Al-Risala · June 1998

امید کا نظام

Al-Risala, June 1998, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــ امید میری امت کے لیے اللہ کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اگر امید نہ ہو تو کوئی پودا لگانے والا پودا نہ لگائے اور نہ کوئی ماں کسی بچہ کو دودھ پلائے (الامل رحمة من الله لامتّی ولو لاہ لما غرس شجراً ولا أَرْضَعَتْ ام وَلَدًا ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ ۲۳۴ دنیا کی زندگی میں انسان کو مسلسل تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ اس کو ایسے واقعات کے درمیان سے گزرنا ہوتا ہے جو بظاہر دل توڑ دینے والے ہیں۔ مگر انسان پھر بھی اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

اس کا راز امید ہے۔ فطرت نے انسان کے اندر امید کا جذبہ اس طرح رکھ دیا ہے کہ وہ کبھی ختم نہ ہو، وہ برابر انسان کو سرگرم عمل رکھے۔

اس دنیا میں ہر کام تدریج کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسان آج زمین میں بیج ڈالتا ہے اور بہت دنوں کے بعد اس کو اس کا پھل حاصل ہوتا ہے۔ ماں مصیبت اٹھا کر اپنے چھوٹے بچے کی پرورش کرتی ہے حالانکہ وہ وقت ابھی بہت دور ہوتا ہے جب کہ وہ بڑا ہو کر ماں کی خدمت کر سکے۔ لیکن ساری دنیا میں عورت اور مرد مسلسل اسی طرح متحرک ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہر ایک کے دل میں چھپا ہوا امید کا جذبہ اس کا سہارا بنا رہتا ہے۔ اگر یہ امید نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں ٹھہر کر رہ جائیں۔ تاہم بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی زیادہ بڑے نقصان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کو کوئی ایسا تجربہ پیش آجاتا ہے جو بظاہر اس کے سارے منصوبے کو تباہ کر دینے والا ہے۔ یہ انسان کے لیے امتحان کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اگر وہ بدستور امید کے اوپر قائم رہے، وہ حال کے بجائے مستقبل پر اپنی نظر جمائے تو بہت جلد وہ پائے گا کہ حوصلہ شکنی کے سخت حالات میں بھی اس کے لیے امید کا امکان موجود تھا۔ آخری حد تک جاکر بھی اس کے امکانات ختم نہیں ہوئے تھے۔ زندگی کے کچھ دروازے اس کے لیے اگر چہ بند ہوگئے لیکن کچھ اور دروازے پھر بھی اس کے لیے کھلے ہوئے تھے جن میں داخل ہو کر وہ اپنا سفر حیات کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکے۔

Printed page