عید اضحی
Al-Risala, May 1998, pp. 35–37
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک اس کا ظاہر، اور دوسرا اس کا باطن۔ کا ایک ظاہری جسم ہے اور دوسری چیز اس کی روح ہے جو اصل انسان کی حیثیت رکھتی ہے یہی معاملہ اس دنیا میں تمام چیزوں کا ہے۔
اسلام میں جن عبادتوں کی تعلیم دی گئی ہے ان کے بھی اسی طرح دو پہلو ہیں ایک ان عبادتوں کا فارم ہے اور دوسرے ان کی اسپرٹ ۔ مثلاً نماز میں قیام اور رکوع اور سجدہ اس کا ظاہری فارم ہے اور اس کی اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تواضع کا مزاج پیدا ہو۔ اسی طرح روزہ کا فارم، دن کے اوقات میں کھانا اور پانی چھوڑنا ہے اور اس کی اسپرٹ صبر ہے۔ زکوٰۃ کا فارم، اپنے مال کا کچھ حصہ دوسروں کو دینا ہے اور اس کی اسپرٹ عام انسان کے لیے خیر خواہی ہے۔
یہی معاملہ عیدِاضحی یا عید قرباں کا ہے۔ عیدِاضحی کی ظاہری شکل دو رکعت نماز اور ذبیحہ ہے اور اس کی اسپرٹ قربانی ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ خدا کو جانور کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اس کو وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو تمہارے اندر ہے۔ تقویٰ سے مراد اندرونی جذبہ ہے یعنی خدا کو یہ مطلوب ہے کہ تمہاری اپنی ذات کے بجائے خدا تمہارا مرکزِ توجہ بن جائے ، دنیا کے بجائے آخرت تمہارا مقصود ہو، مادی ترقی کے بجائے روحانی ترقی کو تم اپنی سرگرمیوں کا نشانہ بنا لو۔
اس طرح کا مقصد محض سادہ عمل کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتا ، اس کے لیے اس قسم کی غیر معمولی جدوجہد درکار ہے جس کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی کی سطح پر عمل کر کے ہی آدمی زندگی کے اعلیٰ مقاصد کو پاسکتا ہے، اور آدمی کے اندر قربانی کی اسی اسپرٹ کو جگانے کے لیے اسلام میں عید الاضحیٰ کا سالانہ تہوار رکھا گیا ہے۔
اس قربانی کے عمل کی سب سے پہلی تاریخی مثال حضرت ابراہیمؓ نے قائم کی، وہ تقریباً چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے ۔ اس زمانہ میں عراق اور دوسری تمدن دنیا میں مادیت اور غیر خدا کی پرستش عام ہو چکی تھی یہ چیزیں تہذیب کا حصہ بن چکی تھیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں یہ چیزیں اتنا زیادہ سرایت کر چکی تھیں کہ اس ماحول میں جو پیدا ہوتا تھا وہ مادیت سے قریب اور خدا سے دور ہو جاتا تھا۔
انسان فطرت کے راستے سے ہٹ گیا تھا۔ وہ خواہش پرستی اور توہمات اور خود ساختہ رسم و رواج میں گھرا ہوا تھا اب ضرورت تھی کہ ایک نئی نسل بنائی جائے جس کی اٹھان فطرت کے ابدی اصولوں پر ہوئی جو محدودیت کے خول سے باہر آئے اور آفاقیت کی وسیع تر فضا میں جینے کے قابل بن جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی نئی نسل کی تیاری کے لیے اپنی اولاد کو قربان کر دیا۔ وہ عراق اور شام کے متمدن شہروں سے نکل کر باہر آئے اور اپنے چھوٹے بچے اور ان کی ماں کو غیر متمدن حجاز کے صحرا میں یہاں اس وقت کوئی انسانی آبادی نہیں تھی، اس لیے وہاں وقت کی شہری خرابیاں بھی موجود نہ اس وقت وہاں صرف فطرت کا ماحول تھا ــــ پھیلی ہوئی زمین، پہاڑ، درخت، ہوائیں، کھلی فضا، آسمان، سورج، چاند، ستارے، وغیرہ۔ شہروں میں اگر مصنوعی تہذیب کا راج تھا تو اس وقت کے حجاز میں ہر طرف فطرت کی تہذیب کے مناظر پھیلے ہوئے تھے۔
یہ گویا فطرت کی وسیع تعلیم گاہ تھی۔ اسی کے آفاقی ماحول میں اس نسل کی تعلیم و تربیت ہوئی جو بعد کو بنی اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ نئی نسل توالد و تناسل کے ذریعہ تقریباً ڈھائی ہزار سال میں اس نسل کا ہر فرد اس اعلیٰ فطرت کا نمونہ تھا جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ہر فرد میں وہ اعلیٰ اخلاقی اوصاف پوری طرح موجود تھے جو انسانیت کا کمال سمجھے جاتے ہیں۔ بنو اسماعیل کے انھیں اوصاف کی بنا پر ایک مغربی مورخ نے ان کو ہیروں کی ایک قوم (نیشن آف ہیروز) کا نام دیا ہے۔ فطرت کی درس گاہ میں تعلیم و تربیت پا کر ان میں کا ہر شخص ایک انسانی ہیرو چنانچہ انھیں میں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وہ تمام اعلیٰ انسان بھی اسی نسل کے افراد تھے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم نے اپنی قربانی کے ذریعہ جو نئی نسل تیار کی اسی کا یہ کارنامہ تھا کہ اس نے تاریخ انسانی میں نئے دور کا آغاز کیا ــــ اسی گروہ نے دوبارہ اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اوصاف کے نمونے اس نے انسانیت کے قافلہ کو خالق کی پرستش کے راستہ پر ڈالا جو مخلوق کی پرستش میں پھنسا ہوا تھا۔ اس نے انسانیت کو توہمات کے دور سے نکال کر سائنس کے دور میں داخل کیا، اس نے انسانی غلامی کا خاتمہ کیا اور اس بات کو ممکن بنایا کہ انسان آزادی اور مساوات کی فضا میں جی سکے، وغیرہ۔ عید اضحیٰ کا تہوار ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو دوبارہ اسی طرح قربانی کا عمل
کرنا ہے ہر زمانے میں کچھ لوگوں کو اس مقصد کے لیے اٹھنا ہے کہ وہ قربانی کی حد تک جاکر اصلاح و تعمیر کا عمل انجام دیں۔ وہ انسانیت کے قافلہ کو اس وقت دوبارہ فطرت کی شاہراہ پر لائیں جب کہ وہ اس سے بھٹک گیا ہو۔
عید اضحی کا تہوار حضرت ابراہیمؑ کی مثالی قربانی یاد دلاتا ہے۔ اس طرح دنیا بھر کے مسلمان علامتی طور پر حضرت ابراہیمؑ کی تقلید کر کے یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ حقیقی طور پر حضرت ابراہیمؑ کے طریقہ پر چلیں گے، وہ اپنے زمانے میں دوبارہ سنتِ ابراہیمی کو ان نئے حالات کے اعتبار سے زندہ کریں گے، تاکہ انسانیت کا قافلہ رکے بغیر ترقی کی سمت میں اپنا سفر جاری رکھے۔
عید اضحی کے موقع پر ذوالحجہ کے مہینہ میں جو کچھ کیا جاتا ہے وہ حضرت ابراہیم کی قربانی کا ایک علامتی حضرت ابراہیم کی اس قربانی والی زندگی کو زیادہ جامع صورت میں حج کے موقع پر حجاز کے علاقہ میں ہر سال دہرایا جاتا ہے جہاں ابتدائی طور پر قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ حجاز (مکہ) میں یہ عمل کلی طور پر ادا کیا جاتا ہے اور دنیا کے دوسرے مقامات پر انھیں دنوں میں جزئی طور پر۔ عید اضحی کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کی یہ اسپرٹ ہر مسلمان کے اندر مسلسل طور پر باقی رہے۔ ہر اگلی نسل کے مسلمان اپنے زمانے کے تقاضوں کو سمجھ کر اس کے مطابق، قربانی کے اس عمل کو دہرائیں۔ وہ بار بار اس ابراہیمی سنت کو زندہ کریں تاکہ انسانیت جمود کی شکار نہ ہو۔ یہ عمل ایک طرف ہر دور میں مسلمانوں کے احیائے نو کا ذریعہ ہے اور دوسری طرف وسیع تر انسانیت کی ضرورتوں کی