علم کی طلب
Al-Risala, June 1998, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــــ اچھا سوال کرنا آدھا علم ہے (حسن السؤال نصف العلم) ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ III اچھا یا گہرا سوال کون کرتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اس مسئلہ پر غور کیا ہے، جس کی بابت وہ سوال کر رہا ہے۔ مسئلہ کے بارے میں اچھی واقفیت کے بغیر کوئی اچھا سوال نہیں کر سکتا۔ اچھا سوال اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی علم کے نصف حصہ کو پا چکا ہے، اور اب جواب دینے والے کا کام یہ ہے کہ وہ بقیہ نصف کے بارہ میں بتا کر اس کی واقفیت کو مکمل کر دے۔
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کے پاس علم کا جو ذخیرہ ہے۔ اس کو اپنے لیے حاصل کریں تو سب سے پہلے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ اپنی علمی استعداد کو بڑھانے کے بعد ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے سے واقعی استفادہ کر سکے۔ یا کسی کی لکھی ہوئی کتاب کو پڑھ کر اس کی معلومات کو اپنے ذہن میں اتار سکے۔
سوال اور جواب یا سیکھنا اور سکھانا یہ یک طرفہ عمل نہیں ہے بلکہ وہ دو طرفہ عمل ہے۔ کرنے والا یا سیکھنے والا ذہنی طور پر جتنا زیادہ تیار ہوتاہی زیادہ وہ جواب دینے والے یا سکھانے والے کی بات کو سمجھے گا اور اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ آپ کے پاس علم کا نصف حصہ موجود ہو تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ دوسرا شخص آپ کو علم کا بقیہ نصف حصہ دے سکے۔ یہ دو طرفہ معاملہ ہے نہ کہ یک طرفہ معاملہ۔
دنیا علم سے بھری ہوئی ہے۔ اس کا ایک دریا اہل علم اور اہل دانش لوگ ہیں۔ دوسرا دریا وہ کتابیں ہیں جو دنیا کے بہترین دماغوں نے لکھی ہیں اور وہ چھپ کر کتب خانوں میں اکٹھا ہوگئی ہیں۔ اس کا تیسرا ذریعہ ہمارے سامنے پھیلی ہوئی کائنات ہے، اس کا ہر جزء اپنے اندر معرفت کا ایک چھپا ہوا خزانہ لیے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص علم کا طالب ہو وہ کسی بھی لمحہ کسی بھی مقام پر اپنے لیے علم کا ایک کھلا ہوا خزانہ پا لے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں علم کا طالب ہو، وہ اپنے اندر پانے کا استحقاق پیدا کر چکا ہو۔