Al-Risala · June 1998

مشکل میں آسانی

Al-Risala, June 1998, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

مکی دور میں جب کہ مسلمان نہایت سخت حالات سے گزر رہے تھے، اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مشکل کے ساتھ آسانی ہے (الانشراح) اس قرآنی آیت میں فطرت کا یہ قانون بتایا گیا کہ اس دنیا میں ہمیشہ مشکلات کے ساتھ مواقع موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ مشکلات سے صرف نظر کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے اس طرح زیادہ بہتر طور پر مستقبل کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر دنیا میں لوگ ایک ہی عمل کو جانتے ہیں، اور وہ ہے مشکلات سے ٹکرا کر انھیں راستے سے ہٹانا اور اس طرح اپنے لیے راہ ہموار کرنا، مگر اسلامک ایکٹوزم یہ نہیں ہے۔ ایکٹوزم اس کے برعکس ہوتا ہے کہ مشکلات سے ٹکرانے کے بجائے انھیں نظر انداز کرو، اور عین اسی وقت جو مواقع موجود ہیں ان کو استعمال کرو۔ گویااسلامک ایکٹوزم ایک لفظ میں یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو :

Printed page