تقسیم کا فیصلہ
Al-Risala, May 1998, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۲ مارچ ۱۹۴۰ کو لاہور میں مسلم لیگ کے سیشن میں مسٹر محمد علی جناح نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان ہندوؤں کے مذکورہ ذہن کی بنا پر ان کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کو علیحدہ ہوم لینڈ دیا جائے ۔ ردعمل کا یہ ذہن مسلمانوں میں بڑھا یہاں تک کہ ملک تقسیم ہو گیا۔
اوپر کی باتوں کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو مسٹر جناح کا یہ بیان صرف نادانی کا ردعمل معلوم ہوگا۔ اس کو ہرگز نہ رہنمائی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ مسٹر جناح صرف ایک قانون داں تھے۔ اگر وہ تاریخ کو اور حقائق حیات کو جانتے تو مسلمانوں سے کہتے کہ تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کے مستقبل کی تشکیل جو چیز کرے گی وہ تاریخی حقیقتیں ہیں نہ کہ گروگو لوالکر یا کسی اور انتہا پسند لیڈر کے الفاظ ۔ اس لئے تم اس قسم کے الفاظ کو نظر انداز کر دو اور عظیم ہندوستان میں اپنے لئے ایک عظیم مستقبل کی تعمیر کرو۔
اب غور کیجئے کہ عملاً ہندوستان میں کیا پیش آیا۔ شری گرو گو لوالکر نے ۱۹۳۹ میں یہ الفاظ مگر نصف صدی سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود یہ الفاظ ابھی تک واقعہ نہ بن سکے۔ معلوم ہے، ۱۹۴۷ میں آزادی ملنے کے بعد خود ہندو لیڈروں نے ہندو عوام کی حمایت سے ملک میں طاقت ور سیکولر گورنمنٹ بنائی۔ یہ سیکولر نظام آج تک یہاں قائم ہے اور کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہ ہو سکا۔
آزادی کے بعد ثمانينات (eighties) میں دوبارہ کچھ انتہا پسند ہندو ابھرے۔ نے ہندوتو کا نعرہ لگایا اور کہا کہ ہندوستانی نیشنلزم کلچرل نیشنلزم کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔
مسلم رہنماؤں ار دانشوروں نے دوبارہ اس کے مقابلہ میں سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کو ہندو کلچر میں رنگنے کی ایک سازش ہے۔ ممگر عملاً کیا پیش آیا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ ہندو تو کے لیڈروں کے بولے ہوئے الفاظ و واقعہ نہ بن سکے۔ انھوں نے اپنے کو کامیاب بنانے کے لئے مندر۔ مسجد کے نام پر انتہائی جذباتی تحریک چلائی۔ اس کے لئے انھوں نے اپنی ساری طاقت خرچ کر ڈالی مگر ۱۹۹۳ کے الیکشن میں دنیا نے دیکھا کہ کلچرل نیشنلزم کے علمبردار سارے ملک میں زبردست سیاسی ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اپنے نظریہ کے حق میں انھیں خود ہندو ووٹروں کی تائید بھی حاصل نہ ہو سکی۔
ہندونیشٹلم یا کلچرل نیشنلزم کا نظریہ کیوں انڈیا میں ناکام ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ہندوستانی نظریہ عالمی قومی نظریہ سے ٹکرا رہا تھا۔ اور اس معاملہ میں کسی ملک کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ نیشن ہڈ کے لئے انٹر نیشنل معیار کے سوا کوئی اور معیار اپنے لئے مقرر کرے۔ کوئی ملک اس معاملہ میں علیحدہ معیار مقرر کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا معیار عملاً چلنے
تقدیس ملک کا تصور کچھ افراد کا مذہبی عقیدہ ہو سکتا ہے گر نیشن ہڈ کے مسئلہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ عالمی معیار کے مطابق، نیشن ہڈ کی بنیاد اشتراک وطن پر ہے نہ کہ کسی تقدیسی اور انڈیا میں بھی یقینی طور پر، ہمیں اس عالمی معیار کو ماننا ہو گا۔ اگر نیشن ہڈ کے مذکورہ تقدیسی معیار کو صحیح قرار دیا جائے تو ساری دنیا کے لوگوں کے لئے فرض کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے دیش کے غدار ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی ملک میں تقدیس وطن کا تصور موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں اعلیٰ درجہ کی حب الوطنی (patriotism) موجود ہے اور اسی لئے وہ ممالک ترقی کر رہے ہیں۔
یہی معاملہ کلچرل نیشنلزم کا ہے جو مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ عالمی ذہن سے ٹکرا رہا ہے۔ دنیا میں اس معاملہ میں غالب قومی نظریہ ملٹی کلچر نیشنلزم کا ہے۔ ہندوستان میں کچھ لوگ اس کے خلاف یونی کلچر نیشنلزم کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ایسی خلاف زمانہ کوشش کیسے کامیاب ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور کناڈا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ تحریک اٹھی جس کو یونی کلچرلزم کہا جاتا مگر ان ملکوں کے دانشوروں نے دیکھا کہ وہ قابل عمل نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کو چھوڑ کر ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کر لیا۔ پھر جو چیز دنیا کے دوسرے ملکوں میں کامیاب نہیں ہوئی وہ انڈیا میں کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کلچر ہمیشہ تاریخی عوامل سے بنتا ہے۔ وہ اوپر سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ انڈیا میں اسکول اور کالج کے طلبہ جب ملتے ہیں تو نمستے یا نمسکار کہنے کے بجائے وہ ایک دوسرے کو ہائے (Hi) کہتے ہیں۔ یہ گریٹنگ کا امریکی طریقہ ہے۔ اسی طرح انڈیا کے دستور میں ہندی کو قومی زبان کی حیثیت دی گئی ہے۔ مگر تمام سرکاری اور غیر سرکاری لوگ انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس قسم کے کلچرل طریقے انڈیا میں تاریخی اسباب سے رائج ہوئے ہیں نہ کسی نافذ کرنے والے نے ان کو نافذکیا ہے۔ کلچر قوموں کے اختلاط سے اپنے آپ بنتا ہے، وہ کبھی مصنوعی طور پر نہیں بنایا جاتا۔
خلاصہ یہ کہ زندگی کے معاملات کو جو چیز تشکیل دیتی ہے وہ تاریخ کی قوتیں ہیں نہ کہ کسی کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ۔ اگر ایسا ہو کہ لوگ الفاظ کے بجائے حقیقتوں پر دھیان دیں ۔ الفاظ کے معانی کو وہ ڈکشنری میں نہ دیکھیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں دیکھیں تو ہمارا سماج اس ذہنی تناؤ سے بچ جائے گا جو اکثر بے بنیاد باتوں پر پیدا ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے آخری بربادی تک پہنچ جاتا ہے۔
اس دنیا میں ہمیشہ سچائی غالب آتی ہے۔ یہی تاریخ کی اور عقل کی گواہی ہے۔ وہ مقام ہے جہاں ہمارے لئے امید کا راز چھپا ہوا ہے۔