تھرڈ آپشن
Al-Risala, June 1998, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں ایک جنگ وہ پیش آئی جس کو جنگ موتہ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ شام کی سرحد پر رومیوں اور ان کے حلیفوں کے مقابلہ میں ہوئی تھی۔ آغاز ہی میں صحابہ کی ایک تعداد شہید ہوگئی۔ اس کے بعد لوگوں نے حضرت خالد بن الولید کو سردار حضرت خالد نے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعداد کے اعتبار سے ناقابلِ عبور حد تک فرق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ حکمت کے ساتھ پیچھے ہٹ گئے اور مزید لڑے بغیر مدینہ واپس آگئے۔
اس وقت مسلمانوں کی ایک قابلِ لحاظ تعداد اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی تھی۔ سمجھتے تھے کہ یہ مقابلہ کو چھوڑ کر پسپائی کا طریقہ اختیار کرنا ہے اور جب انتخابِ مقابلہ اور پسپائی کی دو حالتوں کے درمیان ہو تو مسلمان کو چاہیے کہ وہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ پسپائی کا۔ یہ معاملہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے حضرت خالد کے حق میں رائے دی۔ آپ نے جو کچھ فرمایا، اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ صرف دو حالتوں کے درمیان سوچ رہے ہو ـــــ مقابلہ یا پسپائی۔ مگر یہاں ایک تیسری حالت بھی ہے اور وہ ہے بے فائدہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر مزید تیاری کے میدان میں واپس آ جانا اور اپنے آپ کو اس قابل بنانا کہ آئندہ زیادہ مؤثر انداز میں فریق مخالف کے چیلنج کا جواب دیا جا سکے۔ اور خالد نے اسی تیسری حالت کا انتخاب کیا ہے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر حالت میں لوگ سیاہ اور سفید کے درمیان سوچتے ہیں۔ سمجھ نہیں پاتے کہ ظاہری دو حالتوں کے علاوہ وہاں ایک تیسری حالت بھی موجود ہے جو زیادہ مفید اور مؤثر ہے۔ اس تیسری حالت کا نام تھرڈ آپشن ہے اور مذکورہ سنتِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ تھرڈ آپشن کا طریقہ عین اسلام کا طریقہ ہے ـــــ پہلا اور دوسرا آپشن کھلے طور پر موجود ہوتا ہے اس لیے ہر شخص اس کو جان لیتا ہے۔ مگر تیسرا آپشن جو زیادہ بہتر آپشن ہے وہ ہمیشہ چھپا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کو وہی سمجھتا ہے جو عقل والا ہے۔