Al-Risala · May 1998

آں چہ دانا کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

Al-Risala, May 1998, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے لیڈر ، ہندو اور مسلمان دونوں مکمل طور پر مذکورہ فارسی شعر کا مصداق ثابت ہوئے بیں ۔ دونوں ہی نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ معاملات کو پیشگی طور پر نہیں سمجھتے ، وہ اس کو صرف اس وقت سمجھتے ہیں جب کہ معاملات بگڑ چکے ہوں اور حالات کو درست کرنے کا موقع بہت کم باقی رہ گیا ہو ۔

قیادت ، مستقبل کی منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے ۔ قائد جب کوئی اقدام کرتا ہے تو اس کا اقدام بظاہر حال کے اندر ہوتا ہے مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں نکلتا ہے اس لیے قائد کو لازما ً دور اندیش اور مستقبل ہیں ہونا چاہیے ۔ جن لوگوں کے اندر دور اندیشی اور مستقبل بینی کی صفت نہ ہو انھیں چاہیے کہ وہ قیادت کے میدان میں نہ اتریں بلکہ اپنی سرگرمیوں کے لیے اس کے سوا کوئی اور میدان تلاش کریں ۔ ہندوستان کی قیادت ، ہندو اور مسلم دونوں، اس اعتبار سے ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ یہاں اس سلسلہ میں مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے ۔

۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان میں انگریزوں کا سیاسی غلبہ تھا اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے درمیان ایسے قائد اٹھے جنھوں نے انگریزی راج کے خاتمہ کو ملک کی تمام ترقیوں کا راز بتایا ۔ اپنی پر جوش تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ سیاسی غلامی تمام خرابیوں کی جڑ ہے اور سیاسی آزادی تمام خوبیوں کا سر چشمہ ۔ انھوں نے قوم کو یہ جذباتی نعرہ دیا کہ ـــــ غلامی یا آزادی دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلو :

Printed page