پیدا ہو گئی۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ یو پی میں ہوا جہاں کانگریس نے معاہدہ کے خلاف مسلم لیگی مسلمان کو کیبنٹ میں نہیں یا بلکہ کانگریسی مسلمان کو وزیر
یہ بات بظاہر اہم دکھائی دیتی ہے۔ مگر باعتبار حقیقت وہ ناقابل لحاظ ہے۔ سیاست ہمیشہ عملی حالات کی پابند ہوتی ہے۔ سیاست کو کبھی مطلق معیار سے ناپا نہیں جا سکتا۔ حتی کہ افراد سیاست کی نیت اگر انتہائی صالح ہو تب بھی سیاست میں نظری معیار کو چلانا
مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہواتو انصار مدینہ نے کہا کہ ایک امیر ہمارا اور ایک امیر تمہارا ۔ (منا امیر و منکم امیں) اس کے جواب میں مہاجرین مکہ نے کہا کہ دو امیر کا طریقہ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہم امیر ہوں اور تم وزیر بنو ۔ (نحن الامراء و انتم الوزراء، مگر اس پر عمل نہ ہو سکا اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق نے اپنی آخرمعمر میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ان کو خلافت میں وزیر بنائیں گے مگر ہم انہیں وزیر نہ بنا سکے۔
سیاست میں اس قسم کے نشیب و فراز کا پیش آنا بالکل لازمی ہے۔ اس سے کسی حال میں مفر نہیں۔ حتی کہ اگر ملک کو تقسیم کر کے اس کا ایک حصہ ایک فرقہ کو اور دوسرا حصہ دوسرے فرقہ کو دے دیا جائے تب بھی اس قسم کے خلاف معیار واقعات بہر حال پیش آتے رہیں گے۔
ایسی حالت میں صرف ایک ہی ممکن حل ہے کہ اس قسم کی چیزوں کو اقدام کااشو نہ بنایاجائے، بلکہ انھیں اعراض خانہ میں ڈال دیا جائے۔
مسلم لیگی لیڈر اگر فہم و بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ کہتے کہ چلو کوئی حرج نہیں۔ کانگریسی مسلمان وزیر بنا ہے تو کل انشاء اللہ ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ مسلم لیگی مسلمان ہماری نظر مستقبل پر ہونی چاہئے نہ کہ صرف حال پر۔ اگر مسلم لیڈر شپ اس دور اندیشی کا ثبوت دیتی تو آج یقیناً تاریخ دوسری ہوتی۔
اگر اس معاملہ کے سارے پہلوؤ ں کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ ملک کی تقسیم کی ذمہ داری مذکورہ قسم کے ہندوؤ ں پر نہیں ہے، بلکہ اس کی ذمہ داری تمام تر خود مسلمانوں کی نااہل لیڈر شپ پر ہے۔ کیوں کہ انھوں نے یہ غلطی کی کہ جو واقعہ صرف اس قابل تھا کہ اسے نظر انداز کر کے دیا جائے ، اس کو انھوں نے غیر ضروری طور پر اہمیت دی۔ حتی کہ اس کے اوپر اپنی ملی پالیسی کی بنیاد قائم کر دی۔ ۱۹۴۷ سے پہلے غیر منقسم ہندوستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کے نام پر ایک تحریک شروع کی۔ ملک کے کچھ مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا۔ انھوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام کا مقصد خدا کی زمین پر خدا کی حکومت قائم کرنا ہے۔ اپنے عقیدہ کی رو سے مسلمان کا تعلق ہر غیر الہی نظام سے بغاوت کا ہے نہ کہ مصالحت کا۔ اسلام کا مطالبہ ہے کہ خدا کی زمین پر صرف خدا کا قانون نافذ کیا جائے۔ غیر مسلمین خدا کی زمین پر اہل اسلام کے ماتحت ہو کر رہ سکتے ہیں مگر ان کو یہ حق نہیں کہ وہ خدا کی زمین پر اپنا قانون چلائیں یا اپنا اقتدار قائم کریں۔ اب اگر ایک انتہا پسند ہندو یہ کہے کہ تقسیم کا اصل سبب یہی اسلامی تحریک ہے۔ کیوں کہ جب غیر منقسم ہندوستان میں اس قسم کی تحریک اسلام کے نام پر اٹھی اور مسلمانوں نے اس کا استقبال کیا تو ہندوؤ ں نے سوچا کہ ایسی حالت میں آزادی ہمارے لئے بے معنیٰ ثابت ہوگی۔ آج ہم انگریزوں کے غلام ہیں۔ آزادی کے بعد مسلمان اپنے عقیدے کی رو سے یہ کوشش کریں گے کہ وہ پورے ملک میں حکومت الہیہ قائم کریں جس میں ان کی حیثیت حاكم کی ہو اور ہماری حیثیت
صرف ذمی یا محکوم کی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ملک کو تقسیم کر کی ایک حصہ مسلمان کو دیدیا جائے تاکہ بقیہ حصے پر ہم اپنی پسند کی حکومت قائم کر سکیں۔
مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی عالم یا مسلم دانشور ہند کی اس دلیل کو نہیں مانے گا۔ کو رد کرنے کے لئے کہے گا کہ یہ صرف چند سر پھرے مسلمانوں کا تخیل تھا نہ کہ ہندوستان کی پوری امت مسلمہ کا نظریہ۔ یہ جواب یقیناً درست ہے۔ اور میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ میرا اضافہ صرف یہ ہے کہ یہی جواب خود ہندوؤں کی طرف سے بھی دیا جا سکتا ہے اور دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ ہندونیشنلزم کی مذکورہ بات چند انتہا پسند ہندوؤں کا تخیل تھا۔ ہندوستان کی ہندو کمیونٹی نہ پہلے اس سے متفق تھی اور نہ آج اس سے اتفاق کرتی ہے۔
گویا کہ اس معاملہ میں ہند و کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی خود ساختہ نظریہ سازی سے اعراض کرنا تھا۔ اسی طرح مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ گردو اگہر کی خود ساختہ نظریہ سازی کو اعراض کے خانہ میں ڈال دیں۔ اس قسم کی باتیں ہمیشہ قابل اعراض ہو تی ہیں نہ کہ قابل لحاظ۔ مسلم خیر خواہي جو لوگ تقسیم ہند کا ذمہ دار ہندوؤں کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایسا کر کے صرف اپنی نادانی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ بطور خود وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے سر سے تقسیم کی ذمہ داری کو ہٹا رہے ہیں۔ مگر اس طرح کسی کے سر سے کوئی ذمہ داری کبھی نہیں مسلمان تقسیم کا مطالبہ کر کے تاریخی طور پر اس کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکے ہیں اور پاکستان سارے عالم کو گواہ بنا کر اس کو اپنے مفاخر میں درج کر چکا ہے کہ ہندو تقسیم پر راضی نہیں تھا۔ ہمارے قائدِ اعظم نے اپنی غیر معمولی سیاست کے ذریعہ اس کو ماننے پر مجبور کر دیا۔ ایسی حالت میں کوئی دانشور ایک نکتہ نکال کر اس قائم شدہ تاریخی واقعہ کو بدل نہیں سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ تقسیم کا ذمہ دار ہندوؤں کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایسا کر کے مسلمانوں کے خیر خواہي نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی سچی خیر خواہی یہ ہے کہ انھیں ان کی غلطیوں کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ وہ آئندہ اس کو دہرانے سے بچ جائیں، جیسا کہ عرض
کیا گیا ، اس دنیا کا کوئی سماج مذکورہ قسم کی باتوں سے خالی نبیس رہ سکتا۔ ایسی حالت میں جو لوگ ان باتوں کو اہمیت دیں وہ ہمیشہ ان میں الجھ کر اپنا نقصان کرتے رہیں گے۔ چنانچہ تقسیم کے صرف ہیں سال بعد مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان اسی قسم کی باتوں پر لڑگئے ۔ کہ دوبارہ پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اس قسم کی انتہا پسندانہ نظریہ سازی کا واحد حل یہ ہے کہ ان کو خاموشی کے ساتھ نظر انداز کر دیا جائے۔