ہی کرڈالوں تو آپ کے کرنے کے لیے کیا رہے گا
Al-Risala, January 1998, pp. 33–37
By Maulana Wahiduddin Khan
جناب عبد الرحمن صاحب کی بڑی صاحبزادی جامعہ الصالحات (رام پور) میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ الرسالہ کی مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ۲۵ سال سے الرسالہ نکال رہے ہیں اور ہر مہینہ نئے نئے مضامین اس میں چھاپتے ہیں۔ آخر آپ اتنے زمانہ سے نئے نئے مضامین کیسے لکھتے ہیں۔
میں نے کہا کہ دنیا میں ہر کام خدا کی مدد سے ہوتا ہے۔ انسان کے پاس اپنی کوئی طاقت الرسالہ کے تمام مضامین دعا کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ آپ خدا سے دعا کیجئے، آپ بھی ایسا ہی پرچہ نکالنے لگیں گی۔
۱۰ مارچ کی صبح کو سوا پانچ بجے مسجدوں سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدائیں آنے لگیں۔ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پوری فضا میں گونج اٹھی۔ اذان کی آواز سن کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ میں نے کہا کہ تقسیم (۱۹۴۷) مسلمانوں کے لیے ایک قومی خود کشی تھی۔ مگر یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اس ہمالیائی حماقت کے باوجود مسلمانوں کو اس ملک میں زندگی کے تمام مواقع فراوانی کے ساتھ دوبارہ عطا کر دیے۔
ملکی تقسیم کے اس درد ناک پہلو کا اعتراف خود اس کے لیڈروں نے کیا تھا۔ مسٹر محمد علی جناح نے ٹھیک آج ہی کی تاریخ (۱۰ مارچ ۱۹۴۷) کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تقریر کی تھی۔ میں انھوں نے کہا :
مسلم اقلیت کے صوبوں میں رہنے والے مسلمان خود دار اور بلند حوصلہ ہیں۔ ہیں کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں رہنے والے بھائیوں کی نجات و آزادی کی خاطر ہر قسم کے ایثار و قربانی کے لیے تیار ہیں (حوالہ، نوائے وقت لاہور، ۲۴ فروری ۱۹۹۶) عبد الرحمن صاحب اور میں وضو کر کے گھر سے نکلے۔ چلتے ہوئے ہم ایک رات والی مسجد " یہاں ہم نے فجر کی نماز پڑھی۔ ہم دونوں اس وقت چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ سوا چھ بجے امام صاحب مسجد سے نکل کر آئے اور مصلے پر بیٹھ گئے انھوں نے کسی قدر تھکن انداز میں کہا :
اذان اور نماز کے درمیان لاؤڈ اسپیکر پر دوبارہ الفاظ سنائی دیے: الصلوۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ، الصلوۃ والسلام علیک یا نبی اللہ، الصلوۃ والسلام علیک یا حجۃ اللہ۔ سوچا کہ نماز میں چادر اوڑھنا تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ مگر اذان اور نماز کے درمیان مسجد میں مذکورہ کلمات ادا کرنا ضرور قابل اعتراض ہے، کیوں کہ وہ بدعت ہے۔ تاہم میں خاموش کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہاں دلیل بیان کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ امام صاحب نے نماز میں سورۃ والنجم کی تلاوت کی۔ اس کو پڑھتے ہوئے وہ اس آیت تک پہنچے: افرأ يتم اللات والعزیٰ۔ ومناۃ الثالِثَةَ الاخریٰ ۔ مجھے یاد آیا کہ اس موقع پر عرب مشرکین نے ایک فتنہ بنایا تھا۔ انھوں نے اس کے بعد اپنی طرف سے یہ الفاظ ملا دیے: تلک الغرانیق وإن شفاعتھم لترتجیٰ۔ (یہ بہت بڑی ہستیاں ہیں، ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے) اور پھر مشہور کر دیا کہ یہ الفاظ خود محمدؐ نے اپنی زبان سے کہے ہیں۔ اس طرح انھوں نے داعی توحید کو حامی شرک کے روپ میں پیش کر دیا۔
عجیب بات ہے کہ ٹھیک یہی طریقہ موجودہ زمانہ کے کچھ مسلمانوں نے میرے خلاف اختیار کیا وہ میری بات میں اپنی بات ملا کر اس کو کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں اور اس طرح مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد میں نے کہا تھا کہ : مسلمان بابری مسجد کے میں اپنے ایجی ٹیشن کو ختم کر دیں۔ اور ہندو اپنی مندر۔ مسجد تحریک کو اجودھیا ہی میں ہمیشہ مگر ملت کے ان خود ساختہ نمائندوں نے اس کو بدل کر یہ کہہ دیا کہ مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیں۔
ایک رات والی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم لوگ مقامی عید گاہ میں گئے جہاں ۱۴ اگست ۱۹۸۰ء کو فساد ہوا تھا۔ عید گاہ کے پختہ اور بلند حصہ کے باہر زیادہ بڑے رقبہ میں کچا میدان ہے جو سڑک سے ملا ہوا ہے۔ یہاں سڑک اور عید گاہ کے درمیان ایک چوڑا لمبا نالہ جب ہم وہاں پہنچے تو تین خنزیر عید گاہ کے سامنے اس نالہ کے کنارے موجود تھے۔ اطراف میں بھی کئی خنزیر دکھائی دیے ۔
عید کے دن یہ ہوا کہ کچے میدان میں جہاں لوگ چادر بچھا کر نماز ادا کر رہے تھے، ایک خنزیر اندر آگیا۔ اس وقت سلام پھیرنے کے بعد لوگ اپنی چادروں پر بیٹھے ہوئے خنزیر چلتے ہوئے ایک مسلمان کی چادر سے گزرا جس سے چادر گندی ہوگئی۔ پاس ہی پولیس کے لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ مسلمان نے غصہ ہو کر پولیس والے سے کہا: الو کے پٹھے، دیکھتے نہیں، تم یہاں کس لیے کھڑے ہو۔ اس کو روکا کیوں نہیں۔ اس کے بعد پولیس نے بھی بگڑ کر کہا کہ ہم اس لیے یہاں نہیں کھڑے ہیں۔ تکرار بڑھی تو پولیس والے نے اپنی بندوق کے کندے سے مسلمان کو اس کے بعد بات اور بڑھی۔ مسلمانوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے کئی پولیس کے آدمی زخمی ہو گئے۔ اب مزید غصہ بڑھا۔ اور پولیس نے براہِ راست فائرنگ شروع کر دی جو بڑی تعداد میں وہاں موجود تھی۔
اس کے بعد زبردست فساد ہوا۔ مسلمانوں کی اقتصادیات تباہ ہوگئی۔ اس بربادی کا اثر تقریباً پانچ سال تک رہا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ اٹھنا شروع کیا۔ صاحب خانہ آج صبح کو کچھ اخبارات لے آئے۔ ان میں سے ایک ٹائمز آف انڈیا (۱۱ مارچ) اس کے صفحہ اول پر صدر کانگریس اور وزیر اعظم مسٹر نرسمہاراؤ کی ایک تقریر کی رپورٹنگ تھی۔ اگلے مہینہ (اپریل۱۹۹۶) میں ملک میں دسویں لوک سبھا کے لیے الیکشن ہونے والا ہے۔ پیش نظر انھوں نے کہا کہ مجھ کو استحکام دو، میں تم کو خوش حالی دوں گا : Give me stability, I will give you prosperity. میں نے کہا کہ یہ ایک برعکس بات ہے۔ آج اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کانگریس کو سیاسی استحکام دیا جائے تو وہ ملک کو معاشی خوش حالی دے گی۔ بلکہ اصل غور طلب بات یہ ہے کہ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد لمبے عرصے تک کانگریس کو سیاسی استحکام ملا، اس کے باوجود وہ ملک کو معاشی خوش حالی نہ دے سکی۔
میں نے کہا کہ ساوتھ کوریا ایک بے حد چھوٹا ملک ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ تیس سال پہلے اس کی فی کس آمدنی ساٹھ ڈالر تھی، آج کوریا کی فی کس آمدنی دس ہزار ڈالر ہے۔ آج اصل غور طلب سوال یہ ہے کہ کوریا اور انڈیا میں یہ فرق کیوں۔ حالانکہ کوریا میں آج بھی امریکہ کی فوجیں موجود ہیں۔
گویا ساؤتھ کوریا آج بھی "سیاسی غلام" ہے۔ جب کہ ہندوستان کو یہ فخر ہے کہ وہ مکمل طور پر ایک آزاد ملک بن چکا ہے۔
اسی طرح ہندوستان ٹائمز (۱۰ مارچ) میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری بدھاپریا موریا کا ایک انٹرویو تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ نرسمہا راؤ کو یہ مہارت حاصل ہے کہ وہ اقتدار میں کس طرح قائم رہیں ؟
Narasimha Rao has the technical know-how to stay in power. میں نے کہا کہ یہی ہمارے ملک کا سیاسی المیہ ہے۔ ہمارے ملک کے لیڈروں کو صرف اس فن کا ماہر بننے سے دل چسپی ہے کہ وہ کس طرح الیکشن جیتیں اور پھر کس طرح اپنے سیاسی اقتدار کو باقی رکھیں ۔ ان کو اس سے کوئی دل چسپی ہی نہیں کہ ملک ترقی کی طرف جائے ۔ ملک کے عوام کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہو ۔ آج کا اصل مسئلہ اس سیاسی مزاج کو بدلنا ہے نہ کہ اس پارٹی یا اس پارٹی کے ہاتھ میں اقتدار دینا۔
مراد آباد کے جس مکان میں میں ٹھہراتھا اس کے گراؤنڈ فلور پر ایک صاحب رہتے ہیں ۔ اس سفر میں پہلی بار ان سے واقفیت ہوئی ؛
M.A.I. Faizi, Faizi Lodge, B-600 Lajpat Nagar Moradabad-244001 (Tel. 0591-315402, 315403)
۱۰ مارچ کی صبح کو مسٹر فیضی اپنے بزرگ والد مولانا عبد الرزاق صاحب کو لے کر آئے۔ موصوف ۱۹۱۱ میں خیر آباد میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۶۷ سے وہ مراد آباد میں اپنے صاحبزادے کے ساتھ اس سے پہلے میں ان کو نہیں جانتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی بہت خواہش تھی۔ آج اللہ کے فضل سے اس کا موقع مل گیا۔
مولانا عبد الرزاق صاحب نے موجودہ زمانہ کے تمام علماء اور مفکرین کو پڑھا ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے وہ خصوصی مداح ہیں اور ان سے اتفاق رکھتے ہیں۔ میں بار بار وہ کہتے رہے کہ "آپ ان کو کرپٹ نا کہو، کہتے بیگ خدا نے آپ کو ان سے بھی آگے بڑھا دیا ہے۔
ان سے میں نے کہا کہ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم کو صرف معیاری آدمی پسند ہے، غیر معیاری آدمی سے ہم ہاتھ بھی نہیں ملاتے۔ “ مجھے اس پر حیرت ہوئی کہ ان کو مجھ سے پوری واقفیت تھی۔ وہ میری تمام تحریریں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کے مخالفین بہت ہیں۔ مگر خدا آپ کے ساتھ ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے یہ شعر پڑھا :