Slavery or freedom, choose between the two.
Al-Risala, May 1998, pp. 42–47
By Maulana Wahiduddin Khan
پنڈت جواہر لال نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے سیکڑوں ہندو اور مسلمان لیڈر اس زمانہ
میں اسی قسم کی تقریریں کیا کرتے تھے مگر بعد کے تجری منصوبہ نے بتایا کہ یہ نظریہ درست نہ تھا۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان انگریزوں کی سیاسی غلامی سے آزاد ہو گیا مگر پچاس سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود ابھی تک وہ آزاد ہندوستان نہ بن سکا جس کا خوش نما نقشہ ان ہند اور مسلم لیڈروں نے ملک کے لوگوں کو دکھایا تھا۔ آزادی آزادی(۱۹۴۷) سے پہلے ہندوستان میں کچھ ایسے اہل فکر تھے جو یہ کہتے تھے کہ ہماری پہلی ضرورت پہلے قوم کو تعلیم یافتہ بناؤ، تاکہ وہ آزادی کو صحیح طور پر استعمال کر سکے۔ مسلمانوں میں اس سلسلہ میں ایک معروف نام سرسید احمد خاں کا ہے۔ وہ بھی آزادی چاہتے تھے مگر وہ تعلیم کو آزادی پر مقدم کرتے تھے۔ ان کے نقطہ نظر کو مولانا الطاف حسین حالی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سرا سر کھلی ہیں بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے سرسید کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں میں ایسے کئی لوگ اٹھے جو تعلیم کو مقدم کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں ہندوؤں میں مدن موہن مالویہ اور سرتیج بہادر سپرو کا نظریہ یہی تھا۔ مگر نہرو اور آزاد جیسے لوگوں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا۔ ان کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ صرف اس وقت ہوا جب کہ ان کی تحریک اپنی آخری حد تک پہنچ گئی اور ہندوستان سیاسی معنوں میں آزاد ہو گیا۔
چنانچہ آزادی کے بعد جب مذکورہ قسم کے لیڈروں نے ملک کا نیا دستور بنایا تو اس کی دفعہ ۴۵ میں یہ درج کیا کہ اسٹیٹ کا یہ فرض ہوگا کہ وہ دس سال کے اندر تمام اہل ملک کو پڑھا لکھا بنا دے مگر یہ ایک رومانی دفعہ تھی نہ کہ کوئی حقیقی دفعہ۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی زمیندار اپنے کھیت میں بونے کے وقت دانہ نہ بوئے اور جب فصل کاٹنے کا وقت آجائے اور اس کو نظر آئے کہ میرا کھیت خالی پڑا ہوا ہے، تو وہ اپنے آدمیوں کو حکم دے کہ تم لوگ دس دن کے اندر یہاں لہلہاتی ہوئی فصل اگادو۔ ظاہر ہے کہ زمیندار کا یہ حکم کبھی واقعہ نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ہندوستانی لیڈروں کا یہ دس سالہ دستور بہ بھی واقعہ نہ بن سکا۔
آزادی کے بعد ملک کی تعمیر نو کا مسئلہ تھا۔ یہاں ملک کے بے بصیرت قائدین نے دوبارہ ایک اور شدید ترغلطی کرڈالی۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک کی اقتصادیات کو سوشلزم کی بنیاد پر قائم کیا ۱۹۵۵ء میں مدراس کے کانگریسی اجلاس میں اس فیصلہ کو سوشلسٹ نمونہ کا سماج
سوشلسٹ پیٹرن آف سوسائٹی کا نام دیا گیا۔
عجیب بات ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین جس زمانہ میں سوشلزم (اشتراکیت) کو اقتصادی تعمیر کی معراج کمال سمجھ رہے تھے اسی زمانہ میں راقم الحروف اپنی وہ کتاب تیار کر رہا تھا جو بعد کومر تب ہو کر "مارکسزم تاریخ کو رد کر چکی ہے" کے نام سے شائع ہوئی۔ سوشلزم یا (مارکسزم) کے بارے میں اول دن سے میری یہ رائے تھی کہ وہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ کیوں کہ اقتصادی ترقی مسابقت کے کھلے ماحول میں ہوتی ہے نہ کہ ریاستی کنٹرول کے بند ماحول میں۔ سیاسی قائدین اس نظریہ کے بارے میں خوش خیالی کی حد تک پر امید بنے ہوئے تھے انھوں نے ہندوستان میں سوشلسٹ سوسائٹی بنانے کے لیے قومی دولت کا کھربوں ڈالر اقتصادی پلاننگ کے نام پر ضائع
ان لیڈروں کی آنکھ صرف اس وقت کھلی جب کہ چالیس قیمتی سال بیت گئے اور ملک میں کوئی حقیقی ترقی نہ ہوسکی۔ چنانچہ اب سوشلسٹ اکانومی (صحیح تر لفظ میں کنٹرولڈ اکانومی) کے بجائے لبرل اکانومی کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ مگر ملک کی اقتصادی حالت اب اتنی زیادہ بگڑ چکی ہے کہ بظاہر طویل مدت تک اس کے درست ہونے کی کوئی امید نہیں۔
اب مسلم لیڈر شپ کی ایک مثال لیجیے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہوا تو راقم الحروف نے مسلسل یہ لکھا کہ اس مسئلہ کو لوکل دائرہ میں محدود رکھا جائے اور پر امن گفت و شنید یا عدالت کے ذریعہ سے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے مگر نا اہل مسلم قیادت نے اس کو دھوم کا مسئلہ بنایا۔ ایودھیا کی مسجد کے نام پر سارے ملک میں دھواں دھار تحریک چلا دی گئی اس کے نتیجہ میں ہندوؤں کے جذبات بھڑک اٹھے یہاں تک کہ 6 دسمبر ۱۹۹۲ء کو ہندوؤں کی ایک بھیڑ ایودھیا میں اکٹھا ہوئی اور اس نے بابری مسجد کو ڈھاکرا یک عارضی مندر بنا دیا۔
اس کے بعد نا اہل مسلم لیڈروں نے دوبارہ "مسجد وہیں بناؤ" کے نام پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ جگہ فرقہ وارانہ فساد ہونے لگے پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی فصل آگ اس وقت راقم الحروف نے سنگین برسک لے کر یہ اعلان کیا کہ ہندو اور مسلمان دونوں اب اس مسئلہ پر چپ ہو جائیں ، وہ مندر اور مسجد کے سوال کو ایودھیاہی میں ختم کر دیں۔
اس وقت لوگ اتنے جوش میں تھے کہ انھوں نے میری بات کو نظر انداز کر دیا۔ خاص طور پر مسلمانوں کا اردو پریس اس معاملہ میں زرد صحافت کا بدترین نمونہ بن گیا اس نے میرے خلاف جھوٹے الزامات عائد کر کے مجھ کو اتنا زیاوہ بدنام کرنے کی کوشش کی کہ اس کی مثال صحافت کی پوری تاریخ میں مشکل سے ملے گی ۔ مگر آ ج کیا حال ہے آج تمام مسلمان خواہ اصاغر ہوں یا اکابر، بے ریش طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں یا باریش طبقہ سے ، ہر ایک وہی کر رہا ہے جس کا مشورہ میں نے دسمبر ۱۹۹۶ء میں دیا تھا۔ یعنی ہر ایک چپ ہے ۔ ایک عرصہ تک لفظی دھوم مچانے کے بعد اب ہر ایک نے اس موضوع پر لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے اور بولنا بھی۔
اب ایک اور ورق الٹیے ۔ جنوری ۱۹۹۳ء میں ورندابن میں وہاں کے گیتا آشرم میں ایک آل انڈیا سیمنار ہوا۔ اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ان کی دعوت پر میں نے بھی اس سیمنار میں شرکت کی (ملاحظہ ہو سفر نامہ الرسالہ نومبر ۱۹۹۳ء) اس موقع پر میں نے ایک مفصل تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں ہندوستان اور پاکستان کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد پاکستان میں کچھ لوگوں نے اسلامی اسٹیٹ قائم کرنے کے نام پر تحریک اسی طرح ہندوستان میں کچھ لوگوں نے ہندو اسٹیٹ کو اپنا نشانہ بنایا ۔ مگر میرے نزدیک یہ دونوں ہی قسم کی تحریکیں صرف وقت اور طاقت کے ضیاع کے ہم معنی ہیں۔ کیوں کہ سادہ طور پر دہ موجودہ حالت میں قابل عمل ہی نہیں۔ یہ دونوں تحریکیں بظاہر مختلف ہونے کے باوجود اسپرٹ آف دی ایج کے خلاف ہیں ، اور جو چیز اسپرٹ آف دی ایج کے خلاف ہو اس کو اس وقت تک قائم کرنا ممکن نہیں جب تک کہ خود زمانہ کا مزاج ہی بدل نہ جائے ۔ حکومتی نظام عمومی حالات کے تابع ہے نہ کہ کچھ افراد کی خواہشات کے تابع ۔ کسی بھی حکومتی نظام کے لیے سب سے پہلے اس کے موافق حالات بنانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومتی نظام شعوری تبدیلی کی زمین پر قائم ہوتا ہے نہ کہ محض حکمرانوں کی تبدیلی کی زمین پر۔
میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں صرف سیکولر اسٹیٹ ہی قابل عمل ہے اس لیے آپ لوگوں کو ہندوتو کا نعرہ چھوڑ کر سیکولرازم کا نعرہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اگر آپ اس کو اپنے ارادی فیصلہ کے تحت نہ کریں تو حالات کے دباؤ کے تحت ایسا کرنا پڑے گا ۔ ورندابن کے مذکورہ سیمنار میں
کسی نے میری تائید نہیں کی۔ ایک ہندو پروفیسر نے اپنی لمبی تقریر میں شدت کے ساتھ اس کھنڈن کیا۔ مگر فروری ۱۹۹۸ آیا تو تاریخ بدل چکی تھی ہندوستان کے جنرل الیکشن (فروری۔ مارچ ۱۹۹۸) میں حالات کا ایسا شدید دباؤ پیش آیا جس کے مقابلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنا سیاسی وجود خطرہ میں نظر آنے لگا۔ ۱۹۹۳ میں انھوں نے جس بات کو دلیل کے ذریعہ نہیں مانا تھا، ۱۹۹۸ میں انھوں نے اس کو سیاسی دباؤ کے تحت مان لیا۔ چنانچہ مارچ ۱۹۹۸ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے جونیا نیشنل ایجنڈاشائع کیاگیا ہے اس میں ہند تو کا لفظ حذف کر کے سیکولرزم کا لفظ لکھ دیا گیا ہے اگرچہ شرمندگی مٹانے کے لیے اس میں سیکولرزم کے بجائے جینوئن سیکولرزم تحریر کیا گیا ہے۔
۱۹۹۰ کے آخر میں جب بارھویں لوک سبھا کے الیکشن کا چرچا شروع ہوا تو میں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کو یہ پیغام دیا کہ آپ لوگ اپنے الیکشن مینی فیسٹو میں تین نزاعی اشو( کامن سول کوڈ، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ، دفعہ ۳۷۰) کو شامل نہ کیجئے ۔ آپ لوگ اپنے مینی فیسٹو میں صرف ان اشوز کو لیجے جونیئشنل اشوز کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اس وقت وہ لوگ اتنے جوش میں تھے کہ میری بات انھیں قابل لحاظ نظر نہ آئی ۔ چنانچہ انھوں نے جو طویل مینی فیسٹو شائع کیا اس میں ان تینوں اشوز کو شامل کر دیا۔ مگر جب وہ الیکشن کے میدان میں اترے تو انھیں محسوس ہوا کہ وہ تنہا الیکشن کو جیت نہیں چنانچہ انھوں نے دوسری پارٹیوں سے گفت و شنید شروع کی اور ۱۳ پارٹیوں کو ساتھ لے کر ایک متحدہ محاذبنا یا یہ پارٹیاں صرف اس شرط پر اتحاد میں شرکت پر راضی ہوئیں کہ مذکورہ تینوں ایشوز کو مینی فیسٹو سے نکال دیا جائے۔ چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی اور متبادل موجود نہ تھا، وہ اس حذف پر راضی ہوگئی۔ دوبارہ یہی ہوا کہ جن لوگوں کے لیے دلیل کی منطق ناکافی ثابت ہوئی تھی عملی دباؤ کی منطق نے ان کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔
یہ پچھلے تقریباً سو سال کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ہمارے سے لیڈر، ہندو اور مسلمان دونوں بار بار سیاسی بصیرت کے میدان میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ پیش بینی اور دور اندیشی کا کامیاب قیادت کی لازمی صفات ہیں مگر اس امتحان میں ہمارا کوئی بھی لیڈر پورا اترتا نظر نہیں آتا، نہ کوئی ہندو اور نہ کوئی مسلمان۔ یہی وجہ ہے کہ سو سال کی ہنگامہ آرائیوں اور اُن گنت قربانیوں کے باوجود ابھی تک وہ ہندوستان نہ بن سکا جس کا خواب ملک کے درد مند لوگوں نے دیکھا تھا۔
اس المیہ کایہ سبب غالباً یہ ہے کہ وہ سیاست کے میدان میں کودے، مگر ان کو سیاست کا ابتدائی اصول معلوم نہ تھا کہ سیاست ممکنات میں عمل کرنے کا فن ہے : Politics is the art of the possible. انسان کے دماغ میں بڑی بڑی آرزوئیں ہوتی تھے۔ وہ اپنے ذہن میں تخیلات کا ایک فرضی محل تیار کرتا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی آدمی کے الفاظ کبھی تاریخ نہیں بنتے۔ عمل کی دنیا میں صرف وہ چیز واقعہ بنتی ہے جس کے حق میں واقعات کی موافقت موجود ہو۔ ہمارے لیڈر، ہندو اور مسلمان دونوں اپنے تخیلات میں جی رہے تھے۔ وہ خارجی دنیا کے حقائق سے باخبر نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی طوفان خیز سرگرمیوں کے باوجود وہ حقیقی معنوں میں کوئی مثبت نتیجہ پیدا نہ کر سکے۔ موجودہ اسباب کی دنیا میں صرف حقائق واقعہ بن سکتے ہیں نہ کہ کسی کے خوش کن تخیلات ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری قومی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے نئے عنوان کے تحت ہم اپنی قومی تاریخ کا نیا باب شروع کر سکتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے رہنما اصول مولانا وحید الدین خاں Size 22×14.5cm, pages 252 اسلام کی فکری اور تاریخی عظمت کا بین بیان اسلامی طرزِ زندگی کے امتیازی اوصاف مولانا وحیدالدین خاں Size 22×14.5cm, pages 292 مولانا وحیدالدین خاں Size 22×14.5cm, pages 232