بند شیر
Al-Risala, May 1998, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
زو (چڑ گھر) کے اندر لوہے کا اونچا اور مضبوط کٹہرا ہے۔ اس کٹہرے کے اندر ایک زندہ شیر کھڑا کٹہرے کے باہر کچھ تماشائی اس کو دیکھ رہے ہیں ۔ اتنے میں شیر قریب آکر گرج دار آواز میں دھاڑنے لگا اس کی دھاڑ کو سن کر ایک بچہ ڈر گیا ۔ وہ یہ کہتے ہوئے اپنی ماں سے چمٹ گیا ، ممی ، اس کو لیکن جو بڑے لوگ تھے وہ اپنی جگہ بے خوف کھڑے ہوئے شیر کو دیکھتے رہے۔ انھوں نے اس کی دھاڑ کی کوئی پروا نہیں کی ۔
دونوں کے درمیان اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بچہ کا دھیان شیر کی آواز پر گیا اور بڑوں کا دھیان شیر کی محدودیت پر ۔ بچہ نے یہ سمجھا کہ شیر جس طرح ہم لوگوں کو دیکھ کر گرج دار آواز نکال رہا ہے ، اسی طرح وہ ہمارے خلاف کچھ کر بھی سکتا ہے۔ اس کے برعکس بڑی عمر کے جو مرد اور عورت وہاں موجود تھے ، انھوں نے محسوس کیا کہ شیر خواہ کتنا ہی دھاڑے مگر یہ ناممکن ہے کہ وہ لوہے کی سلاخوں کو پار کر کے ہم لوگوں تک پہنچ جائے ، اس لیے انھوں نے شیر کی خوف ناک دھاڑ کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوں نے سادہ طور پر اس کو نظر انداز کر دیا۔
اس مثال کی روشنی میں دورِ جدید کے مسلم رہنماؤں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے بھی مذکورہ قسم کی صورت حال پیدا ہوئی۔ بہت سے ’’شیر‘‘ مسلمانوں کے خلاف دھاڑنے لگے۔ سب کے سب بند شیر تھے نہ کہ کھلے شیر ۔ مگر بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما ’’بچہ‘‘ کی مانند ثابت وہ اس معاملہ میں بڑے لوگوں والا کردار ادا نہ کر سکے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جس کا شمار کرنا بھی ممکن نہیں ۔
موجودہ زمانہ میں مشرق سے لے کر مغرب تک تمام ملکوں میں ایسے افراد اٹھے جنھوں نے اسلام یا مسلمان کے خلاف لفظی طوفان برپا کیا ایسے لوگ ہندوؤں میں بھی تھے اور عیسائیوں اور یہودیوں میں بھی۔ ان لوگوں کے مخالفانہ الفاظ جب پرنٹ میڈیا یا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پھیلے تو دنیا بھر کے مسلم رہنماؤں نے جوابی تحریکیں شروع کر دیں انھوں نے مسلمانوں کو ڈرایا کہ دیکھو ، ساری دنیا میں تمہارے خلاف سازشیں یہ دشمن تمہارے تشخص کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ وہ تمہارے ملی وجود کے لیے سنگین خطرہ ہیں ۔
مسلم رہنماؤ ں نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو بھڑکا دیا۔ دنیا بھر کے مسلمان جہاد کے نام پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے ۔ کہیں یہ سرگرمیاں منفی سوچ تک محدود رہیں اور کہیں انھوں نے تشدد کا روپ اختیار کر لیا۔
ان مسلم تحریکوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ منفی سوچ ہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی غالب سوچ بن گئی۔ غیر مسلموں کو اپنا دشمن سمجھ کر ان سے نفرت کرنے لگے۔ اس نفرت کا مزید نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں میں جو لوگ عالمی امن اور بین اقوام رواداری کی بات کرتے تھے یا دوسری قوموں سے خوش گوار تعلقات قائم کرنے پر زور دیتے تھے وہ سب مسلمانوں کی نظر میں معتوب ہو گئے، وہ انھیں دشمن قوموں کے ایجنٹ نظر آنے لگے۔
اس طرح موجودہ زمانہ کے مسلمان نہ صرف غیر مسلموں سے لڑنے بھڑنے میں مصروف ہو گئے، بلکہ خود اپنی قوم کے اعتدال پسند لوگوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر ان کے خلاف بھی جنگ چھیڑدی ۔ جنگ آج دنیا کے ہر حصہ میں کم و بیش جاری ہے۔ کہیں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اور کہیں خود مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان۔
مفروضہ دشمنوں کے خلاف ہونے والی اس نام نہاد لڑائی میں یک طرفہ طور پر خود مسلمانوں ہی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اب مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کو ساری دنیا میں ایک نیا مشغلہ ہاتھ آ گیا۔ وہ اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنے لگے۔ دشمنانِ اسلام کی ظلم و زیادتی کا اعلان کرنا تقریری اور تحریری جہاد کے ہم معنی بن گیا۔
لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو اس معاملہ کی مکمل ذمہ داری خود نااہل مسلم رہنماؤ ں پر عائد ہوتی ہے۔ مذکورہ مثال کے مطابق ، شیر کی دھاڑ کے مقابلہ میں وہ صرف بچہ ثابت ہوئے، اس معاملے میں وہ بڑے آدمی کا رول ادا نہ کر سکے۔
بطور واقعہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غیر مسلم قوموں میں کچھ ایسے افراد اٹھے جنھوں نے اسلام یا مسلمانوں کے خلاف تقریریں کیں یا کتابیں لکھیں ۔ انھوں نے ایسی تحریکیں چلائیں جن کو بظاہر اینٹی مسلم تحریک کہا جا سکتا تھا۔ مگر ہمارے رہنماؤ ں کو جاننا چاہیے تھا کہ یہ شخصی بادشاہت کا زمانہ نہیں ہے ، یہ آزادی اور جمہوریت اور حقوق انسانی کے عالمی اعتراف کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا ایک گلوبل ولیج ہو چکی ہے،
اب اقوام متحدہ کا طاقت ور ادارہ قائم ہے۔ جدید علمی اور فکری انقلاب نے دنیا بھر کے بیشتر لوگوں کی نظر میں کمڑ پن اور تشدد کو قابل نفرت چیز بنا دیا ہے، وغیرہ۔
اس طرح کے مختلف عالمی اسباب موجودہ زمانہ کے بھیڑیوں اور شیروں کے لیے گویا ایک مضبوط آہنی کٹہر ابن چکے تھے۔ یہ جدید حالات حتمی طور پر اس میں مانع تھے کہ کوئی بھی شخص یا تحریک مسلمانوں کو کوئی حقیقی نقصان پہنچا سکے۔ اس قسم کے دشمن اپنی منفی آوازوں سے مسلمانوں کی سمع خراشی تو کر سکتے تھے مگر وہ ان کے خلاف کسی جارحانہ اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔ ایک لفظ میں یہ کہ اس قسم کی تحریکیں مسلمانوں کے لیے صرف ایک بے ضرر از عاج (nuisance) تھیں نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی واقعی خطرہ۔
ایسی حالت میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کا کام وہ نہ تھا جو انھوں نے کیا۔ اصل کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو بتاتے کہ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے اس قسم کے تمام لوگ زیادہ سے زیادہ فضا میں کچھ لفظی کثافت بکھیر سکتے ہیں، وہ تمہارے لیے کوئی حقیقی خطرہ نہیں۔ ان کے معاملہ میں اسلامی تعلیم کے مطابق اعراض کا طریقہ اختیار کرو، تم ان کے لفظوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا تعمیری اور دعوتی کام جاری رکھو۔ اپنے آپ کو جدید پہلو سے زیادہ سے زیادہ مستحکم بناؤ۔ سے الجھے بغیر اپنے ترقیاتی کاموں میں مصروف رہو۔
مگر بدقسمتی سے مسلم رہنما اس صورت حال کی اصل نوعیت کو نہ سمجھ سکے۔ انھوں نے انتہائی غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو ٹکراؤ کے راستہ پر لگا دیا جس کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ مسلمانوں کے لیے کامل طور پر یہ موقع تھا کہ وہ ’’کٹہرا‘‘ سے باہر رہ کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام انجام دیں مگر اپنے رہ نماؤں کی بے بصیرت رہنمائی کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ وہ پرجوش چھلانگ لگا کر خود کٹہرے کے اندر داخل ہو گئے۔ بند شیر تو ان کے قریب نہیں آ سکتا تھا مگر انھوں نے خود ہی اپنے آپ کو شیر تک پہنچا دیا۔ بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک الم ناک صفحہ بن چکا ہے۔
اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيد هم شيئًا (آل عمران ۱۲۰)
اس آیت کے مطابق ، تقویٰ اور صبر کی روش گویا وہ آہنی روک ہے جو دشمن کو ہم سے دور رکھتی
یہ روش اس بات کی ضمانت ہے کہ ہم دشمن کی سازشوں کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں گے۔ جب مسلمان تقویٰ اور صبر کی روش چھوڑ دیں تو اس کے بعد ان کے اور ان کے دشمن کے درمیان کوئی روک باقی نہیں رہتا ۔ اس کے بعد ان کی مثال اس انسان جیسی ہو جاتی ہے جو کسی زو میں لوہے کی سلاخوں کو پار کر کے اپنے آپ کو شیر کے پاس پہنچا دے ۔
اس طرح چھلانگ لگانے والا انسان اگر بعد کو یہ چیخ و پکار بلند کرے کہ یہ شیر بڑا ظالم ہے ، اس نے مجھے پھاڑ ڈالا تو یہ شکایت صرف اپنی نادانی کا اشتہار ہوگی ۔ اس کے برعکس ایسے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نادانی کا اعتراف کرے نہ کہ شیر کو مجرم قرار دے کر اس کے خلاف بے فائدہ طور پر شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنے میں مشغول ہو جائے ۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے اسی امتحان کی بنا پر یہاں ہر ایک کو پوری آزادی بھی دی گئی ہے۔ یہاں بسنے والے ہر شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو چاہے مثبت کام میں استعمال کرے یا منفی کام میں۔
اس صورت حال نے موجودہ دنیا کو ایک قسم کا جنگل بنا دیا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے آپ کو دوسروں کی زیادتی سے محفوظ رکھنے کا طریقہ کیا ہے ۔ وہ طریقہ قرآن کے مطابق ، تقویٰ اور صبر ہے ۔ تقویٰ اور صبر ایک اور دوسرے کے درمیان فطرت کی مقرر کی ہوئی آڑ ہے ، جو لوگ اس آڑ کو باقی رکھیں وہ دوسروں کی زیادتیوں سے محفوظ رہیں گے ۔ اور جو لوگ اس آڑ کو اپنی نادانی سے توڑ ڈالیں، وہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہوئے ۔
حیات بشری کا ربانی طریقہ مولانا وحید الدین خاں مولا نا وحید الدین خاں مولانا وحیدالدین خاں