Al-Risala · January 1998

Sri Lankans crush India

Al-Risala, January 1998, pp. 26–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مہر کے الفاظ میں، یہ اسپورٹنگ سلوک (sporting behaviour) نہیں ہے بلکہ فسادی سلوک (riotous behaviour) کا مظاہرہ ہے۔

بنگلور میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو میچ ہوا اس موقع پر پاکستان کے اخباروں میں اس قسم کی رپورٹیں چھپی۔ گویا یہ دو ٹیموں کا کھیل نہیں ہے بلکہ دو ملکوں کی زندگی وموت کی مثلاً پاکستانی روزنامہ نوائے وقت (۹ مارچ ۱۹۹۶) کے صفحہ اول کی ایک رپورٹ کی سرخی یہ تھی : پاکستان آج بھارت سے ٹکرائے گا۔ اسی بات کو روزنامہ قومی آواز آواز(۱۷مارچ۱۹۹۶) کے ایک مضمون میں ان الفاظ میں ظاہر کیا گیا تھا؛ کھیل کے میدان پر قوموں کی جنگ۔ اس قسم کی سنسنی خیز رپورٹنگ ہلاکت خیز حد تک غلط ہیں۔ یہ دونوں ہی ملکوں میں رائج ہے اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ بنگلور کی شکست نے پاکستان کا مذکورہ حال کیا، اور اس کے بعد کلکتہ کی شکست نے ہندوستان کا۔

کھیل کی اسپرٹ یہ ہے کہ لوگ آپس میں مقابلہ کریں۔ مگر اس کے بعد وہ ہار جیت سے اوپر اٹھ کر آپس میں ایک دوسرے کے دوست بنے رہیں۔ مگر آج عملاً اس کے برعکس پیش کھیل کا میچ دو دشمنوں کے درمیان جنگ کے ہم معنی بن گیا ہے۔ مراد آباد سے ایک روز نامہ آئینہ عالم نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰ مارچ میں یہ خبر تھی کہ تھانہ کوتوالی کے تحت منڈی چوک میں بھارت کو ہندوستان کی ٹیم کو دورہ پاکستان کی ٹیم نے شکست دینے

شہر میں جیت کی خوشی میں پٹاخے چھوڑے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نوجوان نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں دوسرے فرقہ کے محلے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔

ایک اردو ہفت روزہ کا شمارہ ۱۴مارچ ۱۹۹۶ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک خبر تھی۔ اس کی سرخی لال رنگ میں اس طرح چھپی ہوئی تھی؛ فرقہ وارانہ فسادات کی سازش۔ میں نے جناب عبدالرحمن مرادآبادی (۳۶سال) سے کہا کہ اس سرخی پر تبصرہ کیجئے ۔ نے کہا؛ جب سازش کا پتہ لگ گیا تو فوراً اس کو ناکام کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ سازش کا شور مچانے سے کیا فائدہ۔

عبدالرحمن صاحب مراد آباد کے ایک بینک میں مینیجر ہیں۔ ان کا یہ تبصرہ فطرت کا تبصرہ تھا، مصلح اگر سنجیدہ ہے تو یقیناً وہ یہی کرے گا کہ سازش کا علم ہونے کے بعد وہ اس کو ناکام کرنے کی تدبیر کرے گا۔ جب وہ اپنی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اس کو ناکام کر چکا ہوگا تو اس وقت وہ دنیا کو بتائے گا کہ دیکھو، یہ ہے سازش کو ختم کرنے کا طریقہ۔ مراد آباد کے ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں کے ایک تعلیم یافتہ نے امریکہ کا سفر کیا۔ کے بعد میں نے پوچھا کہ امریکہ اور ہندوستان میں آپ نے کیا فرق دیکھا۔ انھوں نے کہا؛ وہاں خدا کا گناہ ہے، یہاں بندوں کا گناہ ۔ وہاں کے لوگ خدا کے حکم کو توڑتے ہیں، مگر وہ انسان کو نہیں ستاتے۔ یہاں کے لوگ خدا کے حکم کو تو مانتے ہیں، مگر وہ انسان کو ستانے سے باز نہیں آتے۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ منافقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ منافقت نام ہے ڈبل کریڈٹ لینے کا۔ مثلاً آپ جہاد کی باتیں کریں مگر عملی طور پر جہاد میں شریک نہ ہوں۔ سے اپنے آپ کو جہاد پسند بتائیں اور عملاً اپنے آپ کو اور اپنے بیٹوں کو جہاد کے میدان سے دور رکھیں۔

غلام مصطفیٰ رحیمی (۶۲ سال) نے بتایا کہ میں الرسالہ کے اس نظریہ سے مکمل طور پر متفق ہوں کہ فرقہ وارانہ فسادات کا قابل عمل حل صرف ایک ہے، اور وہ صبر اور حکمت ہے۔

سلسلہ میں انھوں نے اپنے کئی واقعات بتائے۔ مثلاً ایک بار ایسا ہوا کہ یہاں کی ایک مسجد میں کسی شرپسند آدمی نے خنزیر کا گوشت ڈال دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان مسجد میں خنزیر کو دیکھ کر بھڑک اٹھیں گے اور پھر انھیں فساد کرنے اور لوٹ مار کرنے کا موقع مل جائے گا۔ رحیمی صاحب نے خاموشی کے ساتھ گوشت کو اٹھا کر دور گڑھے میں ڈال دیا اور مسجد کو پانی سے اس طرح سازش کرنے والوں کی سازش پہلے ہی مرحلہ میں ناکام ہوگئی۔ ایس پی کی طرف سے ایک سرٹیفیکیٹ دیا گیا ہے جو یہاں نقل کیا جاتا ہے : ایک صاحب نے کہا کہ آپ جس نظریہ کی تبلیغ کرتے ہیں اس کو ہندوستان کے کتنے مسلمان مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ سارے ہی مسلمان مانتے ہیں۔ غالباً کوئی ایک بھی ایسا مسلمان نہیں جو میری بات کو نہ مانتا ہو۔

ان کو اچنبھا ہوا۔ میں نے کہا کہ اس میں اچنبھا کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں جو کہتا ہوں وہ عین فطرت کی بات ہے، پھر کون ہے جو فطرت کو رد کر سکے۔ میں صبر و تحمل کی بات کرتا ہوں۔

پھر کون ہے جو اس کو رد کر سکے۔

مراد آباد کی ایک سڑک پر چلتے ہوئے ایک چھوٹے سے پارک پر ایک تختی لٹکی ہوئی نظر اس پر لکھا تھا: جگر ایکشن کمیٹی۔ اس کو دیکھ کر یاد آیا کہ مشہور شاعر جگر اسی مراد آباد کے رہنے والے تھے۔ ابتداء وہ عینک بیچتے تھے۔ پھر ایک ذاتی حادثہ نے انہیں شاعر بنا دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں دیکھ رہا تھا کہ اس میں جگر کے بارہ میں کچھ ہے۔ اس میں جگر کا نام تو نہیں تھا، البتہ وہاں "جہاد" کا لفظ نظر پڑا۔ جہاد کی تشریح میں اس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ جہاد ایک مذہبی ذمہ داری ہے جو مسلمانوں پر اس لیے عائد کی گئی ہے کہ وہ جنگ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کریں :

Jihad, religious duty imposed on Muslims to spread Islam by waging war. (V/558)

جہاد کا یہ تصور اسلام کو ایک جنونی مذہب ثابت کرتا ہے ، مگر اس کے ذمہ دار مستشرقین نہیں ہیں بلکہ موجودہ زمانہ کے وہ نام نہاد اسلامی مفکرین ہیں جنھوں نے اسلام کی جنگی تفسیر کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم نو جوان ساری دنیا میں لڑنے بھڑنے لگے اور اس طرح دوسروں کو اسلام کی غلط تصویر کشی کا موقع مل گیا۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں ظلم کو برداشت کرنا گناہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں تو اپنی بات کے لیے ہمیشہ آیت اور حدیث نقل آپ بتائیے کہ قرآن وحدیث میں کہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ ظلم کو برداشت کرنا گناہ ہے۔ وہ کوئی آیت یا حدیث پیش نہ کر سکے۔ تا ہم ان کی بحث جاری رہی۔ آخر میں میں نے کہا کہ یہ بات اگر آپ اسلام کے حوالے سے فرمارہے ہیں تو اس کی کوئی دلیل آپ کے پاس نہیں۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ اسلام کا لفظ نہ بولیں بلکہ خود اپنی بات کے طور پر اسے بیان

مراد آباد میں میرا قیام لاجپت نگر میں تھا۔ یہ ایک نئی کالونی ہے اور اس کے بیشتر رہنے والے ہندو لوگ ہیں۔ یہاں صاف ستھرے مکانات ہیں۔ چوڑی سڑکیں ہیں صفائی کا اہتمام فضائی کثافت بھی بہت کم ہے۔ اس کے برعکس حال ان محلوں کا ہے جہاں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں، یہاں خستہ مکانات، تنگ راستے، ہر طرف کوڑا اور گندگی۔ پوری فضا میں بدبو پھیلی ہوئی۔ کچھ مسلمان جن کے پاس زیادہ دولت آگئی ہے، انھوں نے باہر کے علاقوں میں اچھے مکانات بنا لیے ہیں۔ مگر عام مسلمانوں کا حال وہی ہے جو بیان ہوا۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ درد ناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے ماحول میں رہنا ہمیشہ فکر و خیال میں سطحیت پیدا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی حال مراد آباد کے ان علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کا ہے اور اسی طرح دوسرے شہروں ، مثلاً پرانی دہلی میں رہنے والے مسلمانوں کا۔

مراد آباد میں اگست ۱۹۸۰ میں فساد ہوا تھا جس میں مسلمانوں کا شدید نقصان ہوا۔ اس سے مسلمانوں میں عمل کا نیا جذبہ بھی بیدار ہوا۔ اس کی کئی مثالیں یہاں سننے اور دیکھنے کو ایک مثال یہ ہے کہ یہاں کے ایک تاجر حاجی ابوالحسن صاحب ۱۹۸۳ میں اپنے گھر کے کچھ بچوں کو مقامی و لسونیا اسکول میں داخل کرنا چاہتے تھے ، مگر ان کو وہاں داخلہ نہیں ملا۔ حاجی ابوالحسن صاحب اس سے بددل نہیں ہوئے۔ بلکہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ایک اسکول چنانچہ انھوں نے ذاتی کوشش سے ۱۹۸۳ میں ایک نیا اسکول قائم کیا جس کا نام ماڈرن پبلک اسکول ہے۔ اس وقت وہ معیار کے اعتبار سے نمبر ایک اسکول سمجھا

ایک صاحب نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ، جب کہ اس میں ۷۵فی صد طلبہ غیر مسلم ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس میں مسلمانوں کو رعایتی داخلہ دیا جانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ دنیا مقابلےے کی دنیا ہے۔ یہاں رعایت کا مطلب خود کشی ہے۔ آپ کو اپنے بچوں کو مقابل کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ رعایت محض ایک خیالی لفظ ہے ، عملی زندگی میں اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔

ایک صاحب نے بتایا کہ مراد آباد میں جو پیسہ والے مسلمان ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ تم اتنا زیادہ کس لیے اکٹھا کر رہے ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے : اس لیے کہ بچے آرام

میں نے کہا کہ بچوں کے آرام کے لیے جو لوگ دولت اور جائیداد اکٹھا کریں وہ خود اپنی اولاد کے لیے کوئی عقل مندی نہیں کر رہے ہیں۔ تجربہ یہ ہے کہ بے محنت کے ملی ہوئی دولت آدمی کے اخلاق کو بگاڑتی ہے۔ وہ اس کے اندر سلطیت، حتیٰ کہ آوارگی پیدا کردیتی ہے۔ ساتھ سب سے پہلی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، اور اس کے بعد دوسری ضرورت یہ ہے کہ ان کو محنت کے راستہ پر ڈالا جائے۔

میں نے یہاں کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے پوچھا کہ مراد آباد کے مسلمان اگلے الیکشن (اپریل ۱۹۹۶) میں کس کو ووٹ دیں گے۔ انھوں نے جواب دیا : مراد آباد کے مسلمان اس کو ووٹ دیتے ہیں جو مسلمانوں کا گن گاتے ہیں۔

یہ جواب موجودہ مسلمانوں کی نفسیاتی کمزوری کو بتاتا ہے۔ وہ نصیحت کی بات، داخلی کوتا ہیوں کی اصلاح کی بات کو نا پسند کرتے ہیں۔ البتہ جو شخص بڑے بڑے الفاظ بول کر انھیں ہوائی توقعات کا سبز باغ دکھائے اس کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ ٹھیک وہی نفسیات ہے جس میں یہود اپنے دور زوال میں مبتلا ہوئے۔ وہ ان افراد کو پسند کرنے لگے جو انھیں جھوٹی امید دلا ئیں (یر میاہ ۳۰ : اس) اور فرضی طور پر اچھی باتیں مسلمان اپنی اسی نفسیات کی بنا پر لمبی مدت سے سطحی لیڈروں کے استحصال کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

مراد آباد میں ہزاروں چیزیں بنتی ہیں۔ یہ زیادہ تر گفٹ آئٹم ہوتے ہیں جو بر اس (پیتل) کے ذریعہ تیار کیے جاتے ہیں۔ براس خود کوئی مستقل دھات نہیں ہے۔ وہ در اصل مرکب دھات(alloy)ہے (alloy) ہے جو کا پراور زنک کو ملانے سے تیار ہوتا ہے۔ مرکب دھات بنانے کا طریقہ قدیم زمانہ سے رائج ہے۔ مثلاً کاپر اور زنک کو ملا کر براس بنانے کا طریقہ حضرت مسیح سے ہزار سال پہلے موجود تھا۔ اس بارے میں پچکا ایک حیرت انگیز سوال ہے۔

دو یا تین دھاتوں کو ملا کر ایک نئی زیادہ کار آمد دھات بنانے کا طریقہ انسان نے کس طرح جانا۔ اس موضوع کی تحقیق کرنے والے عام طور پر اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ان کی اتفاقی ملاوٹ (accidental mixing) کے نتیجہ میں اس کی دریافت ہوئی۔ یا وہ کچی دھات کو پگھلا کر صاف کرنے کے دوران غیر ارادی طور پر بن جانے والے مخلوط (unintentionally smelted mixture) کے ذریعہ انسان کے علم میں آئی۔ مگر یہ انتہائی انوکھا قیاس ہے۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ یہ ابتدائی علم پیغمبروں کے ذریعہ انسان کو دیا گیا۔

عبد الرحمن صاحب مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں۔ ان کے کمرہ کی الماریاں کتابوں سے بھری ہوئی کچھ کتابیں دیکھیں۔ ان میں سے ایک کتاب حسب ذیل تھی : 100 Great Books, by John Canning, Souvenir Press Ltd., ۴۱۴ صفحہ کی یہ کتاب دہلی کی روپا کمپنی (پٹو دی ہاؤس روڈ، دریا گنج) نے ۱۹۸۴ میں شائع کی ہے۔ اس کتاب میں جن عالمی کتابوں کا تذکرہ ہے ان میں سے ایک قرآن ہے۔ یہ باب ان الفاظ پر ختم ہوا ہے ۔ یہ شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ قرآن، جس کو مسلمان افضل کتاب سمجھتے ہیں، وہ آج بھی انھیں اصل الفاظ پر مشتمل ہے جو صدیوں پہلے محمد نے خدائے واحد کے پیغمبری حیثیت سے ادا کیا تھا :

There is no reason to doubt that in the "Excellent Book," as the Moslems call the Koran, we have the actual words that Mohammed used, when, all those many centuries ago, he uttered his pronouncements as the Messenger or Apostle of Allah, the One Most High God. (p. 83)

جناب عبد الرحمن صاحب کے صاحبزادے نشاط رحمن (۱۲ سال) نے کہا کہ آپ یہ بتائیے آپ الرسالہ لکھتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بچوں کے لیے بھی کوئی اس طرح کی کتاب نکالنا چاہیے جب کہ الرسالہ بڑوں کے لیے ہے۔ اگر آپ کچھ لکھیں بچوں کے لیے تو اس کا ٹائٹل رکھیے گا۔

میں نے کہا کہ ایک کام میں نے کیا، اب دوسرا کام آپ کریں گے۔ اگر سب کام میں

Printed page