Al-Risala · May 1998

دین کے نام پر بے دینی

Al-Risala, May 1998, pp. 29–34

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ سیکولرزم اور لادینیت کے نام پر گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ بلاشبہ مفسد لوگ ہیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ بڑے مفسد وہ لوگ ہیں جو قرآن کا نام لے کر گمراہی جو قرآن کی آیتوں کی خود ساختہ تفسیر کریں۔ اور پھر اپنی اس ذاتی تفسیر کی بنیاد پر تحریک چلا کر یہ اعلان کریں کہ وہ خالص قرآن کی بنیاد پر تحریک چلا رہے ہیں۔

کچھ انقلابی نظریہ سازوں نے موجودہ صدی کے نصف اول میں ایک اسلامی نظریہ بنایا۔ اس کا عنوان "حکومتِ الہیہ" تھا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی حکومت بقیہ کائنات میں اپنے آپ قائم ہے۔ مثلاً شمسی نظام کو خدا براہِ راست اپنے حکم کے تحت چلا رہا ہے۔ مگر انسانی دنیا میں اس کی حکومت یہاں خدا نے اپنی حکومت قائم کرنے کا کام ان لوگوں کے سپرد کیا ہے جو اس پر ایمان لا کر اس کے مومن بن جائیں۔

اسی انقلابی نظریہ کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمینانوں کا ایک طبقہ جگہ جگہ جہاد کے نام پر فساد جاری کیے ہوئے اپنے دعوے کے مطابق، وہ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر نکل پڑا ہے تاکہ خدا سے پھیرے ہوئے انسانوں سے لڑ کر انھیں زیر کرے اور پھر انسانی دنیا میں بھی خدا کا اقتدار قائم کر دے جس طرح وہ کائناتی دنیا میں قائم و نافذ ہے۔

یہ ایک بدترین گمراہی ہے۔ یہ نام نہاد انقلابی نظریہ بلاشبہ اسلام کی مفسدانہ تفسیر ہے۔ آج بہت سے غیر مسلم اگر اسلام کو دہشت گردی کا مذہب کہتے ہیں تو اس غلط نہی کے لئے اصل ذمہ دار یہی نظریہ ساز مسلمان ہیں۔ کیوں کہ مذکورہ نظریہ کے بعد اسلام کی جو تصویر بنتی ہے وہ بلاشبہ یہی ہے۔

اس خود ساختہ نظریہ کی بنیاد اس واقعہ پر ہے کہ اسلام میں انفرادی احکام کے ساتھ سیاسی احکام بھی دئے گئے ہیں۔ مگر یہ سراسر مغالطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام کا تعلق امتحان اور آزمائش کے مسئلہ سے ہے نہ کہ حکومتِ الہیہ کے مسئلہ سے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان آزمائش کے مرحلہ میں ہے۔ یہ آزمائش باعتبارِ اختیار ہے ، یعنی جتنا اختیار اتنی ہی آزمائش۔

ایک شخص کو صرف یہ اختیار ہے کہ وہ خود شراب پئے یا نہ پئے تو اس کی آزمائش صرف اس اعتبار سے ہوگی کہ وہ خود شراب پیتا ہے یا نہیں پیتا۔ دوسرے شخص کو یہ اختیار ہے کہ وہ شراب کی دکان کھولے یا نہ کھولے تو اس کی آزمائش اس کے اپنے دائرۂ عمل کے اعتبار سے ہوگی۔ تیسرے شخص کو یہ اختیار ہے کہ وہ شراب پینے والے کو سزا دے یا نہ دے تو اس کی آزمائش اس اعتبار سے ہوگی کہ وہ شرابی آدمی کو چھوڑ دیتا ہے یا اس کے اوپر خدا کی بتائی ہوئی سزا کو نافذ کرتا ہے۔ اسی طرح شریعت الہی کے تمام احکام انسان کی جانچ کے لئے ہیں اور وہ ہر انسان کے اپنے دائرہ اختیار سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی حکم یا احکام کا کوئی مجموعہ اس نظریہ سے تعلق نہیں رکھتا کہ خدا کی حکومت زمین پر یا انسانی دنیا پر قائم نہیں ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خدا کے نائب بن کر خدا کے اقتدار کو اس حصہ کائنات پر نافذ کریں۔

انسان کو موجودہ زمین پر اس لئے نہیں بسایا گیا ہے کہ وہ یہاں اقتدارِ خداوندی کی انسان کو یہاں بسانے کا واحد مقصد امتحان ہے۔ انسان کو عارضی مدت کے لئے یہاں رکھ کر خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص اپنے اختیار کو جائز حدود کے اندر استعمال کرتا ہے اور کون اختیار پا کر سرکش بن جاتا ہے (خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم احسن عملا)، اس اعتبار سے شخصی دائرہ میں حکم الہی کی تعمیل بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی حیثیت رکھتی ہے جو حکومتی دائرہ میں اختیار کو استعمال کرنے کی ہے یا ہوسکتی ہے۔ تحریف یا استدلال اس نظریہ کے حق میں قرآن سے جو دلائل دئے جاتے ہیں، وہ تحریف کی حد تک غلط ہیں۔ میں سے اکثر دلائل کا تجزیہ ”تعبیر کی غلطی“ نامی کتاب میں کیا جا چکا ہے۔ یہاں ہم ان حضرات کی ایک اور دلیل کی وضاحت کریں گے۔

یہ دلیل قرآنی آیت وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (المدثر ۳) کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا کو بڑا کرو۔ یعنی خدا کی سیاسی اور حکومتی بڑائی کو زمین پر قائم کرو۔ اس نظریہ کے مطابق، اسلام صرف روزہ اور نماز کا نام نہیں ہے۔ اسلام یہ ہے کہ دنیا میں سیاسی انقلاب برپا کیا جائے۔ ساری دنیا میں خدائی قانون کو نافذ کیا جائے ۔ خدا کی بڑائی

جو ساری کائنات میں قائم ہے، اس کو زمین پر قائم کر کے اس کی بڑائی کی تکمیل کی جائے۔ یہ حضرات وَرَبَّکَ فَکَبِّرکا ترجمہ کرتے ہیں ــــــــ اور اپنے رب کو بڑا کر۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ تکبیر کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا صرف اعلان یا اعتراف کر دیا جائے، زبان سے اللہ اکبر کہہ دیا جائے۔ بلکہ تکبیر سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کی سیاسی بڑائی کو زمین پر نافذ کیا جائے۔ اس کی کبریائی کی بنیاد پر مبنی حکومتی نظام کو بالفعل قائم کیا جائے ۔ اپنی اس تشریح کی روشنی میں اور اپنے اس دعوے کے مطابق، یہ حضرات انقلابی تحریک چلا رہے ہیں جس کا مدعا یہ ہے کہ سیکولر حکمراںوں کو اقتدار سے ہٹا کر اسلام پسند حکمرانوں کو اقتدار پر بٹھایا جائے۔ اور پھر یہ اسلام پسند حکمران خدا کے نائب بن کر خدا کی بڑائی کو زمین پر قائم کریں۔

"تکبیر رب" کا یہ مفہوم نہ صرف علمی اعتبار سے بے بنیاد ہے بلکہ وہ لرزہ خیز حد تک ایک بیجا کیوں کہ اللہ کی بڑائی تمام دنیا پر اپنے آپ قائم ہے۔ اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ کوئی شخص اللہ کی بڑائی کو اس کی طرف سے دنیا کے اوپر قائم اور نافذ کرے۔

بلاشبہ اسلام میں یہ بھی مطلوب ہے کہ حسب حالات سیاسی اور حکومتی معاملات میں شرعی قانون کو جاری کیا جائے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ انسانی امتحان کا مسئلہ ہے نہ کہ خدا کی بڑائی قائم کرنے کا مسئلہ۔ جس طرح انفرادی زندگی کے احکام ایک فرد کے لئے بطور آزمائش ہیں۔ شریعت کے اجتماعی احکام بھی ان لوگوں کے لئے آزمائش ہیں جو اجتماعی امور کا اختیار رکھتے ہوں۔ ان احکام کا اس خود ساختہ نظریہ سے کوئی تعلق نہیں کہ زمین پر خدا کی بڑائی قائم نہیں ہے اور اب ضرورت ہے کہ مسلمان یہاں خدا کی بڑائی قائم کر کے اس کے اقتدار کو مکمل کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، تکبیر یا اللہ اکبر کا کلمہ سب سے زیادہ نماز کے عمل میں دہرایا یہ عمل روزانہ پانچ اوقات میں مسجد کے اندر انجام دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسجد کے اندر خدا کا سیاسی اقتدار قائم نہ تھا، اور نمازیوں نے تکبیر (اللہ اکبر) کا عمل کر کے مسجد کے احاطہ میں خدا کی سیاسی بڑائی کا تخت بچھا دیا۔

مسجد کے ماحول میں اللہ اکبر کی تکرار ایک خالص شخصی عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بندہ جس کو اللہ نے فکر و عمل کی آزادی دی تھی، اس نے مسجد میں آکر خدا کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار

اس نے اللہ اکبر کا کلمہ اپنی زبان سے ادا کر کے یہ اعتراف کیا کہ میں چھوٹا ہوں، بڑائی اور عظمت سب کی سب ایک ذوالجلال والاکرام کو حاصل ہے مسجد میں اللہ اکبر کی تکرار ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک انفرادی اور نفسیاتی عمل ہے نہ کہ سیاسی اور حکومتی عمل ۔ یہ ایک موجود عظمت کا اقرار کرنا ہے نہ کہ غیر موجود عظمت کو نافذ اور قائم کرنا ۔ تکبیر رب کا حکم قرآن میں متعدد مقام پر آیا ہے۔ کہیں اسی خاص لفظ میں اور کہیں دوسرے الفاظ میں ۔ اس سلسلہ میں قرآن کے چار مقامات یہ ہیں۔ البقرة ۱۸۵، الحج ۳۷، الاسراء ۱۱۱ ، المدثر ۳۔

ان چاروں آیتوں میں تکبیر رب کا حکم آیا ہے۔ مگر تمام مفسرین نے بالاتفاق یہاں ”اللہ اکبر“ کہنا مراد لیا ہے۔ قرآن میں جہاں بھی کبیر یا تکبیر کا لفظ ہے ، اس کا مطلب مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ ”اللہ اکبر کہو“۔ تاہم کہنے کا مطلب مجرد کلمہ تکبیر کا تلفظ نہیں ہے بلکہ حقیقت تکبیر کا قلبی زبان سے اللہ اکبر کہنا در اصل اس بات کا ظاہری اعلان ہے کہ بندہ نے خدا کو اپنا کبیر بنا لیا ہے اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنے کو صغیر بنانے پر راضی ہے۔ اللہ اکبر کو قائم کرنے کا محل انسان کے اپنے اندر کی روح ہے نہ کہ کوئی باہر کا ملک یا خارجی زمین ۔ کا تعلق آدمی کے ایمان سے ہے۔ ایمان ایک شعوری دریافت ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی مظاہرِ کائنات کے پیچھے حقیقت کائنات کو پالے۔ وہ تخلیق سے گزر کر اس کے خالق کا جلوہ دیکھ لے۔ وہ واقعہ میں صاحب واقعہ کے وجود کا مشاہدہ کرلے۔

اللہ اکبر اسی ایمانی دریافت کا ایک اظہار ہے۔ ایمان آدمی کو ایک عظیم خدا سے متعارف کراتا ہے وہ آدمی کو توحید کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ اس وقت آدمی کی زبان سے کلمہ اعتراف نکل پڑتا ہے وہ یہی اللہ اکبر ہے۔ اللہ اکبر کا مطلب خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا بنانا ہے۔ اللہ اکبر کے کلمہ کی تکمیل یہ نہیں ہے کہ زمین کے اوپر شریعت کا دیوانی اور فوجداری قانون نافذ ہو جائے۔ اللہ اکبر کے کلمہ کی تکمیل یہ ہے کہ آدمی کی زبان سے جب اللہ اکبر نکلے تو اس کی روح بے اختیار ہو کر کہہ اٹھے کہ انا اصغر (میں چھوٹا ہوں) ”تکبیر رب“ کے سلسلہ میں مفسرین کی تشریحات نہایت واضح ہیں۔ ہر ایک نے اس کو نفسیاتی معنی میں لیا ہے نہ کہ سیاسی معنی میں۔ یہاں نمونہ کے طور پر چند مفسرین کی تشریحات نقل کی جاتی ہیں :

تفسیر ابن کثیر ولتذکر وااللہ عند انقضاء عبادتكم (۲۱۷/۱) لتظموه كما هداكم لدینه وشرعہ وما یحبه ویرضا ہ ونہا كم عن فعل ما یکرھہ ويا بأہ (۳/ ۲۲۲)

تفسیر قرطبی ای عظمہ عظمۃ تامہ، صفہ بانہ اکبر من كل شی (۳۲۵/۱۰) ای سیدك وما لكك ومصلح امرك فعظم وصفہ بانہ اکبر من ان يكون له صاحبة او ولد (۱۹/ ۶۰)

تفسیر نسفی لتکبروااللہ ای لتعظموه حامدین علی ما ھداکم الیہ واختص ربك بالتكبير وھو التعظيم اى لا يكبر فى عينك غيرہ (۳۰۶/۴) تفسیر آلوسی ای اخصص ربك بالتكبير وھووصفہ تعالى بالكبرياء والعظمة اعتقاداً وقولاً (۲۹ / ۱۱۶)

صفوة التفاسير ای عظم ربك عظمۃ تامة واذكر بصفات العز والجلال والعظمة والكمال (۲ / ۱۸۰)

ای ولتحمدوااللہ على ما ارشدكم اليه من معالم الدين (۱/ ۱۲۲) تفسیر مظہری ای عظمہ عن ان يكون لہ شريك او ولى تعظيما بالغا (۵ / ۵۰۲) وصفہ باوصاف الكمال مالا يتصف به غيرہ (۱۰ / ۱۲۲)

مفسرین کی ان تشریحات پر غور کیجئے ۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام مفسرین قرآن کے نزدیک تکبیر رب ایک شخصی عبادت کا فعل ہے نہ کہ کوئی سیاسی اور حکومتی فعل۔ جب ایک بندہ اللہ اکبر کہتا ہے تو وہ اپنی معرفت خداوندی کا زبانی اقرار کرتا ہے۔ وہ اللہ کی عظمت اور اس کے احسانات کو یادکرکے کہہ اٹھتا ہے کہ خدا یا تو ہی بڑا ہے۔ ساری عظمتیں صرف تیرے لئے ہیں۔ میں اپنے عجز کا اور تیری بڑائی کا اقرار کرتا ہوں ۔

اللہ اکبر کسی نام نہاد انقلابی نظریہ کا کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔ اللہ اکبر دراصل حمد اور شکر کا کلمہ ہے۔ یہ مومن کی قلبی حالت کا ایک لفظی اظہار ہے۔ اس کا تعلق انسان کی اندرونی شخصیت سے ہے نہ کہ کسی خارجی ڈھانچہ یا کسی بیرونی نظام سے ۔

سب سے بڑی عبادت اللہ تعالیٰ کی معرفت مومن کا سب سے بڑا سرمایہ یہ ہے کہ وہ خداوند بزرگ و برتر کو اس طرح پائے کہ اس کی شخصیت اس کے جلال و کمال کے تصور سے نہا اٹھے۔ معنوں میں ایک ربانی انسان بن جائے۔ مگر مذکورہ دینی تعبیر میں یہی اہم ترین چیز حذف ہو جاتی ہے۔ خدا کی عظمت ایک قائم شدہ عظمت ہے۔ وہ ازل سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گی، مومن جب اس قائم شدہ عظمت کے بارہ میں سوچتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کی روح خدا کی بڑائی کے احساس سے بھر جاتی ہے۔ اللہ اکبر کا کلمہ اس کو حمد اور شکر اور انابت کی کیفیت سے سرشار کر دیتا ہے۔ خدا کو آخری حد تک کامل سمجھنے کا احساس اس کے اندر عبدیت کے جذبہ کو آخری حد تک بڑھا دیتا ہے۔

مگر مذکورہ تعبیر میں ساری صورت حال بدل جاتی ہے۔ جب یہ مان لیا جائے کہ خدا کی بڑائی ابھی کچھ انسانوں نے خدا کی بڑائی کے ایک حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے تو اب توجہ کا مرکز خدا کے بجائے انسان بن جاتا ہے۔ اب خدا کی قائم شدہ بڑائی میں سرشار ہونے کے بجائے سارا ذہن ان انسانوں کی مخالفت میں لگ جاتا ہے جو خدا کی بڑائی کے ایک حصہ کو مفروضہ طور پر چھینے ہوئے ہیں۔ اور جن سے اس بڑائی کو واپس لے کر، ہمیں خدا کی بڑائی کو مکمل کرنا ہے۔ "اللہ اکبر" خدائی بڑائی کے اقرار کا عنوان تھا، مگر اس تعبیر نے اللہ اکبر کو انسانی بڑائی کے انکار کا عنوان بنا دیا۔ ایک عظیم روحاني کلمہ محض ایک سیاسی کلمہ بن کر رہ گیا۔

پہلی صورت میں انسان کا روحانی احساس ابھرتا ہے، اور دوسری صورت میں انسان کا سیاسی احساس ہے۔ پہلی صورت میں دین آدمی کے لئے ربانی غذا بن جاتا ہے، اور دوسری صورت میں سیاسی تقریروں اور حکومتی نزاع کا۔ پہلی صورت میں آدمی کے اندر ایک متقیانہ شخصیت ابھرتی ہے اور دوسری صورت میں سیاسی شخصیت۔ پہلی صورت میں آدمی کے اندر خوف خدا کی نفسیات جاگتی ہے اور دوسری صورت میں نفرت انسان کی نفسیات ــــــــــ آدمی عین اسی چیز کو کھو دیتا ہے جس کو در اصل اسے اس دنیا میں پانا چاہئے۔

Printed page